اے ایم خان

پس و پیش رمضاں اور رمدان کی دوستی

 ……اے ایم خان چرون،چترال……

رمضان کی پیدائش رمضان کے مہینے میں ہونے کی وجہ سے اُسکا نام بھی رمضان رکھا گیا۔ رمضان مزاج کا نرم، مزح سے بھرپور اورنیک دِل اِنسان ہے۔ اپنے ڈیوٹی میں ہر وقت اُس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اُس کے سٹوڈنٹس زیادہ سے زیادہ سیکھ لیں، اور اِس عمل میں وہ اپنا زیادہ سے زیادہ اِن پُٹ دینے کی کوشش میں رہتا ہے۔ اُس کے دو پسندیدہ کام ہوتے ہیں ایک پڑھنا اور دوسرا پڑھانا، اور باقی وقت اِن دو کاموں سے بچ جاتا ہے تو یہ اپنے خانداں کے ساتھ گزار دیتی ہے۔ یہاں رمضان کی بات ختم ہو جاتی ہے اور اِس کے بالکل برعکس ’’ رمضاں اور رمدان ‘‘ کا استعارہ شروع ہوجاتا ہے جسکا میرے دوست رمضان سے کوئی بھی تعلق ، جو آپ آگے پڑھیں گے یہ ایک تنقیدی جائزہ ہے۔
خیر! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے سے رمضان کی یاد ،پھر’’ رمضاں اور رمدان‘‘ کی دوستی کی کہانی ۔ دوستی کی صورت کچھُ یوں، سمجھ لینا کہ رمضاں مشرق اور رمدان مغرب کا باسی، کوسوں دور اُن کی زندگی، لیکن وقت کے ساتھ دونوں کی زندگی نے ایسی کروٹ لے لی جس کیلئے انگریزی کا اِصطلاح acculturation استعما ل کیا جائے تو نہایت مناسب ہوگا۔ حقیقت پسند ی سے دیکھا جائے تو رمضان اور رمدان کی ثقافت، روایات ، علاقہ ، طرز زندگی، خوراک ،رہن سہن اور آب وہوا ایک دوسرے سے بہت مختلف ،لیکن اب رمضان نے اپنا نام رمدان ہی رکھ دینے پر اکتفا کی ہے جس سے ایک بات سمجھ آہی جاتی ہے او رایک سے حیرانگی ۔ سمجھ یہ آجاتی ہے کہ رمدان حقیقت میں عرب کے مصداق سب کو عجمی تصور کرتا ہے، اور رمضاں اِتنا ان پڑھ نہ ہونے کے باوجود بھی اپنا نام رمدان رکھنے پر اسرار کر رہی ہے! اور بات حیرانگی کی ،کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک طرف زبان اور ثقافت کی احیاء کی بات ، تو دوسری طرف ہلکی بارش سے ہی بھیگ کر لباس اور حلیہ تبدیل کر نے کی یقین دہانی، گوکہ گرمی کی لو یہاں اِتنی زیادہ بھی نہیں، جتنی پچھلے سال تھر میں رہی تھی۔
رمدان انتہائی مرتوب علاقے کا رہائشی ، علاقہ ریگستانی اور خوراک زیادہ گرم نوش فرماتا ہے۔ کھجور ، آم اور گوشت رمدان کا پسندیدہ خوراک ہوتا ہے۔ رمدان کا تعلق اجنبی سے زیادہ ہوتا ہے بجائے بھائی اور دوست سے۔ اور اُس کے معاش کا دارومدار زیادہ کوکنگ آئل کے پیدوار سے ہوتی ہے۔ رمدان بحیثیت دوست اور بھائی رمضان کے علاقے کا دورہ کبھی کبھار کرتا ہے۔ جب بھی اُسکی آمد ہوتی ہے ہر طرف خوشی کی لہر پھیل جاتی ہے، اور ساتھ اِسے عزت وتکریم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ رمضان اپنے علاقے اور حالات کے مطابق اُسکی عزت و تواضع میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی یہاں تک کہ علاقے میں نمایاں اور معدوم ہونے والے پرندہ کا شکار بھی اُس سے کرواتا ہے۔ اور ساتھ کھانے میں کوئی سمجھوتہ بھی نہیں ہوتا۔
کھانا پینا اُن کا پسندیدہ مشعلہ ہونے کی وجہ سے ، رمدان کھانے کے معاملے میں کوئی کمی کو برداشت نہیں کرتی، اور جونہی رمضان کے ہاں آتا ہے اُس کو کھانا پکانے کیلئے تیل ضرور لے آتی ہے اور پچھلے سال ڈھائی لیٹر تیل لے آیا تھا جس کی تصدیق بعدمیں گاؤں والوں نے بھی کردی۔
رمدان کو کھانے کے علاوہ ایک چیز کی پڑی ہے کہ وہ علاقہ جہاں اُس کی رسائی ہے وہاں اُسی کا بول بالا ہو۔ یعنی کہ ہر دوست جس سے رمضان کی دوستی اور رمدان سے اجنبیت،وہاں بھی رمدان کے مصداق اکلچیریشن کا عمل ہو۔ یعنی دوسرے الفاظ میں یُوں کہا جاسکتا ہے کہ رمدان کے علاقے سے منسلک سارے علاقے اُس کی بادشاہت سے مستفید ہوں ، اور اُس کی پیری میں مریدی پر بیعت رمضان کی طرح رمدان ہوکر رہیں!۔
دوسرے دوست و احباب اُس کے روایات ، طریقے اور رہن سہن کو اپنائیں، گوکہ وہ اُن کے علاقے کا اُن سے تعلق بن نہیں پاتا۔ اِس کوشش میں رمدان کیانہیں کرتی، یہاں تک کہ جسے وہ اپنے طریقے کے مخالف گردانتا رہا ،پر ایک مہم چلائی ، جسمیں رمضاں بھی اُسکا ساتھ کھلم کھلا تو نہیں دیا، لیکن اُس کی مدد کررہی تھی، جس کی تصدیق بعد میں نہ صرف اُس کے علاقے کے لوگ بلکہ دوسرے علاقے کے لوگوں نے بھی کر دی۔
آپس میں دوستی کا ایک فائدہ رمضان کو یہ ہوا کہ اُس کے علاقے سے کئی لوگ رمدان کے ہاں کھجور کے پودوں کی شجر کاری مہم میں، اور دوسرے گھریلو کاموں میں لگ گئے ، گوکہ اُن کی حالت کتنی برُی کیوں نہ ہو ۔ اِس عمل سے جبکہ رمدان کو سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا، اور یہ اُس کی دِلی خواہش بھی تھی کہ یہ لوگ رمدان کے طریقے ،روایات، اور طرز زندگی کے ساتھ واپس اپنے اپنے علاقے میں آئیں،جس نے تو رمضاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ سلیس زبان میں بیا ں کیا جائے تو اِس طرح بھی کہہ سکتے ہیں،کہ رمضان کے گھر سے منسلک جتنے خانداں رمدان کے ہاں کام سے واپس آگئے ،تو علاقے کے سارے قدیم پھلدار درخت توڑ ڈال دی گئی، اور وہاں کھجور کے پودے لگانے شروع کر دی۔ اِس میں قباحت صرف یہ تھی کہ یہ علاقے کے آب وہوا، اور موسم کے مطابق نہیں تھے۔ یہ پودے لگ تو گئے لیکن بعد میں اُن کے پھل کا ذائقہ اچھا نہیں رہا۔ کاروبار زندگی میں یہ تبدیلی علاقے میں ایک نئی فصل لے آئی ، جس سے تمام علاقے اور خصوصاً بنجر علاقوں میں ایک نئی درخت اُگ گئی جسکی فصل اِتنی زیادہ ہوگئی کہ دوسرے علاقے اپنے علاقائی پیداوار کی فروخت کیلئے اُس پر پابندی لگادی، اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یہ فصل اِتنی کم پڑگئی تھی کہ بیں الاقوامی مارکیٹ میں اُس کی ڈیمانڈ حد سے زیادہ ہوگئی۔ یعنی ایک طرف مارکیٹ میں اِس فصل کی ڈیمانڈ تو دوسری طرف اِس پر پابندی، ایک ناہموار مارکیٹ جیسی صورت پیدا کردی؟
اب رمضان کیلئے درپیش مسئلہ دوستی سے نام اور شناخت کا ہوا ہے ۔ اگر رمضاں ،رمضاں نام کو ہی جاری رکھے تو سارے لوگ اُس کو رمدان کے نام سے جانتے ہیں، اور اگر رمدان پر اکتفا کردے تو رمدان اُس کے دوست کا نام ہے ، تو اُس کی شناخت کہاں ! ۔ اب رمضا ں کو کسمپرسی اور تذبذب اپنے نام سے ہے، کہ اپنا نام کیسے بچائے اور کیا رکھ دے جس سے صرف اُس کی پہچان باقی رہے۔ کیونکہ اِس دوستی نے اُس کا نام اور ساتھ پہچان کو خطرہ ہو چکا ہے تو یہ دوسری طرف رمدان کے پیداوار کی آمد اور کاروبار میں ریل پیل ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق