ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……پلاننگ کمیشن پر اعتراضات

…….ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی……

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایوان بالا میں تجویزدی ہے کہ چائنا پاکستان اکنامک کا ریڈور انتہائی دیر پا اہمیت کا حامل منصوبہ ہے ۔اس کو پلاننگ کمیشن کے ہاتھوں میں دینے کی بجائے ایک الگ اتھارٹی قائم کر کے یہ منصوبہ اُس اتھارٹی کو دیدیا جائے ۔مجوزہ اتھارٹی میں چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی ہو اور یہ اتھارٹی کسی وفاقی وزیر کے ماتحت نہ ہو ۔بین السطور میں چار پانچ مو ٹی باتیں نظر آتی ہیں ۔ایک بات کو انہوں نے بین السطور میں نہیں رکھا بلکہ کھل کر کہہ دیا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین وفاقی وزیر احسن اقبال پر تین صوبوں کا اعتبار نہیں رہا ۔ایوان بالا وطن عزیز کے پارلیمانی نظام کا اہم ادارہ ہے ۔سینیٹر فرحت اللہ بابر ریٹائر ڈ بیوروکریٹ ،دانشور ، محقق اور لکھاری ہو نے کی شہرت رکھتے ہیں ۔وہ جب ایوان میں کو ئی مسئلہ اٹھاتے ہیں تو پورا ہوم ورک کر کے آتے ہیں ۔اُن کی تقریر کا ہر جملہ بیر سٹر اعتزاز احسن کے جملوں کی طرح جامع ہوتا ہے ۔انگریزی کی ترکیب میں ایسے جملوں کو لوڈ (Loaded)کہا جاتا ہے ۔ملکی سلامتی کی ایجنسیاں اور سفارتی وصحافتی حلقے فرحت اللہ بابر کی ہر تقریر کو سنجیدہ لیتے ہیں ۔چنانچہ پلاننگ کمیشن کے کردار پر اُن کے اعتراضات کو بھی سنجیدہ لیا گیا ہے۔اسلام آباد کے پلاننگ کمیشن کی تاریخ ہمارے بلدیاتی نظام کی طرح ہے جب مارشل لاء آتاہے تو پلاننگ کمیشن کی سربراہی کسی پروفیشنل شخصیت کو سونپتی جاتی ہے اور یہ ادارہ فعال ہو جاتا ہے جب سیاسی پارٹیوں کا اقتدار آتا ہے تو پلاننگ کمیشن کی سربراہی کسی سیاسی ورکر کو دی جاتی ہے اور پلاننگ کمیشن برباد ہو جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سابقہ دور حکومت میں پلاننگ کمیشن کے حوالے سے ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا ۔کہ مغل شہنشاہ شاہجہان کے زمانے میں اگر پلاننگ کمیشن ہو تا تو شاہجہان کبھی تاج محل تعمیر نہ کر پاتا ۔پلاننگ کمیشن والے مغل بادشاہ کو اتنا رگڑا دیتے کہ اورنگ زیب کے ہاتھوں قیدہونے تک تاج محل کی فائل پلاننگ کمیشن میں اوپر نیچے گھومتی رہتی اور کوئی نتیجہ برآمد ہونے سے پہلے قید خانے سے شاہجہان کا جنازہ برآمد ہو جاتا ۔ایک اور لطیفہ بھی پلاننگ کمیشن پر چسپان کیا جاتا ہے ۔کہتے ہیں محمود غزنوی نے شاہنامہ کے مصنف فردوسی کو انعام دینے کا کام پلاننگ کمیشن کے حوالے کیا تھا ۔فردوسی نے عمر بھر انتظار کیا انعام نہ ملا تو کہا ” گرمادرش شہہ بانوبودے ” پلاننگ کمیشن سے انعام کی منظوری آئی تو فردوسی کا جنازہ نکل چکا تھا۔ “دلبرا در زندگانی قدر من نشناختی ” فرحت اللہ بابر اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی حکو متوں کی کئی مجبوریاں ہو تی ہیں۔دوستوں ،رشتہ داروں اور کاروباری شراکت داروں کا خیال رکھنا اُن کی سب سے بڑی مجبوری ہواکرتی ہے ۔اس لئے حفیظ اے پاشا، ڈاکٹر خورشید احمد اورڈاکٹر محبوب الحق کے پایے کا کوئی معیشت دان پلاننگ کمیشن کے قریب نہیں آسکتا ۔غلام اسحاق خان جیسے دبنگ اور دیانت دار بیوروکریٹ کو پلا ننگ کمیشن کے قریب آنے کوئی نہیں دیتا ۔ سیاسی لوگ اس انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب پارٹی کی حکومت آئے اور پلاننگ کمیشن پر میرا یا میرے دوست کا قبضہ ہو جائے ۔یہ پاکستانی سیاست کی اندورنی مجبوریاں ہیں ۔ان مجبوریوں کی وجہ سے یہاں پانی کا بحران ہے ۔ بجلی کا بحران ہے، گیس کا بحران ہے ، تعلیم کا بحران ہے ۔ علاج معالجے کی سہولتوں کا بحران ہے ، روزگار کے مواقع کا بحران ہے ، غربت میں اضافے کا بحران ہے ،سیاستدانوں کی اقرباء پروری کی وجہ سے لوگ مشرف کے دور کو یاد کرتے ہیں تو غلط نہیں کرتے ۔سینیٹر فرحت اللہ بابر کی تجویز قابل غور ہی نہیں قابل عمل بھی ہے ۔چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور کا پہلا نام گوادر کاشغر شاہراہ بھی تھا۔اس شاہراہ سے بلوچستان ، سندھ، پنجاب، خیبر پختو نخوا اور گلگت بلتستان کو یکساں فوائد حاصل ہونے والے تھے ۔اگر 2013 ء میں پلاننگ کمیشن کے ذریعے اس منصوبے کے اندر پنجاب کا مشرقی روٹ شامل نہ کیا جاتا ۔اگر چو ہدری احسن اقبال مشرقی روٹ اور مغربی روٹ پر روز متصاد بیانات نہ دیتے ۔اور اگر 2006 ء کے نقشے کے مطابق کام شروع ہو جاتا تو اس اہم شاہراہ کی حیثیت متنازعہ ہر گز نہ ہوتی ۔اس شاہراہ کے ساتھ صنعتی علاقے ، توانائی کے منصوبے اور دیگر معاشی فوائد بھی وابستہ ہیں ۔اور اس منصوبے میں پاکستان کے ساتھ ہمسایہ ملک چین کی شراکت ہے اس لئے یہ معاشی ترقی کے ساتھ سفارتی کا میابی کا بھی تقاضا کرتا ہے ۔پلاننگ کمیشن کی مسلسل ناکامیوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے تو فرحت اللہ بابر کی تجویز کے ساتھ اتفاق کرنا پڑے گا ۔کالاباغ ڈیم ، دیامر بھاشاڈیم ، داسوڈیم اور ایسے کئی اہم منصوبے پلاننگ کمیشن کی وجہ سے نا کامی سے دوچار ہو ئے۔ چائنا پاکستان اکنامک کا ریڈور کا اہم منصوبہ پلاننگ کمیشن کی موجودہ انتظامیہ کے ہاتھوں میں تباہی اور بربادی سے دوچار ہوگا۔اس کے لئے چاروں صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل نئی اتھارٹی ہونی چاہیئے جس میں گلگت بلتستان کو بھی مساوی نمائیندگی دی گئی ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق