بجلی کے لئے پرامن جدوجہد میں ضلع کے تمام عوام اور تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اہالیان دروش کی حمایت میں کھڑی ہے۔مولانا جمشید احمد – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

بجلی کے لئے پرامن جدوجہد میں ضلع کے تمام عوام اور تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اہالیان دروش کی حمایت میں کھڑی ہے۔مولانا جمشید احمد

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) امیر جماعت اسلامی ضلع چترال مولانا جمشید احمد نے چترال کے دروش ٹاؤن میں شیشی بجلی گھر کی مسلسل خرابی اور بندش کے خلاف دروش کے عوام کی طرف سے حکومت کی مسلسل خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہونے کی علامات صاف طور پر نظر آرہی ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ کا ٹس سے مس نہ ہونا قابل مذمت ہے ۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں دروش سے تحصیل کونسل کے رکن عبدالسلام اور جماعت کے دیگر رہنماؤں قاضی سلامت اللہ، عتیق الرحمن، فضل ربی جان اور دوسروں کی معیت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دروش کے عوام گزشتہ کئی دنوں سے پیڈو کے خلاف دھرنا دے کر پیڈو کی بدانتظامی اور کرپشن کو اشکار ا کرنا چاہتے ہیں جوکہ ایک کروڑ 61لاکھ روپے گزشتہ دنوں حکومتی خزانے سے خرچ کرنے کے باجود بجلی کو چالو نہیں کیا جس کے نتیجے میں دروش کے عوام کو روزانہ 20گھنٹیوں کی لوڈ شیڈنگ کی سزا بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مولانا جمشید احمد نے jmکہاکہ ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد صورت حال نہایت خراب ہوسکتی ہے جو کہ جشن شندور کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پیڈوکی طرف سے شیشی بجلی گھر میں ابرار نامی صرف ایک ٹیکنیکل اہلکار موجود ہے جوکہ سب انجینئر کی اسامی پر تعینات ہے لیکن ان کی کرتوتوں سے بجلی کے صارفین تنگ آگئے ہیں اور ان کے تبادلے کا بار بار مطالبہ کرنے پر بھی ان کو نہیں ہٹایاجاتا جس سے عوام کی اشتعال مزید بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دروش کے عوام شیشی بجلی گھر کی بحالی کے ساتھ ساتھ نیشنل گرڈ پر مہیا ہونے والی بجلی کی انتہائی کم وولٹیج کو بڑہانے اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح شیڈول کے مطابق لوڈ شیڈنگ چاہتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے امیر نے کہاکہ بجلی کے لئے پرامن جدوجہد میں ضلع کے تمام عوام اور تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اہالیان دروش کی حمایت میں کھڑی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چترال کے ڈپٹی کمشنر نے حالات کو سدھارنے کی بجائے اہالیان عوام کی اشتعال میں مزید اضافے کا سبب بن رہاہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داخلے جاری ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔