تازہ ترین

نودریافت “مصنوعی دھاتی سطح” گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کابنیادی سبب ہے۔سردارعبدالرحمن

پشاور(نمائندہ چترال ایکسپریس)ادارہ تحفظ ماحولیات(EPA)خیبرپختونخوا اور LEADپاکستان کے زیراہتمام منعقدہ دوروزہ سیمینار میں پریزنٹیشن دیتے ہوئے سردارعبدالرحمن نے کہاکہ دنیاکی قدری سطح پرایک مصنوعی دھاتی سطح نہایت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے جودرجہ حرارت کیلئے انتہائی حساس ہے ۔اس سطح سے سورج کی روشنی ٹکراکرواپس فضاء میں منعکس ہوتی ہے اورخود یہ دھاتی سطح سورج کی حرار ت کوجذب کرکے ماحول اورماحول میں موجوددوسرے عناصرجن میں مٹی ،لکڑی،پانی اورپتھروغیرہ کے مقابلے میں دوتاتین گنازیادہ گرم ہوکردُنیا کوتندوربنادیتاہے۔اس گرم سطح سے ٹکراکرنمی خُشک ہوجاتی ہے اور اکسیجن جل کرکاربنڈائی اکسائیڈمیں تبدیل جاتاہے۔ جس سے آب وہوامیں نمی کی شرح بگڑجاتی ہے اور اس خلاء کوپُکرنے کیلئے فضائیں بے ہنگم ہوجاتی ہیں اورآج اسی بے ہنگم نمی کی موجودگی کی وجہ سے مون سون بارشیں ہرجگہ برستی نظرآتے ہیں ۔آکسیجن جس تیزی کے ساتھ اس خاموش قاتل کے ہاتھوں تباہ ہورہی ہے اس سے خدشہ ہے کہ کاربن ڈائی اکسائیڈکی بہتات آئندہ ہمیں نت نئے مسائل سے دوچارکردیگی۔انہوں نے کہا کہ یہ دھاتی سطح انتہائی حساس ہونے کیوجہ سے گرمیوں میں انتہائی گرم اور سردیوں میں انتہائی سردہوجاتاہے جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی زمین کی اندرونی اور بیرونی فضاؤں میں ٹکراؤکاسبب بن کرزلزلے آنے میں مددگارثابت ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کے تناظرمیں کشش ثقل اوراوزون میں پڑنے والے شگاف کوبھی اسی تناظرمیں جانچنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ حرارت مادہ اورگیسیزکی پگھلاؤکاسبب بن سکتاہے جس کی وجہ سے گیسیز درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پھیل کر اوزون کی تہہ کوپتلایاسوراخ پیداکرنے کاباعث بن سکتے ہیں نیزاوزون میں سوراخ کی ایک اوروجہ ماحول کیلئے غیرمانوس مصنوعی گیسیزبھی ہوسکتے ہیں جومختلف عوامل کے نتیجے میں جنم لیکرفضاء میں پھیل جاتے ہیں ۔یادرہے اس سیمینارمیں شرکت کیلئے اسٹیک ہولڈرزکو خصوصی دعوت نامے جاری کئے گئے تھے جن میں پشاوریونیورسٹی،زرعی یونیورسٹی،محکمہ جنگلات،محکمہ وائلدلائف،ماہرین ماحولیات کے علاوہ لیڈپاکستان کے حکام بھی موجودتھے۔شرکاء نے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظرمیں مصنوعی دھاتی سطح کی دریافت کے انکشاف کوسراہااورڈائریکٹرجنرل ماحولیات ڈاکٹربشیرنے دھاتی سطح کوماحولیات کے حوالے سے ایک مضبوط نیاآئیڈیاقراردیتے ہوئے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے عوامل میں دھاتی سطح شامل نہیں تھا۔یہ پہلی مرتبہ اس حوالے سے سامنے آیاہے۔

EPA & Leadسیمینارمیں پیش کردہ مقالہ منعقدہ 14-15جنوری2016

1۔ فطرت یاماحول کیا ہے۔
* فطرت یاماحول قدرت کی طرف سے انسان،حیوان اورنباتات کیلئے فراہم کردہ مسکن ہے جس میں زندگی بسرکرنے کیلئے بے شمار نعمتیں اوردیگرلوازمات وافرفراہم ہیں۔
* فطرت یاماحول توازن،ترتیب اور ترکیب کانام ہے جو مثل ستارہے جس کی تاروں توترتیب سے چھیڑاجائے توسُراگربے ڈھنگی اندازسے چھیڑاجائے توشورپیداہوتاہے۔
2۔ کرہ ارض کی بلحاظ موسم تقسیم اورقوت کا منبع
239 سورج روشنی،حرارت کاواحدمنبع جب بھی سورج پرنظرڈالیں تو یہ آپ کوجنوبی سمت میں چمکتاہوانظرآئے گا۔
239 قطب جنوبی سورج کی جھکاؤاوراپنے صحراؤں،بیابانوں اورریگستانوں کی وجہ سے گرمی کامسکن،چھ ماہ اسکاراج رہتاہے۔یہ راج گلوبل وارمنگ سے پھیل کرآٹھ تا دس ماہ کاہوگیاہے۔ سورج کی تمازت پاکریہاں کے ریگستان تپتے تندوربن جاتے ہیں جس سے ہواکی کم دباؤجنم لیکر ہواؤں اوربادلوں کی گردش کاسلسلہ شروع ہوتاہے ۔ نیزحرارت پیداہونے سے سمندرکی سطح سے بھاپ اُڑنے اورفضاؤں میں نمی کازریعہ بن جاتا ہے۔
239 قطب شمالی سورج سے دوری اور بلندوبالاپہاڑوں کی وجہ سے برف ،گلئشیرزاورسردی کامسکن اورچھ ماہ اس کا راج رہتاہے تاہم گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سُکڑکر دوتاچارماہ تک محدودہوگیاہے۔یہاں کی یخ بستہ ہوائیں جب چلتی ہیں توبہت سے حشرات زیرزمین اورنباتات جمودکاشکارہوکراگلے سیزن کیلے پھرسے تازہ دم ہوتے ہیں۔
239 بلحاظ بلندی تقسیم مرطوب(مون سون رینج)،خُشک موسمی خطہ،الپائن رینج درجہ حرارت اور شرح نمی میں اضافے سے اپنی مقصدیت کھوتے جاررہے ہیں ۔

* سراب فطری قدیمی کیمیائی عمل
صحراؤں،بیابانوں اور ریگستانون میں جہاں ریت اور مٹی کے ساتھ دھاتی ذرات کی آمیزش ہوتی ہے جب سورج کی روشنی اور حرارت اس کی سطح سے ٹکراتی ہے تو ایک قدرتی کیمیائی عمل وقوع پذیرہوتی ہے ۔جس کے نتیجے میں اس کی سطح پر چھ انچ تاایک فٹ تک بھاپ اُڑتاہوا نظرآنے لگتاہے جوانسانی آنکھ سے بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔اس عمل میں آب ہوا میں موجود نمی اور آکسیجن گیس گرم سطح سے ٹکراکر مزیدگرم ہوکراوپراُٹھتے ہیں جس سے فضاء مزیدگرم ہوجاتی ہے ۔اس گرمی کا اثراورمزیدسورج کی شعائیں سطح سمندرسے ٹکراکرپانی کوبھاپ کی صورت میں اوپرآٹھاتے ہیں ۔اسی عمل کے نتیجے میں ہواء کی کم دباؤ جنم لیکر ہواؤں اور بادلوں کی گردش اوربارشوں کا سبب بنتاہے۔قدیم کتابوں میں سراب کوصحرائی یانظرکادھوکابھی بیان کیاگیا ہے کیونکہ دورسے دیکھنے میں یہ بھاپ پانی یاتالاب جیساہی نظرآتاہے۔تاہم یہ قدرتی کیمیائی عمل فطری ماحول میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

نودریافت
مصنوعی دھاتی سطح
عالمی تپش اورموسمیاتی تبدیلی کابنیادی سبب
* گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کاتعلق براہ راست صنعتی انقلاب سے ہے جس میں انسانی صناعی نے دھات کوباریک اور پتلے دھاتی پیلٹس میں ڈھال کر دُنیاکی قدرتی سطح پر پھیلادی۔جوآج متحرک اور ساکن صورت میں کرہ ارض کی سطح پر مجموعی طورپرلاکھوں بلکہ کروڑوں ہیکٹرزپرمحیط ہے۔یہ دھاتی پلیٹ یاشیٹ گھریلواشیاء،گاڑیوں،ہوائی اوربحری جہازون،بندرگاہوں،کنٹینرز،آئل اینڈگیس ریفائنریز،ڈپوزوغیرہ کے علاوہ کروڑوں بلکہ اربوں کی تعدادمیں کاروباری بلڈنگزاورگھروں کی چھتوں کی تعمیرمیں تقریباًڈیڑھ سوسالوں سے زیراستعمال ہیں ۔ بدقسمتی سے سوسال قبل لگائے گئے چھتوں میں آج بھی یہ پلیٹس اورشیٹس لگے نظرآتے ہیں ۔آج یہ سطح اپنی انتہاکوپہنچ کر ردعمل کے طورپر کرہ ارض کی درجہ حرارت کودوتاتین ڈگری سینٹی گریڈبڑھادیاہے،فضاؤں میں موجود نمی اور آکسیجن کی شرح اپنی توازن کھوبیٹھے ہیں ۔مون سون بارشیں آج خُشک خطوں بلکہ الپائن رینج میں بھی برستے ہوئے نظرآتے ہیں ۔برف اور گلئشیرزدرجہ حرارت میں اضافے کے باعث تیزی سے پگھلاؤکاشکارہیں۔جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ دہائیوں میں محفوظ برف اور
گلئشیرزاپنی بقاکی مزاحتمی جنگ ہارکر اپناوجودکھوبیٹھیں گے۔جس سے میٹھے پانی کی کمی کاسنگین بحران جنم لے سکتاہے۔دھاتی صنعت کی سالانہ ترقی کا شرح نموہی گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کاشرح نمو ہے۔

دھاتی پلیٹس یا شیٹس کاتجزیہ اورماحول پراثرات:
* سائز چوڑائی 3—4فٹ لمبائی 8—12فٹ موٹائی 0.3mm—-3mm وغیرہ
* دھات کی خصوصیات: سخت اور بجلی کی روکیلئے موصل ہے اسی طرح درجہ حرارت کیلئے بھی ماحول کے دیگرعناصرکے مقابلے میں زیادہ جذب یعنی جلدی چارج ایبل ہے اورپتلا سطح نہایت حساس ہونے کی وجہ سے ماحول کے دیگر عناصر مٹی ،پتھر،لکڑی اورپانی کے مقابلے میں فوراً دوتاتین گُناگرم یاسردہوکر ماحول کوگرم یاسردکردیتی ہے۔قدرت نے اس اہم عنصرکواسی خاصیت کی بناپرزیرزمین دفنایاتھا۔صنعتی انقلاب اورترقی سے قبل زمین کی سطح پراس کااس صورت میں کوئی وجود نہیں تھا۔
* سردی میں برف کاسل بن جاتا ہے اور ہوامیں موجودنمی کو کھینچ کر اپنی سطح پربرف جما دیتاہے جوروشنی یاحرارت ملنے کے بعدباقاعدہ بارش کی طرح ٹپکنے لگتا ہے
* گرمی میں ماحول کے دیگرعناصرکے مقابلے میں کئی گنازیادہ گرم ہوکردرجہ حرارت کودوتاتین سینٹی گریڈمزیدگرم کردیتی ہے ۔گرمیوں میں بندکاراوردھاتی بندکمرے میں حبس اوراکسیجن کی کمی ریکارڈکی گئی ہیں۔نیزسورج کی شعاؤں کویہ واپس منعکس کرنے سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوجاتاہے۔
* نمی اس کی گرم سطح سے ٹکراکر خشک ہوجاتی ہے جسے پوراکرنے کیلئے ایکوسسٹم اس خلاء کوپوراکرنے کیلئے بے ہنگم ہوجاتی ہے جس سے نمی کاشرح بڑھ جاتاہے۔
* آکسیجن اس کی گرم سطح سے ٹکراجل جاتاہے جس سے آکسیجن زخائرخسارے کا شکاراور فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح400ppmکی حدپارکرچکی ہے۔
*شدیدگرمی یا شدیدسردی قدرتی آفات خصوصاً زلزلے آنے میں مددگارثابت ہوئے ہیں ۔خصوصاً ہمارے خطے میں اکتوبریاآس پاس کے دنون میں ہولناک تباہ کُن زلزلے ریکارڈمیں ثابت ہیں ۔یادرہے انہی دنوں ہمارے ہان موسمی تبدیلی وقوع پذیرہوتی ہے یعنی موسم گرماموسم سرمامیں داخل ہوتی ہے ۔زمین کی اندرونی اور بیرونی فضاء میں اس تبدیلی سے ٹکراؤکاعمل زلزلہ آنے میں مدددیتاہے۔
* گلوبل وارمنگ اورموسمی تبدیلی کاکشش ثقل پرممکنہ اثرات جانچنے کی ضرورت ہے کیونکہ شدیدگرمی یاشدیدسردی عناصر یاگیسیزکی پھیلاؤ یاسکڑاؤکاموجب بنتے ہیں ۔زمین اورفضاؤں کی پھیلاؤاوزون کی تہہ کوکمزورکرکے پھاڑنے یاسوراخ کرنے کاسبب بن سکتاہے۔نیزفطرت اورماحول کیلئے نامانوس گیسیزبھی اوزو ن کے پھٹنے اور سوراخ ہونے میں کرداراداکرسکتے ہیں کیونکہ نیچرکی توازن،ترتیب اور ترکیب میں شایدان مصنوعی اور غیرقدرتی گیسیزکیلئے کوئی جگہ مخصوص نہیں ۔جس کی وجہ سے قدرتی گیسیزانہیں سسٹم سے باہرنکال دیتے ہوں۔

* اختتامی کلمات۔
کرہ ارض پر موجود حیات کے گرد گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی سے گھیراتنگ ہوتاجارہاہے یہ ہماراواحدمسکن ہے جس کا فی الحال ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں ۔دھاتی صنعت کی ہوش رُباترقی ہی دوسرے الفاظ میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کی شرح نموہے جوہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔دھات جسے قدرت نے ہمارے ہی بھلائی کیلئے پیداکیاہے اس کی غیردانشمندانہ استعمال اور پھیلاؤآج ہمارے لئے دہشت گردی اور ہیروئن سے بھی زیادہ خطرناک بن چکی ہے ۔آج اس کرہ ارض ،خودہماری اور ہمارے آئندہ نسلوں کی بقاء اس عفریت پر جلدازجلدقابوپانے میں مضمرہے۔ہمیں فطرت کواس کی اصل روح کے مطابق سمجھ کر ایمرجنسی بنیادوں پر فطرت کے حدودکاازسرنوتعین اوراس کوآئندہ کیلئے ہرقسم کی انسانی دست درازی سے بچانے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی اور اس پرعملدرآمدکویقینی بنانے کیلئے عالمی سطح پرقوانین متعارف کرانے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ
“جان ہے توجہاں ہے۔”
سردارعبدالرحمن،چیف ایڈیٹرہفت روزہ چترال ٹائمز موبائل03469382711

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق