شعروشاعری

آدمی نامہ۔ نظیر اکبر آبادی سے معذرت کے ساتھ

رموزِ شاد
مونچھیں بڑھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی     داڑھی منڈا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
مرغ جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی     دلیا پکا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
موٹر میں جارہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
پیدل چل رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
دکان بنا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی    اس کو گرا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جو آدمی کا خون پئے سو ہے وہ بھی آدمی     جو پی کے غم کا زہر جئے سوہے وہ بھی آدمی
آنسو بہا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مسکرا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعرے لگا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی    چندہ جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
رشوت کا نوٹ جس نے لئے وہ بھی آدمی     دو روز جس نے فاقے کئے وہ بھی آدمی
صدمے اٹھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
دھومیں مچا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ایک نا مراد زیست سو ہے وہ بھی آدمی     ایک با مراد زیست سو ہے وہ بھی آدمی
ایک زندہ باد ہے سو ہے وہ بھی آدمی      ایک مردہ باد ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ایک بنگلے میں قید سو ہے وہ بھی آدمی
ایک جھونپڑی میں شاد سو ہے وہ بھی آدمی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق