کریم اللہ

…فکر فردا …تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

اس میں کوئی شک نہیں چترال پولیس نے دہشتگردی سے لے کر دوسرے معرکوں میں اپنے سینکڑوں نوجوان گنوا دئیے ہیں ان سب کی عظمیت کو سلام پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔البتہ چند دن ہوئے روڈ ایکسیڈنٹ میں چترال پولیس ایک ایسےعظیم آفیسر سے محروم ہوگئی جو اپنی فرض شناسی،دلیری ، قانون پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے پوری چترال میں مشہور تھے۔ منشیات فروشی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی روایات ہو یا دوسرے جرائم پیشہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہر وقت یہی پولیس آفیسرسب سےآگےنظرآئے۔ایس ایچ او سلطان بیگ اپنی اسی ہی دبنگ اسٹائل اور بے خوفی کی وجہ سے دبنگ ایس ایچ او کے نا م سے مشہور ہوئےاور یہ نام اتنا پختہ ہوگیا کہ چترال کے کونے کونے میں مرد وخواتین اور نوجوان دبنگ ایس ایچ او کو جانتے تھے۔ آپ 4ستمبر 2018ء کوچترا ل سے اپنے گھرجاتے ہوئے بلپھوک کے مقام پر سڑک کے ایک حادثے میں وفات پاگئے۔سلطان بیگ صاحب کی عظمت کسی سے پوشیدہ نہیں البتہ ان کی ذات سے وابسطہ ایک یاد کو تازہ کرنے جارہا ہوں ۔ اس وقت وہ تھانہ بونی میں بطورایس ایچ اوتعینات تھے تو اپریل 2011ء میں ہم گورنمنٹ ڈگری کالج بونی کے اسٹوڈنٹس نے کالج کے گھمبیر مسائل سے تنگ آکر ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور سرکار کو نوٹس دینے کے بعد ایک روزخاندان میں زیارت کے مقام پر چترال بونی اورموڑکہو بونی روڈ کو بند کرکے دھرنا دے دیا ۔ یہ دھرنا 8گھنٹے تک جاری رہی،روڈ بلاک کی وجہ سے سارا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تب اس وقت کے آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ نےدھرنے کی قیادت جس میں ہم چار پانچ اسٹوڈنٹس پیش پیش تھے کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ایس ایچ اوسلطان بیگ صاحب پرشدید سرکاری دباو تھا لیکن اس کے باوجود بھی آپ نے ہمارے مطالبات کو جائر قرار دےکر ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔یہ سلطان بیگ صاحب کی عوام بالخصوص اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہمدردی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اس کے دودن بعد سابق ایم این اے شہزادہ محی الدین صاحب اسٹوڈنٹس سے ملنے اورکالج کے مسائل حل کرانے کے حوالے سے ڈگری کالج بونی تشریف لائے اس وقت بھی اسٹوڈنٹس سڑک پر دھرنے میں بیٹھے تھے۔ چونکہ ہمارا مسئلہ اسٹاف کی کمی، پانی کی عدم موجودگی و گدلاپانی اورہاسٹل وغیرہ تھے ۔ہم اس دھرنے میں بوتل میں انتہائی گدلا پانی ایم این اے صاحب کے سامنے رکھا اور کہا کہ کیا کوئی بندہ یہ پانی پی کے زندہ رہ سکتا ہے جبکہ کالج میں معماران قوم پڑھ رہے ہیں ۔ ہم نے سب سے مطالبہ کیا کہ جلسہ میں آئے ایم این اے سمیت کوئی بھی فردیہ پانی پی لیں تب سلطان بیگ صاحب نے آگے بڑھ کے اعلان کیا کہ میں آپ کے ساتھ مل کر یہ پانی پینے کو تیار ہوں، تب جلسے میں دبنگ ایس ایچ او زندہ باد کے زبردست نعرے لگیں ۔ یہ سب دبنگ کے ساتھ ہمارے کچھ تلخ اور کچھ شیرین یادوں کا مجموعہ ہے۔اب دبنگ صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے تو ان کا دبنگ اسٹائل اور عظمت کی نشانی ہم سب کے دلوں میں نقش ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق