تازہ ترین

معزز چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت اقدس میں کھلا خط

معزز چیف جسٹس کی خدمت اقدس میں کھلا خط
چترال تشریف لانے کا شکریہ اور تہ دل سے
خوش امدید

جناب والا!
کیا واپڈہ بھی سپریم کورٹ کے دایراے اختیار میں اۤتا ہے اس کی اندھیر نگری چوپٹ راج کا علاج کس طرح سے ممکن بجلی ہوتے ہوے لوڈ شیڈنگ اور واپڈہ کے چوکیدار سے لیکر چیرمین تک مفت بجلی ھیٹنگ ,کوکنگ اور گھر گھر میں چرغان اور مریض ھسپتالوں میں بجلی کے انتظار میں اپریشن تھیٹر پر اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں اور واپڈہ کے ہزاروں ملازمین کے گھر میں مفت بجلی کی کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اگر واپڈہ کے ملازمیں پر %50 پرسنٹ بل بھی ڈھالی جائے تو واپڈہ منافع بخش ادارہ بن سکتاہے

چترال اور چترال کے باشندون کے ساتھ واپڈہ کا بے رحمانہ سلوک جس نے ہمارے تھوڑے سے زرعی ذمینات کو برباد اور ہمارے جانوں کو خطرے میں ڈھال دیا ہے اورمناسب ارزان اور ویران اوراۤسان راستہ دستیاب ہونے کے باوجود بلا وجہ دریا کے اوپر میں ٹرانسمیشن ٹاور لائن کو پار کرکے ایون کے زرعی زمینات کے اوپر سے یہ لائین گذار کر دریائے چترال کے گذر گاہ پر تین چار لائینں گذار کر انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ ابی حیوانات کے زندگی کو بھی شدید خطرے میں ڈھال دیا ہے ہمارے کھیت کھیتی باڑی اور گھر بنانے کے قابل نہیں رہے اور ان ہیوی ٹرانسمیشن لائینوں کے نیچے اُنچا گھر اور رہایش نا ممکن ہوگیاہے

خاص کر بروز گرڈ اسٹیشن کے سامنے دریا کے مغرب کی جانب ایون کے حدود تک بلکل خالی بےاۤباد اسان اور ارزان جگہ اور علاقہ میسر ہونے کےبا وجود اس جان کے خطرے کے حامل ٹاور لائین کو بروز کےغریب باشندوں کے گھروں کے اوپر سے اس خطرناک لائین کو گذار کر ہزاروں انسانی جانوں کو شدید خطرے سےدوچار کردیا ہےعلاقہ بروز کو برباد اور اس کے باشندوں کو جان کے خطرے میں ڈھالنے کےبعد ایون بروز پل تک پہنچا کر خالی اسان, ارزان اور بے اباد وسیع غیر اباد علاقہ سامنے دستیاب ہونے کے باوجود بلا وجہ اس میں ٹرانسمیشن ہائی پاور سپلائی لائین کو دریائے چترال کے اوپر سے مغرب کی طرف نکال کر ہمارے زرعی تھوڑے سے زمینات کے اوپر سے گذار کر ہماری زندگیوں کو خطرے میں ڈھال کر مستقبل میں ہمارے لیے گھر بنانا ناممکن کرکے دریا کے پانی کے اندر ٹاور, نصب کرکے ابی حیات اور پورے دریائے چترال کو بجلی کے شارٹ سرکٹ کے خطرے سے دوچار کردیا ہے اور موسم بہار اور برسات میں کسی بھی نمی سے اگراس میں لائن کی بجلی اگر دریاہ کے پانی تک پہنچ گیا تو یقینناً یہ کسی بھی وقت بہت بڑے المیے اور حادثے کا سبب بن سکتا ہے ایون برباد اور بروز ایون کے باشندوں کے جانوں کو خطرے سے دوچار کرنے بعد بھی واپڈہ کےاویرسے ٹھکیدار نے اس لائن کو گہریت پل کے قریب مغرب کی طرف نکال کر دستیاب خالی ارزان اوراۤسان علاقے سے دروش کے اۤخری حدود تک لے جانے کے بجایے چترال دروش مین روڈ کے بہت قریب قریب سے گذارہ ہے جو اس CPEC کے مجوزہ روڈ کے توسیعی منصوبے سے دوبارہ برباد کرکے لاین تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی جس کے لیے جگہ ھی دستیاب نہیں ہوگی

چیف جسٹس ثاقب نثار صاحبHONORABLE
کی خدمت میں بروز ایون کے ہزاروں معصوم بچوں ,بچیوں اور بوڑھے ماووں اور جوان بیٹوں اور معصوم بیٹیوں کی جانب سے ہم تمام سفید ریشان علاقہ کی طرف سے اس مستقل خطرہ جان بلا وجہ صرف پیسے بچانے کے لیے بچھائے گئے لائیں کو محفوظ اور دستیاب ارزاں غیر اۤباد علاقے سے گذارنے کا حکم واپڈہ کے اندھے بے تاج ظالم بادشاہ کو صادر کرکے ہزاروں انسانی جانوں کو مستقل خطرے سے بچائیں
اس درد مندانہ حقیقت پر مبنی اواز کو چیف جسٹس ثاقب نثار تک پہنچانے میں ھماری مدد فرماکر ثواب داراین حاصل کیجیے شیر کیجیےتا کی ہماری اۤواز چیف جسٹس صاحب تک پہنج سکےاورسوموٹو ایکشن لیکر ہماری فریاد دورہ چترال کے دوران ہی سنی جائے کلاش ویلیز تشریف لے جاتے وقت چیف جسٹس صاحب بذات خود بھی اس ظالمانہ بچھائے گئے واپڈہ کے ظلم کا نظارہ کرسکتے ہیں
جناب معزز ثاقب نثار چیف جسٹس اف پاکستان صاحب اپ موقع دیں ہم اس ظلم کی کہانی اپنی زبانی بھی اپ کی خدمت میں بیان کرین گے

                                                                                                      سماجی کارکن

                                                                                                   عنایت اللہ اسیر ایون
03469103996
نصرت اذاد بروز چترال

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق