محکم الدین ایونی

وادی وادی گھوم قسط : ۲

……..محکم الدین اویونی ……….

کُمراٹ کے خاص سیاحتی مقام سے واپسی پر تھل گاؤں سے کالام جانے والی سڑک شروع ہوتی ہے ۔ مقامی لوگوں سے پوچھ کر ہم اُس سڑک پر چل پڑے ۔ آدھا فرلانگ ڈرائیو کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایک مشکل راستہ ہے ۔ اس سڑک کو محکمہ فارسٹ نے جنگلاتی مقاصد کیلئے تعمیر کیا ہے ۔ اور سڑک کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا ۔ کہ اس کی مرمت کافی عرصے سے نہیں کی گئی ہے ۔ اور ہر روز کی بارش نے سڑک کی مٹی بہا کر پتھروں کو ننگا کر دیا ہے ۔ ابھی ہم سڑک پر تبصرہ کر ہی رہے تھے ۔ کہ ایک ایسی طلسماتی جنگل میں داخل ہوئے ۔ کہ عقل دنگ ہی رہ گئی ۔ گویا ہم قدرت کے شاہکار کے نرغے میں آگئے تھے ۔ مشکل سڑک اور قدرت کا کرشمہ ، کس کو چھوڑیں کس کو پائیں ، مخمصے کا شکار تھے ۔ اس سڑک کے شروع میں اگرچہ دو لینڈ کروزر کالام سے آ تے ہوئے ہمیں کراس کر گئے تھے ۔ اور اُس سے ہمیں کچھ تسلی بھی ہو گئی تھی ۔ پھر بھی دل میں یہ محسوس ہو رہا تھا ۔ کہ ہماری گاڑی ہائیس ہے ۔ اور اس پہاڑی اور جنگلاتی راستے میں یہ لینڈ کروزر کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ اس امید و بیم کے دوران ہم نے موڑ کاٹتے ہوئے دیکھا ۔ کہ ایک ڈاٹسن بہت مشکل سے واپس آرہی تھی ۔ ہم بہت خراب اور خطرناک چڑھائی چڑھ رتھے ۔ ڈاٹسن کی وجہ سے ہماری گاڑی بھی رُکی ۔ اور تمام ساتھی نیچے اُترگئے ۔ ڈاٹسن والے نے ہمیں مزید ڈرایا ۔ کہ گاڑی واپس کریں ۔ کیونکہ وہ صبح کُمراٹ سے چلے تھے ۔ اور سارا دن اور فیول ضائع کرنے کے بعد کالام پہنچنے کی بجائے واپس آرہے ہیں ۔ ۔ لیکن اس بات کا ہمارے ڈرائیور پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ اُنہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی ۔ اور یہ خطرناک چڑھائی عبور کر لی ۔ جس میں ہماری بھی کچھ مدد شامل تھی ۔ یہ مشکل سڑک عبور کرنے کے بعد ہمیں محسوس ہوا ۔ کہ جو لوگ ا س راستے پر سفر میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اُنہیں فور بائی فور گاڑیوں میں ہی سفر کرنا چاہیے ۔ جس جنگل میں سے ہم گزر رہے تھے۔ اس کی افسانوی رومانوی داستانوں سے گہری مشابہت تھی ۔جس میں ایک شہزادہ پری ذات کی عشق میں گرفتار ہوکر جنگلوں میں اُس کی تلاش میں اپنی جان گنو ا دیتا ہے ۔ اس جنگل کا حسن اور خوبصورتی ہی ایسی تھی ۔ کہ یہاں سے نکلنے کودل بالکل ہی نہیں چاہ رہا تھا ۔ مختلف جنگلی پرندوں کی چہچہاہٹ ،پھولوں کی بہار ، درختوں کی شان و شوکت ، جا بجا پھوٹتے چشمے ،چشموں کے احاطے میں مخملی گھاس اور ادویاتی جڑ ی بوٹیا ں ہر چیز خود پر تبصرے کو دعوت دیتی تھیں ۔ جنگل میں سینکڑوں سالوں سے گرے گلے سڑے دیودار کے درخت پُر سکون نیند سورہے تھے ۔ جن کے ولی وارث محکمہ جنگلات نے نہ جانے کیونکر کفن دفن کا انتظام نہیں کیا تھا۔ یا مقامی لوگوں نے وراثت کا حق جتا کر محکمہ فارسٹ کو آرام کرتے ان درختوں کو بے آرام کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ جبکہ ہمارے چترال کے جنگلات میں تناور سر سبز درختوں پر بھی ہاتھ صاف کیا جاتا ہے ۔ اس جنگل کے وسط سے گزرنے والی ندی کنارے ایک جنگل ہوٹل ہے ۔ جس میں درختوں کی چھاؤں میں چند بنچ پڑے ہوئے ہیں ۔ جہاں چائے بسکٹ اور ہلکے کھانوں کے انتظامات موجود ہیں ۔ تاہم کسی وجہ سے راستے میں پھنسے ہوئے مسافر رات بھی یہاں گزار سکتے ہیں ۔ ہمارا دل تو بہت چاہ رہا تھا ۔ کہ یہاں ریفرشمنٹ سے خود کو ترو تازہ کریں ۔ لیکن وقت ہمیں اجازت نہیں دے رہا تھا ۔ کیوں کہ شام ہونے میں گھنٹہ باقی تھا ۔ اور ہمیں اس پہاڑی راستے سے کالام بھی پہنچنا تھا ۔ ہماری گاڑی ہوٹل کے پاس اس ندی کو عبور کرتے ہوئے پھنس گئی ۔ جسے د ھکا دے کر جب ہم پانی سے نکال رہے تھے ۔ تو ٹائر کے نیچے سے دو کلو گرام وزن کا پتھر اُچھل کر میرے دائیں ران پر لگی ۔ جس سے ایک منٹ کیلئے میری انکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ اور میں نے کافی درد محسوس کی ۔ لیکن ساتھیوں کی قہقہوں کی گونج اور تبصروں نے بتدریج درد کی شدت محسوس نہیں ہونے دی ۔ ہمارا سفر ہر منٹ دلچسپی اور حیرانگی سے خالی نہیں تھا ۔ جنگل کے خاتمے کے بعد ہم گرمائی چراگاہ میں داخل ہوگئے ۔ جہاں درختوں نے تو ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ۔ لیکن سبزہ دوستی نبھا تی رہی ۔ جنگل اور گرمائی چراگاہ کے سنگم میں ٹورسٹ کیلئے پرائیویٹ طور پر ایک بہترین ہٹ تعمیر کیا گیا ہے ۔ جو اپنی خوشنما رنگ کے باعث بہت خوبصورت لگتا ہے ۔ ہم نے دیکھا ۔ کہ سیاحوں کی بہت بڑی تعداد یہاں قیام پذیر تھی ۔ اور کچھ سیاح خود پکانے میں مصروف تھے ، آہستہ آہستہ شام کی سیاہی جنگل سمیت چراگاہوں پر پھیل رہی تھی ۔ اور مال مویشی قافلوں کی شکل میں اپنے باڑ کی طرف جا رہے تھے ۔ ہم گرمائی چراگاہ کی انتہائی بلندی پر پہنچ چکے تھے ۔ جسے باڈگوئی پاس کہا جاتا ہے ۔ باڈ گوئی پاس اپردیر اور سوات کی حد بندی ہے ۔ ہم چند منٹوں کیلئے یہاں گاڑی روکی ۔ اور دونوں طرف ان پہاڑوں کے حسن کا نظارہ کیا ۔ ہمارے نائب صدر سیف لرحمن عزیز اپنے موبائل کی مدد سے اس کی بلندی معلوم کی تو ہم 11200 کی بلندی پر تھے ، ہم نے یہاں کافی ٹھنڈ محسوس کی ۔ کیونکہ سوات سائٹ پر ہمارے پہنچنے سے پہلے بارش ہو چکی تھی ۔ دوستوں نے شام کی سیاہی میں یہاں سیلفیاں اور تصویریں بنائیں ۔ یہاں لکڑی کے تختوں سے بنا ایک عارضی کیبن نما ہوٹل خالی پڑا تھا ۔جو یہ بتا رہا تھا ۔ کہ سیاحوں کے رش کے دوران یہاں کھانے پینے کی سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں ۔ باڈ گوئی پاس سے ہم سوات میں داخل ہو چکے تھے ۔ اور مسلسل اُترائی اُتر رہے تھے ۔ ہمارے مخالف سمت میں چند گاڑیاں جو کُمراٹ جا رہے تھے۔ کو بارش کی وجہ سے پھسلن اور تنگ سڑک کے باعث راستہ دینے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس موقع سے فائدہ اُٹھا کردیگر ساتھی گاڑی سے اُتر کر پیدل سفر کا مزا لیتے ہوئے آگے بڑھے ۔ جبکہ میں اور صدر پریس کلب ظہیرالدین اپنی گاڑی کیلئے راستہ بنانے میں ڈرائیور کی مدد کر رہے تھے ۔ ہمارے ڈرائیور نے یہاں بھی اپنی بہادری کے جو ہر دیکھائے ۔ اور ایسی مشکل جگہ سے مخالف گاڑی کراس کی ۔ کہ ہمیں کسی بھی لمحے حادثے کا گُمان ہو چلا تھا ۔ لیکن اللہ پاک نے خیریت کی ۔شام کی سیاہی گہری ہوچکی تھی ، ہم کافی دور آگے جا کر ایک کیبن میں ساتھیوں کو پا لیا ۔ یہ نیا اور ایک چھوٹے کمرے پر مشتمل بے ترتیب سا ہو ٹل تھا ۔ جسے ایک نوجوان چلا رہاتھا ۔ ہوٹل کے ایک طرف فرش پر ایک چٹائی بچھی ہوئی تھی،جس پر کچھ صاف بسترے کھلے پڑے تھے ۔ فرنٹ پر چولہے پر لکڑیاں جل رہی تھیں ، جبکہ جلانے کی لکڑیاں ایک طرف بکھرے پڑے تھے ۔ اس کو دیکھ کر یہ اندازہ ہو رہا تھا ۔ کہ اس نوجوان کو ہوٹلنگ کا تجربہ نہیں ہے ۔ لیکن روزگار کی تلاش نے اُسے ہوٹل چلانے پر مجبور کیا ہے ۔ ہم سب اس نوجوان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ جو ایک طرف سیاحوں کو سہولت دے رہا تھا ۔ اور دوسری طرف اپنے لئے روزگار کا ذریعہ بنا دیا تھا ۔ اس ہوٹل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ بسترے صاف تھے ، جبکہ عام طور پر ایسے ہوٹلوں میں میلے کچیلے بسترے ہوتے ہیں اور اُنہیں دیکھ کر متلی سی ہونے لگتی ہے ۔ اور بیٹھنے کو دل نہیں چاہتا ۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں چائے کا آرڈر دے دیا تھا ۔ اور ہمارے آتے ہی چائے تیار ہو گئی ۔ سب نے چائے کا بھر پور مزا لیا ۔ کچھ دوستوں نے مزید تعاون کرکے دو دو پیالیان خالی کر دیں ۔ اس ہوٹل میں ہماری ملاقات سیالکوٹ کے ایک اُدھیڑ عمر شخص سے ہوئی ۔ جس کی اس علاقے سے اتنی محبت ہو گئی ہے ۔ کہ گذشتہ بیس سالوں سے وہ یہاں آتے ہیں اور مہینوں رہ کر قدرتی نظاروں سے بات کرتے موج اُڑاتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کسی زمانے میں آرمی انجینئرز میں تھے ۔ اُس وقت جب ا س علاقے میں آنے کا موقع ملا تو اس کے اسیر ہو گئے ۔ اُسے فطرت سے عشق ہو گیا ہے ۔ اور وہ ان پہاڑوں اور نظاروں کی سیرکرکے خوشی ومسرت محسوس کرتے ہیں۔ چائے پینے کے بعد ہم نے منزل کی راہ لی ۔ پہاڑی راستہ مسلسل نیچے اُتر رہی تھی اور بہت تنگ تھی ۔ اور ہم ایک مرتبہ پھر چراگاہوں سے جنگلاتی علاقے میں داخل ہو گئے تھے ، لیکن ہمارے ڈرائیور نے کمال ہوشیاری اور بہادری سے یہ راستہ بھی طے کر لیا، اب شام رات میں تبدیل ہو چکی تھی ۔ اس لئے ہماری نظریں صرف گاڑی کی ہیڈ لائٹس کے احاطے تک محدود ہو گئیں ۔ اور اطراف کے نظاروں سے ہم بیگانہ ہو گئے ،لیکن جنگل کی سڑک تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ بالا خر دور سے ہمیں بجلی کے روشنیوں کی جھلک دیکھائی دی ۔ سارے دوستوں نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا ۔ اور قہقہے گونج اُٹھے ۔ نظر آنے والی بجلی کی روشنیاں اتروڑ گاؤں کی تھیں ۔ جو کُمراٹ سے آتے ہوئے سوات کالام کا پہلا گاؤں ہے ۔ ہم درختوں کی آوٹ میں آنکھ مچولی اور جھلمل کرتے بجلی کے قمقوں کو دیکھ کر مسلسل خوش ہو رہے تھے ۔ اور اُن کے قریب آرہے تھے ۔اور آخر کار اتروڑ ندی کا پُل عبور کرکے مین سڑک پر پہنچ گئے ۔ تو ساتھیوں نے ایک مرتبہ اور قہقہوں کا دفتر کھول دیا ۔ اتروڑ سے کالام تک ہمیں مزید 20 کلو میٹر کا سفر طے کرنا تھا ۔ لیکن یہ سڑک چوڑی ہونے کی وجہ سے مشکل نہیں تھا ۔ اور ہم آرام سے رات ساڑھے نو بجے کالام بازار پہنچ گئے ۔ بھوک نے سب کو نڈھال کر دیا تھا ۔ پس تمام دوستوں کی بس پہلی ڈیمانڈ یہ تھی ۔ کہ کھانے کا انتظام کیا جائے ۔ ہم نے کالام بازار کے وسط میں گاڑی روکی ۔ اور حسب روایت ہمارے خزانچی نور افضل خان ، سیف الرحمن اور شہریار بیگ اچھے ہوٹل کی تلاش میں نکلے ۔ اور بہت جلد ہوٹل پا لیا ۔ یہ واقعی اچھا ہوٹل تھا ۔ تمام دوست بھوک سے نڈھال ہو گئے تھے۔ اس لئے جب کھانا آیا ۔ تو اُس کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا ۔ جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا ۔ یہاں کھانے کے دوران ہمیں یاد آیا ۔ کہ عبدالا کرم اسسٹنٹ ٹو کمشنر (پولیٹکل )سوات میں تعینات ہیں ۔ اُن سے مزید رہنمائی حاصل کرنے کیلئے صدر نے اُن سے بات کی ۔ لیکن وہ کسی کام کے سلسلے میں پشاور میں تھے ۔ انہوں نے ہم سے قبل از وقت اپنی آمد سے متعلق اطلاع نہ دینے کا شکوہ کیا ۔ اور فوری طور پر کالام کمشنر گیسٹ ہاؤس میں ہمیں ٹھہرانے کا انتظام کیا ۔ ہم اُن کے کہنے کے مطابق کالام بازار کے اوپر واقع کمشنر گیسٹ ہاؤس پہنچے ۔ تو اُن کا اہلکار ہمارا انتظار کر رہا تھا ۔ وہ تپاک سے ملا ۔ گیسٹ ہاؤس کے تمام کمرے کھولے ۔ ہم نے اپنے بیگ وغیرہ رکھے نماز پڑھی ۔ اور اپنے ساتھ لائے ہوئے آم جن پر کچھ دوستوں کی گہری نظر تھی ۔ شہر یار بیگ نے چھری سے ڈائننگ ٹیبل پر اُن کا قتل عام کیا اور ہمیں کھانے کی دعوت دی ۔ جس کا ہم انکار نہیں کر سکتے تھے ۔ اسلئے رہی کسر پوری کی ۔ یہ بہت ہی دلچسپ رات تھی ۔ سونے کو جی نہیں چاہ رہا تھا ۔ ساتھی من پسند کھانوں اور فروٹ پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد ترو تازہ ہو گئے تھے ۔ کچھ دوست ٹی وی آن کرکے تبدیلی کی خبروں کا جائزہ لے رہے تھے ۔ جبکہ رات کے 12 بج رہے تھے ۔
( جاری ہے)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق