اقبال حیات آف برغزیتازہ ترین

ہر حال کازوال ہے

انسانی زندگی میں رونما ہو نے والے حالات اور واقعات اپنی نو عیت کے اعتبار سے ناپا ئیدار اور نا قابل اعتبار ہو نے کے ساتھ ساتھ ہر بدلتے ہو ئے لمحات مختلف رنگ اور کیفیت کے حامل ہو تے ہیں ۔ کھبی غم، کھبی خوشی ، کھبی صحت ، کھبی بیماری ، کھبی ثروت ، کھبی غربت ، کھبی عزت ، کھبی ذلت ، کھبی اقتدار تو کھبی زوال وغیرہ ۔ یوں کسی بھی حالت کو دوام اور استقامت کی گارنٹی حاصل نہیں ۔ یہاں گدا گروں کو تخت شاہی پر بیٹھنے اور حکمرانوں کو دوسروں کے آگے ہا تھ پھیلانے کے ایام سے واسطہ پڑا ہے ۔چشم فلک نے سمندر کے بیچ میں کشتی میں سوار عورت کے بچے کو جنم دیتے ہی موت کی آغوش میں جا نے اور نومولد بچے کا شدادنا م سے پروان چڑھ کر خالق کا ئینات کے مقابلے میں اپنے اپنائے ہو ئے جنت کو دیکھنے کی عرض سے دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی فرشتہ اجل کے پنجوں میں آنے کا منظر بھی دیکھا ہے ۔ یو ں کسی بھی حالت پر نا ذان ہو نے اور تڑپنے کی کیفیت سے اجتناب عقل و خرد سے ما مور ہو نے کی علامت ہے ۔ زندگی کے ان بدلتے ہو ئے حالت اور رنگوں کو بد بختی اور خو ش نصیبی سے منسوب کر نا بھی حماقت کے مترادف ہے حقیقی خوش نصیبی کے لفظ سے مو سو م ہو نے کے حقدار وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو چند روزہ ایام زیست کورب کا ئینات کی خوشنو دی اور رضا کی نذر کر تے ہیں اور بد بختی اللہ تعالی کی نا راضگی کا دوسرا نام ہے جس سے ابدی زندگی کی بر بادی کا منہ دیکھنا پڑے ۔
در حقیقت زندگی کے شب و روز میں روشنی اور تاریکی کی دونوں حالتوں میں صبر اور شکر کا دامن ہا تھ سے جا نے نہیں دینا چاہئے ۔ اور ساتھ ساتھ دوسروں پر بیتنے والے حالات میں سہا را بننے اور ان تناظر میں زندگی کی حقیقی رنگ کو سمجھنے کی کو شش کر نی چاہئے ۔ حالیہ دنوں میں تین بار ملک کے اعلی ترین منصب پر فائز رہنے والی شخصیت کا نہ صرف خود پابند سلاسل ہو نا بلکہ پورے خاندان کا شیرازہ بکھرنا زندگی کی حقیقی رنگ کو نما ٰیاں کر نے کا آئینہ دار ہے ۔ اس خاندان کو درپیش ابتلا کی گھڑیاں متاثرہ خاندان سے صبر و استقامت کے ساتھ ساتھ عام لو گوں کے لئے حصول عبرت کی متقاضی ہیں ۔ بحیثیت مسلمان ہمارا مذہب اسلام ہمیں با ہمی بغض و عنا دسے گریز اور پیار و محبت کو پروان چڑھانے کی تلقین کر تا ہے ۔مگر بد قسمتی سے ہم سیاسی کھیل کو میدان کا ر زارکا روپ دے کر ایک دوسرے کے خونی دشمن کی سرحدوں تک پہنچ جا تے ہیں ۔اور سیاسی مخالف کو پھانسی دینے پر خوشی کا اظہار کر تے ہو ئے مٹھائی بانٹنے جیسی کم ظرفی کا عمل کر گزرتے ہیں ۔ جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی فعل ہے بلکہ انسانیت اور شرافت کے چہرے پر تھوکنے کے مترادف ہے ۔ یوں ہماری رقابتوں کا یہ نا پسندیدہ عمل پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں ۔ جو یقیناََ ہمارے لئے دعوت فکر کے حامل ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق