تازہ ترین

سینٹ جیسے ایوان میں چترال کے مسلمانوں پر بلا تحقیق کالاش لڑکی کو جبراً مسلمان کرنے کی بات میں کوئی حقیقت نہیں ۔سرتاج احمد خان

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) سابق تحصیل ناظم چترال سرتاج احمد خان نے کہا ہے ۔ کہ بمبوریت میں نو مسلم لڑکی کے حوالے سے کالاش قبیلہ اور مسلمانوں کے مابین ہونے والا تنازعہ جہاں چترال کی تاریخ میں انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ اُس سے بھی زیادہ قابل افسوس امر جمعہ کے روز سینٹ کے اجلاس میں ملکی و بین الاقوامی سطح پر نام رکھنے والی شخصیت سنیٹر مشاہد حسین سید کا نکتہ اعتراض اور اس حوالے سے وہ بحث ہے۔ جو بلا تحقیق اُٹھایا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش ویلی میں ر ونما ہونے والے اس واقعے سے سازش کی بو آرہی ہے ۔ جو کہ خدا کے فضل سے کامیاب نہیں ہوئی ۔ سرتاج احمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ،کہ سینٹ جیسے ایوان میں چترال کے مسلمانوں پر بلا تحقیق کالاش لڑکی کو جبراً مسلمان کرنے کی بات میں کوئی حقیقت نہیں ۔ جس کا اظہار نو مسلم لڑکی نے خود کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے لوگوں نے کالاش قبیلے کو اپنے دل میں جگہ دی ہے ۔ اور صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ شیرو شکر زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور اپنے سے زیادہ اُن کا خیال کرتے ہیں ۔ لیکن ہر معاشرے میں فساد برپا کرنے والے لوگوں کی کمی نہیں ۔ اس لئے چترال کے اندر مسلمانوں اور کالاش قبیلے کا بھائی چارہ سماج دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ جو افواہیں پھیلاکر علاقے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تاہم سینٹ کے ذمہ دار اراکین کو ایسے نازک مسئلے کو اُٹھانے سے پہلے اسکی تحقیق ضرور کرنی چاہیے تھی ۔ جو کہ نہیں کی گئی ۔ سابق تحصیل ناظم نے کہا ۔ کہ چترال جیسے دباؤ سے آزاد معاشرے میں جبراً کسی کے مذہب کی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ جب تک کوئی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل نہ کر لے ۔ کالاش قبیلے کی سینکڑوں لڑکیاں اور مردو خواتین اپنی مرضی سے اسلام قبول کر چکے ہیں ، اُن میں سے کسی نے بھی جبراً مسلمان کرنے کا الزام کسی پر نہیں لگایا ۔ اور نہ نو مسلم رینا کی قبول اسلام میں جبر شامل ہے ۔ کیونکہ چترال میں تمام مذاہب و مسالک کے لوگ تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں ۔ اور اپنے حقوق کے بارے میں بہت بہتر جانتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال ایک حساس ضلع ہے ۔ اس کے مذاہب اور مسالک کے بارے میں ایوانوں میں بات کرنے سے پہلے اراکین کو حقیقت جاننے اور باخبر ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ غیر تحقیقی آواز علاقے کیلئے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق