کھیلوں کی خبریں

پاکستان کی شاندار کارکردگی لیکن ورلڈکپ تک رسائی مشکل

بلن میں کھیلے جانے والے دو میچوں کی سیریز کے پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آئرلینڈ کو 255 رنز سے شکست دے دی ہے۔ میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آئرلینڈ کو جیتنے کے لیے 338 رنز کا ہدف دیا تھا۔ جواب میں عمر گل اور عماد وسیم کی تباہ کن بولنگ کے سبب آئرلینڈ کی ساری ٹیم 23.4 اوورز میں 82 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے عماد وسیم نے 5.4 اوورز میں پانچ، عمر گل نے پانچ اوورز میں تین جبکہ محمد عامر نے چار اوورز میں ایک اور محمد نواز نے تین اوورز کرا کے ایک وکٹ حاصل کی۔ آئرلینڈ کو اننگز کے پہلے ہی اوور کی دوسری گیند پر سٹرلنگ کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑا جنھیں عامر نے بولڈ کیا۔

اس کے بعد 22 کے مجموعی سکور پر عمر گل نے پورٹرفیلڈ 13 رنز پر بولڈ کر دیا۔ عمر گل نے اپنی دوسری وکٹ جوائس کو آؤٹ کر کے حاصل کی جو نو رنز بنا سکے جبکہ اننگز کے دسویں ہی اوور میں عمر گل نے اپنی تیسری وکٹ اوبرائن کو آؤٹ کر کے حاصل کی جو صرف چار رنز ہی بنا سکے۔ گل عمر کی تباہ کن بولنگ کے بعد عماد وسیم نے دو وکٹیں حاصل کر کے آئرش بیٹنگ لائن کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ اس سے پہلے آئرش کپتان ولیم پوٹرفیلڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو پاکستان نے مقررہ 47 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 337 رنز بنائے۔ یہ میچ بارش کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا ہے اور اسے 47 اوورز تک محدود کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کپتان اظہر علی اور شرجیل خان نے اننگز کا آغاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں 17 رنز بنائے۔

مہمان ٹیم کی جانب سے شرجیل خان نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16 چوکوں اور نو چھکوں کی مدد سے 152 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ محمد حفیظ اور شرجیل خان نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 90 رنز کی شراکت قائم کی۔ پاکستان کے آؤٹ ہونے والے بیٹسمینوں میں اظہر علی نے ایک، محمد حفیظ نے 37، بابر اعظم نے 29، شرجیل نے 152 اور سرفراز احمد نے صرف دو رنز بنائے۔ اس میچ کے لیے پاکستان نے حسن علی کو ٹیم میں شامل کیا جو ان کے کیریئر کا پہلا ایک روزہ میچ تھا۔ ان کے علاوہ ٹیم میں تجربہ کار پاکستانی فاسٹ بولر عمر گل بھی شامل ہیں جن کی 16 ماہ کے وقفے کے بعد ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔عمرگل نے اپنا آخری میچ اپریل 2015 میں بنگلہ دیش کے خلاف اس ون ڈے سیریز میں کھیلا تھا جس میں پاکستان کو تین صفر سے شکست ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے برعکس ایک روزہ میچوں میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے اور اسے گذشتہ چار میں سے تین سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر موجود پاکستانی ٹیم کے سر پر ون ڈے طرز کی کرکٹ میں عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہونے کی وجہ سے سنہ 2017 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں شمولیت کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ آٹھویں نمبر پر موجود ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان اس وقت سات پوائنٹس کا فرق ہے اور پاکستان کو اپنی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے نہ صرف آئرلینڈ کو ان دو میچوں میں ہرانا ہوگا بلکہ انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز بھی واضح فرق سے جیتنی ہوگی۔ خیال رہے کہ انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی گذشتہ ون ڈے سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستان اگلے تینوں میچ ہار گیا تھا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق