اقرار الدین خسرو

عوامی مسائل (سوشل میڈیا تحریک ) 

ہمارے چترالی لکھاری اور نوجوان اپنے مسائل بھول کے غیر ضروری سیاسی بحثوں میں بہت زیادہ الجھ گیے ہیں۔ اور سوشل میڈیا کو ایک گالی بازار بنایا ہوا۔ ان غیر ضروری بحثوں سے نجات کیلیے ہم ایک اہم عوامی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سوشل میڈیا عوامی تحریک کا آغاز کرتے ہیں چونکہ یہ پورے چترال کا مسئلہ ہے اسلیے امید ہے سارے چترالی نیوز ویب سائٹس،اور سوشل میڈیا صارفین اس تحریک میں ہمارا بھرپور ساتھ دینگے۔۔
آج کل ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے بلوں کا ہے۔ اپر چترال اور کوہ یوسی کے پیڈو (سابقہ شیڈو ) صارفین کو پتہ ہے پہلے پیڈو کا ریٹ کچھ اس طرح تھا۔ کہ ابتدائی پچاس یونٹ تک ایک روپے پچھتر پیسے 1.75 اور پچاس سے سو تک 2.25 (دو روپے پچیس پیسے ) پھر سو سے زیادہ الگ ریٹ اس طرح کمرشل ایریا کا الگ ریٹ ہوا کرتا تھا۔
مگر اب چونکہ چترال میں 106 میگاواٹ گولین گول پاور پراجیکٹ تقریباً مکمل۔ 69 میگاواٹ کے لاوی پراجیکٹ سمیت دوسرے منصوبوں کی تکمیل سے چترال سے صوبے کے دوسرے اضلاع کو بھی بجلی دی جائیگی ۔ ایسے میں ہمارا حق بنتا تھا کہ سبسڈی کی مد میں ہمارے ساتھ رعایت برتی جائے۔ اس کے باوجود اس مضمون سے منسلک ایک بل کی تصویر ہے جس میں آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔ کہ ابتدائی تین سو یونٹس کا ریٹ دس روپے اور بیس پیسے ہیں۔( 10.20 ) جبکہ تین سو یونٹس سے اوپر 16 روپے یونٹ ہے۔۔
چترال میں زیادہ تر غریب لوگ رہتے ہیں اکثر خاندانوں کا گزارہ چھوٹے ملازمین اور پنشنرز کی پنشن پر ہے۔ اکثر گھرانوں کی  ماہانہ آمدنی  پندرہ سے تیس ہزار کے درمیان ہے اگر آپ ماہانہ پندرہ سے بیس ہزار کماتے ہو۔ اور صرف بجلی کا بل ہی تین سے چار ہزار اجائے تو بقایا آمدن سے ایک گھرکو چلانا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسکا تو مراعات یافتہ طبقہ اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔ اب پاٹا کی آئینی حیثیت ختم ہونے اور نئی حکومت کی پالیسیوں کے مطابق مزید ٹیکس لگنے کے امکانات ہیں جس سے مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جائیگا ۔
لہذا ہمارا صوبائی اور وفاقی حکومتوں خصوصا وزیر اعظم عمران خان صاحب سے مطالبہ ہے۔ چونکہ ہمارے علاقے میں بڑے ہائیڈل پراجیکٹس جو بن چکے ہیں  یا بن رہے ہیں جن سے ہماری زمینیں اور گھر بھی متاثر ہورہے ہیں چترال کی آب و ہوا پہ بھی اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر چترال کی غربت اور پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوے۔ چترالیوں کے ساتھ بجلی سبسڈی کی مدد میں خصوصی رعایت کی جائے۔ اور ابتدائی یونٹوں کا ریٹ پیڈو کے سابقہ اصولوں کے مطابق ہو۔ یا ابتدائی سو یونٹوں کا ریٹ دو روپے فی یونٹ مقرر کی جائے۔ جناب والا یہ ممکن ہے بالکل ممکن ہے۔ کیونکہ فاٹا کے تمام ایجنسیز کے لوگ اب تک بجلی کا بل سرے سے دیتے ہی نہیں ۔ ہم بل تو دیتے ہیں ۔مگر اپنےعلاقے میں پیدا شدہ بجلی سےعلاقے کی غربت اور پسماندگی کے پیش نظر خصوصی رعایت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جو کہ ہمارا قانونی اورآئینی حق ہے۔اُمید ہے صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس مسئلےکو سمجھ کر اس کے حل کی کوشش کرینگے۔ ہاں دوسرا مسئلہ میٹر ریڈنگ کا بھی ہے۔ محکمے کی جانب سے جو ملازمین میٹر ریڈنگ کیلیےمقرر ہیں وہ اپنی ڈیوٹی بھی سہی طریقے سے انجام نہیں دیتے۔ جسکا ثبوت بھی اسی منسلک تصویر میں موجود ہے کہ آٹھ مہینوں کا بل ایک ہی قسم کا آیا ہے ۔ یہ اسلیے ہوتا ہے کہ محکمے کے ملازمین میٹرریڈنگ کرنے نہیں آتے فرض کرئے آپ نے ایک سو چالیس یونٹ یااس سے بھی زیادہ استعمال کی ہیں۔وہ اپنی طرف سے بنا دیکھےستراسی یونٹوں کا بل بھیجتے ہیں۔ یوں آپ کے بقایا یونٹس بڑھتے جاتے ہیں وہ سال میں ایک مرتبہ آکے میٹر چیک کرتا ہے تو آپ کے اوپر بہت سارے یونٹس بقایا رہ جاتے ہیں ۔جس سے محمکے کو فایدہ اورآپ کو نقصان یہ ہوتا ہے کہ تین سو یونٹ سے اوپرسولہ روپے یونٹ چار سو سے اوپر اٹھارہ روپے یونٹ اس طرح آپ کو ایک مہینے کا بل پچاس ہزار سےبھی زیادہ آتا ہے۔ اسلیے یہ بھی گزارش ہے کہ محکمے کے ملازمین کو اس بات کا پابند کیا جائے وہ ہر مہینے گھر گھر جاکے میٹر چیک کیا کریں۔۔ شکریہ ۔۔
تمام چترالی دوستوں سے گزارش ہے اس پیغام کو وزیر اعظم صاحب تک پہنچانے میں ہماری مدد فرمائے۔ شیر اور کاپی ضرور کرے۔ اور روزانہ اس مسئلے اجاگر کرتے رہیے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق