پروفیسر شفیق احمد

کہو قبیلہ اسکی زبان وثقافت

وادی چترال کثیر نسلی اورکثیرلسانی علاقہ ہے ۔اسمیں کہو قبیلہ کے علاوہ پٹھان ،دمیلی ،شینا ،مدکلشتی،گجر،یدعا،وخی اور کیلاش قبیلے کے باشندےآباد ہیں ۔کیلاش قبیلے کی حکومت ایک روایت کے مطابق پورے چترال میں قائم تھی اور زیریں چترال میں رئیس کے ہاتھوں انکی حکومت ختم ہو گئی۔کیلاش آبادی بمبوریت،بریراور رومبورکے تین وادیوں میں محدود ہو کر اپنی الگ لسانی،مذہبی،تہذیبی،اور ثقافتی لحاظ سےبھرپوراوراپنےتہواروں کو آزادی کے ساتھ مناتے ہوےہنوزقدیم طرز کی زندگی گزار رہے ہیں ۔آج کیلاش قبیلے کے نو مسلم اور دیگر قبیلے کے باشندے کہو طرز زندگی کو اپنانےاورکہو معا شرے کا حصہ بنے کی وجہ سے،آج کہو نسل چترال میں ایک اکثریتی نسل بن گئی ہے۔کوہ فارسی زبان میں پہاڑ کو اردو اور کہوار زبان میں پہاڑوں کے درمیان ندی کے ساتھ واقع آبادوادی کو کہتے ہیں ۔چترال بھی ہندوکش کے اندر تنگ وادیوں(کوہ)پر مشتمل ہے۔انسانی فطرت سہولت کی جستجو میں سرگرداں رہ کر ، چشمہ ،پانی اور قابل کاشت زمین جہاں کہیں میسر آے وہاں پر ڈیرا ڈالتا گیا۔یہ خطہ وسط ایشاء ،برصعیرو جنوبی ایشیا ء کے گزر گاہ ہونے کی وجہ سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے گروہ،مختلف مقاصد کیلئے جن میں سیاحتی ،تجارتی،مذہبی ،جنگی،حجاج اور چرواہوں کے قافلےاپنے خاندان سمیت روژ گول(تیریچ)زیور گول،،اُجنو گول،ُمعلنگ(ریچ) اور بروغل کے راستے سفر کیا کرتے تھے۔ان گروہ میں سےکچھ لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر ان وادیوں (کوہ)میں مستقل رہائش اختیار کر کے آہستہ آہستہ آبادی میں اظافہ اور کہو نسل کے وجود میں آنے کے باعث بنے۔اس نسل کے بولی کا نام کوہ وار(کہوار) ہےا،س قبیلے کی آبادی وادی ریچ سے لیکر وادی اویر تک پھیلی ہوئی ہے ۔وادی ریچ سے دریا نکل کر دریایارخون کے ساتھ بمباغ کےمقام پرپہنچ کر آپس میں مل جاتے ہیں ۔اور ایک روایت کے مطابق قاقلشٹ بھی تورکہو کا حصہ ہے ،اور اس زمانے میں دریا وں کے حساب سے حد بندیو ں کاتعین کرتے تھے۔اسی سنگھم سے تورکہو(توری کوہ)وادی کا بلادریائی رُکاوٹ زمینی سلسلہ شروع ہوجاتاہےاور تورکہو کا رقبہ بھی دیگر علاقوں سے کم ہے ۔ اس وادی کا زیرِیں حصہ ( موڑی کوہ )موڑکہواور بالائی حصہ(توری کوہ) تورکہو دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ایک روایت کے مطابق کہوار تورکہو میں پیدا ہوئی اور موڑکہو میں پل بڑھ کر جوان ہوئی ،کیونکہ تورکہو اور موڑکہو کے باشندےایک قدیم تہذیبی ،ثقافتی، ادبی اور مذہبی حئیثت کے حامل معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں ،کیونکہ اس زمانے سےکہو قبیلے کے باشندوں کی اس وادی میں سب سے پہلی منظم حکومت قائم تھی ۔اس وادی کا زیریں حصہ موڑکہو مژگول میں انکا دارلخلافہ تھا،س قبیلے پر بہمن کو ہستانی،سومالک اور رئیس وعیرہ حکمرانوں نےحکمرانی کر چکے ہیں ۔ بالائی حصہ تورکھو قدرتی حسن سے مالامال بڑے بڑے ہموارقصبوں پر مشتمل ہے۔تور کہووادی پانی کے فراوانی کی وجہ سے ہر قسم کے پھلدار اور دیگر پیداواری وعذائی ضروریات کی کفالت کو پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسکے مقابلے میں زیریں حصہ موڑکہوپانی کے شدید قلت کا شکارہے اور اسکے پُشت میں تریچ میر کے چوٹیوں پر بڑے بڑے گلیشیر (یخ رواں )ہونے کی وجہ سے چشموں کی بہتات ہے ، یہ ڈھلوانی (sloppy) علاقہ سیم وتھور(water logging) زدہ ہے،اس وجہ سےیہ وادی نہری نظام سے استفادہ نہیں کر سکتی ہے ۔آبادی کے بڑھنےاور پانی کے شدید قلت اورسیم زدگی کی وجہ سے اس علاقے سے کثیر آبادی نقل مکانی کر کے دیگر علاقوں کی طرف پھیلتے گئے ۔ایوبیہ خاندان کا تعلق بھی علاقہ لون موڑکہوسے ہے رئیس خاندان سےجب کٹور نے حکومت چھین لی اور اپنے متعلقین ،محمد بیگے،خوش احمدے ،سنگالے اور محمد رضا خیل کو پورے چترال میں مراعات اور جاگیریں دے کر آباد کرتے رہے۔تور کہو کے با لائی علاقوں سے بھی مختلف وجوہات کی بنا ءپرنقل مکانی کرتے رہے۔اس طرح زیور گول سے موسمی تعیرات کے سبب خوشے برادری کی بڑی تعداد میں آبادی نقل مکانی کر کے کالام ،مٹلتان اور چترال کے دیگر علاقوں میں آباد ہو چکی ہے ۔کالام وادی میں خوشے ،زوندرے،بایئکےاور کہوتکے قوم کے باشندےآباد ہیں،اسکا مطلب یہ ہے کہ کوئی کہوت والا بندہ ان لوگوں کے ساتھ اس وادی میں آباد ہوچکا ہوگا ، اسی مناسبت سے کہوتکے نام سے ایک نئی قو م وجود میں آ گئی ۔اسکے علاوہ کہو قبیلےسے کثیرتعداد میں آبادی مستوج ا ور یارخون وادی کی طرف نقل مکانی کر کے آباد ہو چکے ہیں۔ان میں اُجنو (امونیت)سے ایک کثیرتعدادمیں آبادی نقل مکانی کر کے یارخون لشٹ میں آبادہیں ۔ اسکے علاوہ مستوج پرواک اور دیگر علاقوں میں بھی آباد ہوچکےہیں ۔مورخ فراموز خان کے مطابق کہوت سے کثیر آبادی قدیم زمانےمیں موسمی تعیرات کے سبب انہی گزرگاہوں سے ہوتے ہوےچینی ترکستان کی طرف منتقل ہو کر آبادہو چکے ہیں۔ مورخ ۔ کے مطابق چینی زبان کے ساتھ ساتھ کہو زبان و ثقافت کے اثرات یعنی فری اسٹائل پولو ،بز کشی ،بود وباش چغہ (شقہ)اور شکل و صورت میں مشابہت و مطابقت کے ساتھ اپنی زندگی کے آیام کا ٹ رہے ہیں۔کافی عرصہ قبل گہریت سے کہو قبیلے کی آبادی اس زمانے میں مہتر کے زیر عتاب آکر آفعانستان کی طرف منتقل ہو کر(صوبہ حوز جان تحصیل آقچہ گاوں جیزہ چترالی ) میں اپنی زبان و ثقافت کے ساتھ آباد ہیں ۔جیزہ انکا مرکزی گاوں ہے اسکے علاوہ بلخ(مزار شریف چمتال ، سر پل اور تخار) میں بھی آبادہیں ۔اس طرح کہو آبادی پورے چترال ،افعانستان اور سراقول تک پھیل گئے۔اس طرح تورکہو سے نقل مکانی کرنےکے سا تھ ساتھ دیگر علاقوں سے تورکہو کی کی طرف بھی منتقلی ہوچکی ہے ۔زوندرے قومیت کاا صل مسکن گلگت ہے یہ لوگ سنوغر ،پرکوسپ میں آباد ہونے کے بعدآہستہ آہستہ مختلف وجوہات کی بناء پر تور کھو کی طرف منتقل ہو چکے ہیں ۔ان میں سیاہ گوش شاخ سےتعلق رکھنے والے سنوغرسےاستارو (گزو ٹیک ) میں ، شیرے شاخ سے تعلق رکھنے والے موڑ کہو سےشوتخار اور رایئن میں اور سرنگے شاخ سے تعلق رکھنے والے پرکوسپ سےرایئن ( موڑدہ ،معجالشٹ) میں آباد ہو چکے ہیں۔ پرکوسپ سےسرنگے شاخ کےتین سالہ بچے کو تورکہو کے بائیکے خاندان سے تعلق رکھنے والی اسکی بیوہ ماں نےاپنے رضاعی بھائ چھوٹامہترتورکہو کے پاس شاگرام (قلعہ شیر جویئلی) لے گئے اور ان سے رایئن اور اودیر(مڑپ )میں بڑی بڑی جاگیریں حاصیل کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔شیر افضل مہتر کے ساتھ تعلق کی بناءپر رائین کے سرنگے شاخ سے تعلق رکھنے والا مرزا عافیت خان اپنے بھائی کے ہمراہ ریاست بدر ہو کرآفغانستان کی طرف چلے گئے ،مرزا عافیت خان نے دوبارہ محمد عیسی اور داینال بیگ کے ہمراہ روژگول کے راستےقلعہ شیر جویئلی پر حملہ آور ہو کر بندوقیں اور دیگر اسلحہ جات کو اپنے قبضہ میں لے کرواپس روژ گول تیریچ کے راستے افغانستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔روژ گول کے راستے آفعانستان کے حدود میں داخل ہوتےہی مرزا عافیت خان کے بھائی اچانک شدیدبیمار ہو کر انتقال کر گئے اور انہوں نے لاش کو راتوں رات سفر کر کے رائین کے سامنے سوروہت گاوں پہنچا کرکسی بندے کو حوالہ کر کےاسی دن روژ گول کے راستےسےہوتے ہوے واپس آفغانستان پہنچ گئے۔یہ واقعہ لگ بھگ ۱۸۹۵ کا ہے ۔اس طرح مختصر مسافت کی ایک اور مثال افغان جنگ کے دوران دھماکوں کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔
چترال میں انسانی آبادی بہت قدیم ہے ۔مختلف علاقوں میں کھدائی کے دوران کئی فٹ نیچے پتھروں کے سلوں سے بنی ہوئ قبل از مسیخ کے زمانے کی قبریں دریافت ہو چکی ہیں ،اسکے علاوہ اجنو گول زیور گول اور روژ گول (تیرچ)میں وخی یعنی وخیکان قبرستان کے اثرات موجود ہیں ۔شاگرام کے سامنے ایک بنجر زمین ہے جسے تژیان لشٹ (تاجک )کہتے ہیں اور اسی جگہے میں (وخیکان کشکیر )کے نام سے بھی کھنڈرات کے ثرات موجود ہیں ۔وسط ایشاء کی طرف سے (بول)لٹُیرے قسم کے لوگ کہو علاقوں پر حملہ آورہو کر مال و اسباب لوٹ کر واپس جایا کرتے تھے ۔ زیورگول میں ایک بوڑھی عورت کا قصہ بھی ان لٹیرے گروہ کے بارے میں مشہور ہے کہ اسنے اپنی ذہانت سے کام لیکر ان لٹیروں کے مہم جوئ کو نا کام بنا نے کے ساتھ ساتھ کئی انسانی جان و مال اور اس علاقے کو بڑی تباہی سے بچا ئی تھی ۔ ایک روایت کے مطابق ان حملہ آوروں سے بچنے کے لئے ریچ (مُغلنگ) کے مختصر ترین گزر گاہ کو کسی زمانےمیں علاقے کےمقامی باشندوں نے مصنوعی طریقے سے گلیشیر(یخ رواں ) میں تبدیل کرکے اس راستے کومستقل طور پر بند کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ان لٹیروں سے بچنے کے لئے خبر رسانی کا ایک بہترین نظام بھی موجود تھا جسے (پھوم براش )کہتے تھے،اسکا طریقہ یہ تھا کہ کسی خطرے کے پیش نظر ایک اونچی چوٹی پر آگ جلاتے اور اسکے بالمقابل چوٹی پر بھی آگ جلائ جاتی تھی اس طرح بہت کم عرصے میں خبر مرکز تک پہنچ جاتی تھی،اس کام کو سرانجام دینے کے لئے باقاعدہ لوگ مامور رہوتے تھے۔اسکے علاوہ گاوں رایئن ،چیرون اور برنس میں قدیم پیدل راستے میں ایک ہی قسم کی بدھ مت دور کے اثرات بڑے پتھروں پر کھروشتی رسم ا لحط میں کندا ہےاور ان پتھروں پر سٹوپا کےشکلیں بھی کندا کر کے موجود ہیں۔اس تحریر میں ماہرین کے ترجمہ کے مطابق “جے ور من” بادشاہ کا نام کندا کیا گیا ہے۔امنشی عزیز الدین کی کتاب “تاریخ چترال “میں حضرت عثمان غنی کے دورمیں بدخشان سے مُبلغین اور صوفیاء کرام کوتورکہو کی طرف بھیجا گیا تھا ،اسکی بین ثبوت سادات خاندان کی ریچ میں کثیر آبادی ہے۔

panja
واخان کا علاقہ: قلعہ پنجہ

اسکے علاوہ علاقے کے بزرگوں نےتُرک حاجیوں اور اونٹ سوار قافلوں کے گزرنےکے قصے کئی مرتبہ ہمیں سنا چکے ہیں ۔انہی شواہد کی روشنی میں ہمیں یہ فیصلہ کرنےمیں آسانی ہو گی کہ کہو نسل کیسے اس وادی کے باسی بن گئے اور کس طرح پورے چترال میں پھیل گئے۔ وسط اشیائی ممالک کے ساتھ ہماری تہذیبی و ثقافتی رشتے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ہمارے رسوم ورواج ،تہذیبی اور تمدنی روایات اورگھروں کے طرزِ تعمیر حتی کےطبیعت اور زمین کی ساحت میں بھی مطابقت پائی جاتی ہے۔

سیا سی لحاظ سے جنگوں اور اسکے نتیجےمیں نئے وجود میں آنے والی سلطنتوں اور جعرافیائ تبدیلی نے بر صعیرو پاک و ہند کے باسیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی طرز پراُنہیں بھی ایک دوسرے سے جدا کیا۔اسکے علاوہ موسمی تعیرات ،جعرافیائ تبدیلیاں اور نئے گلیشیر (یخ رواں )کے وجود میں آنے کے باعث راستے میں حائل ہو کر قدیم تہذیبی ،ثقافتی رشتوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔
چترال میں بسنے والے تمام قبیلے اپنی الگ زبان و ثقافت کے مالک ہیں اور کہوار کہوباشندوں کی (قشقار )چترال میں سب سے بڑی زبان ہے، اس زبان کو اُردو کی طرح رابطے کےزبان کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ کہوار زبان چترال کی تمام وادیوں کے علاوہ کالام ،عذر، افعانستان اور چینی ترکستان کے علاقوں میں یکساں طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ لفظ “کوہ وار”بگڑ کر کہوار میں بدل چکی ہے یعنی کوہ میں رہنے والےباشندوں کی زبان ہے۔اس علاقے کے باشندےاپنی تاریخی حیثیت سے بے خبری کی وجہ سے آج کھو لفظ کو طعنہ سمجھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہیں، میرے خیال میں ایک بڑی زبان کی والی و وارث بننا اعزاز کی بات ہے۔توری کوہ (تورکہو )کے ایک فرزند (ناجی خان ناجی)کہوار لغت ترتیب دے کر اس زبان کے ساتھ تہذیبی،تمدنی ،ثقافتی اور لسانی وابستگی و سرپرستی کا حق ادا کر چکا ہے۔اسکے علاوہ تورکہو کے ایک اور فرزند رحمت عزیز چترالی نے انتھک محنت سے ایک (سافٹ وئیر) تیار کی ،جس کے ذریعے سے معدومیت کے شکار تمام مقامی زبانوں کو تقویت ملی ہے،اور کہوار زبان کے علاوہ تمام مقامی زبانوں کو کمپیوٹر کے ذریعے سیکھنے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں کام کرنے والوں کو بہت آسانی ہوگی۔تورکہو کے باشندے موڑکہووالوں کی نسبت زیادہ تر نقل مکانی نہ کرنے کی وجہ سے اپنی شستہ زبان ،تہذیب و تمدن کے ساتھ بھرپورزندگی گزاررہےہیں ،روایاتی طرز زندگی گزارنے کی وجہ سے دیگر علاقوں سے زیادہ ی محنتی ،ذہین اور چُست و چا لاک ہوتے ہیں ۔اپنے کام میں مگن رہنے اور اپنے کام سے کام رکھنے کی کوشش میں خود غرض دکھائی دیتے ہیں ۔انسانی فظرت کا حاصہ ہے کہ انسان اپنے پاوں پر خود کھڑے ہونے اور کامیابیوں کا خواستگار رہتا ہے ۔اس طرح مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے اور کوشسوں میں کامیاب نظر آنے والے باشندوں کو “تورکھویچی “اوراُنکے شستہ بولی کو “تورکھویچی وار”کہتے ہیں، بعض لوگ حسد کی آگ میں جل کر انکے بارے میں شدید نفرت پھیلانے کی کوشش میں ہمیشہ مصروف رہتے ہیں ۔حالانکہ یہ لوگ کفایات شعار سیدھے سادھے،صاف پاکیزہ،جذباتی و معمولی باتوں میں اُلجھنے والی اور بہت جلدُ سلجھنے والی طبعیت کے مالک ہیں ۔انکے بارے میں مروئی والے ہوٹل کے مالک کا تجزیہ بھی مشہور ہے ۔”جب تورکہووالا اکر کہے گا کہ ہم پانچ بندے ہیں ہمارے لئےکچھ لے آو اور مستوج والا اکر کہے گا کھانا ،چاےلے آواور موڑکہو والا آکر کھانوں کےقیمت کےبارے میں پوچھے گا ۔تورکہو والوں کی کفایات شعاری اور سلیقہ مندی کا اندازہ اس تجز ئیے بخوبی لگا سکتےہو ۔
کہوار زبان بے شمار قدیم زبانوں کے علاوہ فارسی ،اردو،ہندی انگریزی و دیگر علاقائی زبانوں سے مل کر بنی ہے ۔ان گزر گاہوں کی وجہ سے کہوارزبان میں بھی بہت سارے الفاظ مشترک ہونگے ،جس پر تحقیق کی ضرورت ہے ۔فارسی زبان کے کہوار زبان پر بہت گہرے اثرات موجود ہیں ،ان میں نماز کیلئے نیت باندھنا ،دنوں کے نام ،دعاوں کے علاوہ بے شمار الفاظ مشترک ہونگے۔ کہوار کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ کسی بھی زبان کے صحح سالم الفاظ کو موڑ مروڑ کر ادا کرنے کا نام کہوار ہے ۔جب اس لفظ کو سائنسی ُبنیادوں پر تحقیق کر کے جوڑے جاے تو وہ کسی اور زبان کی صحح سالم الفاط ہونگے۔پشتون قبیلہ کے ساتھ ہماری وابستگی نے اپنی تہذیبی ،ثقافتی اثرات مرتب کرنے کے علاوہ زبان میں بھی بے شمار الفاظ شامل ہو چکے ہیں ۔اس طرح کالاام کے چترالی قبیلے کے لوگ اپنے گھروں میں کہوار زبان بولتے ہیں لیکن اُنکی زبان میں بے شمار پشتو اور کو ہستانی الفاظ میں شامل ہو چکے ہیں ۔ جب میں سوات روبیکان کالج میں لیکچررتھاتو ان دنوں انکے ساتھ میل جول ہوتا تھا۔ایک دفعہ ان میں سے ایک شحص نے میری موجودگی میں کراچی میں اپنے بھائ کو فون میں تاکید کی کہ آپ اچھی طرح کمپیوٹر سیکھ کر آو۔۔۔ کو اس طرح ادا کیا “تو جم کمپیوٹر ازداکا کوری گے” ازداکا ” توپشتو زبان میں سیکھنے کو کہتے ہیں۔مورخ فراموز خان کے مطابق چینی ترکستان سراقول میں آباد کہو قبیلہ کے چینی زبان کی امیزش سےبنی کہوار زبان کواپنےایک ہفتہ قیام کے دوران، سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں ائی۔مثلاً میزبان شخص نے پانچ سالہ بچی کو اپنے پاس بلانے کےلئے الفاظ کی ادئیگی اسطرح کی “اے کیمیری یی گے”کہوار زبان میں لفظ ( کیمیری) زیادہ عمر کی عورت کیلئے اور لفظ (کومورو) بچی کے لئے استعمال ہوتاہے۔ چترال گہیریت سےآفغانستان کی طرف منتقل ہونے والے خاندان، آجکل آفعان جنگ کی وجہ سے واپس ہجرت کر کے چترال میں مقیم ہیں،انکے مطابق جب پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان پشاورسے کہوار پروگرام نشر ہوئی ،تو اس زمانے کے بزرگ و عمر رسیدہ لوگ کہوار زبان میں پروگرام و گانے سن کر زارو قطار رونے لگےاور آج بھی کہوار زبان و کہوار پروگرام بولتے اور سنتے رہتے ہیں ۔ تخار میں چترالی قبیلے کے کھیتوں میں کام کرنے والا بخارا کامہاجر، جب کہوار زبان میں گھر والوں کی گفتگو کو سُن کر رونے لگا اور دریافت کرنے پر اسنے سراقول وخی پامیر کا باشندہ کہا۔اسنے کہایہ میرے قبیلے کی زبان ہے (خاک می گفت چھوتی،درخت می گفت کان،گاو می گفت لیشو)تو اسکا مطلب یہ ہے یہ لوگ کہوار زبان کو خوب سمجھتے ہیں اور پیار کا اظہار آنسو بہا کر کرتے ہیں “بوئیکو زوخ بطن کے مصداق ” ( یعنی جنم بھومی )آج بھی اپنی آبائی وطن کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔آفعان مہاجرین آج اپنے شہروں کے بازاروں میں سودا سلف خریدنے کے لئےآپس میں کہوار زبان میں ہمکلام ہوتے ہیں ۔ اسکا مطلب یہ کہ ہمیں جلد ازجلد انکے پاس پہنچ کر کہوارزبان کو مزید معدومیت سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ کہوار زبان مختلف وجوہات کی بنا ء پر ،قبیلوں کے ہجرت کی وجہ سے دُینا کے مختلف حطوں میں پھیلتی رہتی ہے۔آج کے دور میں کھوار کواس وادی میں ُ اردو کی طرح رابطے کی زبان بن چکی ہےاورکہوار ُاردو کے ساتھ ایک قسم کی معاون زبان کی شکل اختیار کی ہے۔کہوار زبان میں اردو کی مانندکسی بھی زبان کے الفاظ کو ہضم اور جذب کرنے کی بے پناہ قوت موجود ہے، ُاردو فہمی اس علاقے میں عام ہو چُکی ہے۔اردو کے بے شمار الفاظ کہوار زبان میں شامل ہو چُکی ہیں۔جہاں تک زبان کی شستگی کا تعلق ہے ،وہ کہو علاقوں کے اُپر تمام قدیم گزر گاہوں کی بندش اور بیرونی زبانوں کی عدم مداخلت ہے ۔اس وجہ سے کہو علاقہِ ان آثرات سے محفوظ ہے۔مثال کے طور پر مستوج کے اُپر شندور اور بروغل کے گزرگاہیں، اس زبان کی شستگی کو متاثر کر رہی ہیں اس طرح حاص چترال کے زبان میں بے شمار تبدیلیاں آچُکی ہیں ۔
یقیناً بے شمار واقعات اثرات ہونگے انکی طرف اشارہ نہ کر سکا اس حوالے سے مزید بہتر کوشس کی جاے گی ۔دُنیا میں موسمی تعیرات آتی رہتی ہیں۔ اس وجہ سے بے شمار کھلے راستے جھیل گلیشئر (یخ رواں )میں تبدیل ہو کر بند ہو جاتے ہیں اور بند راستے جھیل کے ٹوٹنےاور گلیشئر (یخ رواں ) کے پگھلنے سے کھل جاتے ہیں ویسے ہی یہ حطہ گلوبل وارمنگ کا بھی شکار ہے ۔ان دنوں سننے میں آیا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت چترال کے راستے وسط ایشائی ممالک کے ساتھ شاہراہ گزارنے والی ہے ۔اُمید کی جاتی ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت پسند نا پسند کے دھوکے میں آئے بے عیر حقائق پر مبنی سروے کر کے اور اچھی منصوبہ بندی کرتے ہوے اس عظیم منصوبے کو تعمیر کریگی۔ وسط ایشیاء کے ساتھ محتصر ترین اور پائیدار گزر گاہ تورکہو ریچ( مغلنگ درے) جس سے مصنوغی گلیشیر بنا کر بند کردیا گیا تھا ،اسکے نیچے بہت کم فاصلےسے ُسرنگ کھود کر گزار ی جاے تاکہ اس شاہراہ کو واخان پٹی کے دریا پنجہ کے اُپر پل بناکر ہم آسانی کے ساتھ تاجکستان کےسرحد میں داخل ہو سکتے ہیں۔کیونکہ جدید گزر گاہوں اور شاہراہوں کی نسبت قدیم انگریزدور کے پیدل گزر گاہیں انتہائی محفوظ ہیں آ ج بھی قدیم گزرگاہوں کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر انہی راستوں سے شاہراہیں تعمیر کی جاے تاکہ زیادہ پایئدار اور تمام موسموں کے لئے قابل استعمال ہو ۔تاکہ انہی راستوں سےہوتے ہوے ہم ایک دفعہ پھر اپنےثقافتی ،تہذیبی رشتوں کے ساتھ منسلک ہو کر ملک وقوم کیلئے ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بنےاور مسلمان ریاستوں کے ساتھ بھی ہمارے رابطے استوار ہونگے۔تاکہ مسلم امہ کو انہی راستوں کے ذریعے سے ایک ہی چھت کے نیچے جمع کرانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔

wakhan

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
ٹیگز

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق