محمد شریف شکیب

حلال خوراک کی تلاش

…….محمد شریف شکیب…..

وفاقی حکومت نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو حلال خوراک کی فراہمی کے لئے صوبائی سطح پر قانون سازی کی جائے۔ صوبوں کے نام مراسلے میں وفاقی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ دنیا میں خوراک کی تجارت زیادہ تر غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہے۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد حلال خوراک کی فراہمی صوبوں کے دائرہ اختیار میں آگئی ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حلال فوڈ اتھارٹیز پہلے ہی کام کر رہی ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بھی اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔وفاقی حکومت نے حلال فوڈ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس عاشورہ محرم کے بعد اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے تاکہ فوڈ اتھارٹیز کو موثر بنانے سے متعلق قانون سازی کی جاسکے۔ہم درآمدکی گئی اشیائے خوردنی میں حلال اور حرام کے والے سے بڑے حساس واقع ہوئے ہیں کھانے پینے کی چیز کا پیکٹ اٹھا کر بغور اس کے اجزاء دیکھتے ہیں کہ خدا نخواستہ کوئی حرام چیز تو اس میں شامل نہیں۔ کیونکہ ہمیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے۔ انہیں کسی قیمت پر حرام چیز کھلانا نہیں چاہتے ۔لیکن کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ہم جو کمارہے ہیں وہ کس حد تک حلال ہے۔ ہمارے تمام قصائی ماشا اللہ مسلمان ہیں ان میں سے اکثر باشرع بھی ہیں۔ صوم و صلواۃ کے بھی پابند ہیں۔ جب آپ ان سے گوشت لیں گے تو آپ کو صاف گوشت دکھا کر ترازو میں آدھے چھچڑے ، چربی اور ہڈی ڈالیں گے۔ گھر آکر جب آپ گوشت پکانے لگیں گے تو پتہ چلے گا کہ آپ نے پورے دام دے کر آدھی کھانے کی چیز خریدی ہے۔ پھل اور سبزی والے بھی مسلمان ہی ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تجارت پیغمبری پیشہ ہے۔آپ کو ترازو میں پھل اور سبزی پوری تول کر دیں گے۔ جب گھر لے آئیں گے تو ان میں سے نصف سڑے ہوئے نکلیں گے۔ مرچوں میں اینٹ پیس کر ملانے والے، چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملانے والے بھی ہمارے اپنے مسلمان بھائی ہیں۔ مردہ جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والے ، مردہ اور حرام جانوروں کی ہڈیوں کے گودوں کو پگھلا کر گھی اور کوکنگ آئل بناکر بیچنے والے بھی ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ جان بچانے والی ادویات کی نقل بناکر سستے داموں بیچنے والے بھی ہمارے ہی بھائی ہیں۔ خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی نے گذشتہ ایک سال کے دوران ملاوٹ کرنے ، غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خوردونوش تیار کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرکے اب تک کروڑوں روپے کے جرمانے وصول کئے کئی فیکٹریوں کو سیل کردیا۔لیکن چند ٹکوں کی خاطر ہمارے لوگ حرام اشیاء بیچنے اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے باز نہیں آتے۔حرام اور ملاوٹی اشیاء تیار کرنے والوں کو شاید کسی نے مشورہ دیا ہوگا کہ حرام مال سے چند سو روپے خیرات ، صدقے اور نذرانے کے نام پر دیئے جائیں تو ساری کمائی حلال ہوتی ہے۔ شہر کی سڑکوں پر دھکے کھاتے پھیرنے والے ہیروئن، شیشہ اور آئس نشے کے عادی افراد کو منشیات سپلائی کرنے اور نشہ آور چیزین تیار کرنے والے بھی ہمارے اپنے مسلمان بھائی ہیں۔ جو اپنے مالی مفادات کی خاطر کئی خاندانوں کو اجاڑ دیتے ہیں۔ مگر یہ لوگ کسی قانون کی گرفت میں آتے ہیں نہ انہیں قبر میں جانے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال کا حساب دینے کی فکر ہے۔ آپ کسی دکان میں جاکر کوئی چیز طلب کریں تو دکانداراس کی چار پانچ اقسام آپ کے سامنے رکھے گا اور بتائے گا کہ اصل چیز کی قیمت سو روپے ہے اس سے کم معیار کی چیز پچاس روپے میں ملے گی اوراگر سستے داموں دیسی چیز خریدنی ہے تو پندرہ بیس روپے میں بھی مل سکتی ہے۔ہم دکاندار کی ایمانداری سے متاثر ہوکر اصلی چیز خریدلیتے ہیں۔حالانکہ دونمبری ، جعلی اور نقلی چیز دکان میں رکھنے کا مقصد اسے بیچنا ہی ہوتا ہے۔ جب بیچنے والے کو معلوم ہے کہ چیز اصلی نہیں ۔ وہ اسے اپنے گھر میں کبھی استعمال نہیں کرتا لیکن دوسرے کے ہاتھ بیچنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔حرام، جعلی اور مضر صحت اشیائے خوردونوش بنانے والے ہی مجرم نہیں۔ انہیں بیچنے والے بھی تو قوم کے مجرم ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ قوم کی صحت اور زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت ترین قوانین بنائے جائیں۔سو دو سو جعل سازوں کو عبرت ناک سزا ملے گی تو دوسرے عبرت پکڑیں گے۔ کیونکہ ہم پندونصائح اور منت سماجت سے راہ راست پر آنے والے نہیں ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق