fbpx
تازہ ترین

چترال میں بائی پاس روڈ کی پختگی کے کام کا افتتاح

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ چترال میں کسی بھی سرکاری محکمے کو ترقیاتی پراجیکٹ کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کا مظاہر ہ کرنے اور کام کی معیار پر سمجھوتہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی جس کے لئے ایک مضبوط ومربوط حکمت عملی اور طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے اور اس ضلعے کے اندر کسی بھی پراجیکٹ کو بائی پاس روڈ کی طرح سست روی کا شکار ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ہفتے کے روز چترال میں بائی پاس روڈ کی پختگی کے کام کی افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بائی پاس روڈ کو جدید ترین معیار اور تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور اسے صوبے کی چند ماڈل سڑکوں میں سے ایک بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ اجائے گا جس کے لئے انہوں نے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو ہدایات جاری کردی ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی منظوری میں خصوصی دلچسپی کا مظاہر ہ کرنے پر سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کی کوششوں کو سراہا اور ساتھ ہی چترال سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن سلیم خان نے کہاکہ دو دفعہ مسلسل منتخب ہوکر انہوں نے اس روڈ کی بروقت اور معیار کے ساتھ تکمیل کے لئے کوشش کرتے رہے اور سابق دور حکومت میں صوبائی کابینہ کے ایک رکن کے طور پرانہوں نے اس کے لئے بھر پور جدوجہد کی تھی۔سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن چترال کے ایگزیکٹیو انجینئر مقبول اعظم نے منصوبے کے خدو خال بیان کرتے ہوئے کہاکہ ساڑھے تین کلومیٹر طویل یہ بائی پاس روڈ دو فیزوں پر مشتمل ہے اور فیز ون میں تارکول بچھانے کا کام دس دنوں کے اندر اندر مکمل ہوجائے گاجبکہ فیزٹو اگلے مالی سال کے احتتام تک پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس پراجیکٹ پر 78کروڑ روپے کی کثیر لاگت آرہی ہے۔ اس سے قبل ضلعی ناظم مغفرت شاہ نے اسفالٹ پلانٹ کے ذریعے تارکول بچھانے کے کام کا افتتاح کیا جبکہ سلیم خان ،اے این پی کے صدر مولانا عبداللطیف،سابق صدر اے این پی مظفر حسین جان اور دیگر معزیزین علاقہ بھی موجود تھے۔ دریں اثناء عوامی و سماجی حلقوں نے بائی پاس کی اس پراجیکٹ پر اپنے چارج لینے کے فوراً بعد کام کا آغاز کرنے پر ایکسین سی اینڈڈبلیو مقبول اعظم کی کارکردگی کی تعریف کی ہے – See more at:

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق