fbpx
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیعالمی حالات

داد بید اد…3 سالہ شامی بچہ ایلا ن شہید

ایلان 3 سالہ شامی بچہ تھا پناہ گزینوں کی کشتی ڈوبنے سے شہید ہواکشتی اس لئے ڈوبی کہ کوئی ملک شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے لئے تیار نہیں اگر کسی ملک نے شامی پناہ گزینوں کو پناہ دیا تو عالمی برادری کے ترقی یا فتہ ،مہذب اور جمہوریت پسند یا آزادی کے دلدادہ کہلانے والی قومیں اُس ملک پر حملہ کرینگی شام کے لوگ گذشتہ 6 سالوں سے عالمی برادری کے حملوں کی زدمیں ہیں عراق ، افغانستان اورلیبیا پر قبضے کے بعد عالمی برادری شام ، ایران پاکستان اور یمن پر قبضہ کر نا چاہتی ہے شام مزاحمت کر رہی ہے ایران معاہد ہ کرنے اپنی سرحدوں کو عالمی برادری کے حملوں سے محفوظ کر لیا ہے پاکستان اور یمن کے خلاف عالمی برادری کی جنگ جاری ہے 3 سالہ شامی بچہ ایلان اس جنگ کے لاکھوں شہیدوں میں سے ایک ہے 3 سالہ ایلان کی لاش ترکی کی ساحلی علاقے میں ریت پر اس حالت میں ملی کہ وہ اوندھے منہ گرا پڑا تھا اس کی ماں اور بھائی کی لاشیں قریب ہی پڑی تھی اس حادثے میں اس کا بدقسمت باپ زندہ بچ گیا لاشوں کو واپس شام لاکر کوبانی (Kobani) کے اُس قبرستان میں دفن کیا گیا جو شہداء کیلئے مخصوص ہے کسی بھی گھر میں 3 سالہ بچے کو دیکھ لیں اور تصور کریں کہ یہ ایلان ہے اقوام متحدہ اس کا دشمن ہے امریکہ اس کا دشمن ہے برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ترکی او رسعودی عرب اس بچے کے بڑے دشمنوں میں شمار ہوتے ہیں ایک اخبار نے سرخی جمائی کہ عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے والے بچے کی لاش ریت پر پڑی تھی ایک اور اخبار نے سرخی لگائی ، 3 سالہ ایلان کی شہادت نے عالمی ضمیر کو بیدار کر دیا ایک اخبار کی سرخی تھی ، 3 سالہ ایلا ن کی شہادت نے عالمی ضمیر کو جگا دیا برطانیہ نے شامی پناہ گزنیوں کو پناہ دینے کا اعلان کیا ان میں سے کوئی بھی سرخی حقیقت حال کی عکاسی نہیں کرتی عالمی ضمیر نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی نہ عالمی ضمیر سورہی ہے نہ جاگ سکتی ہے عالمی ضمیر مردہ ہوچکی ہے مرچکی ہے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کو آپ عالمی ضمیر کی قبر کہہ سکتے ہیں اور حقیقت میں اقوام متحدہ عالمی ضمیر کا قبرستان بن چکا ہے اکسیویں صدی میں بجلی ، کمپیوٹر ،انٹر نیٹ ،سیل فون ، خلائی تحقیق اور ٹیلی وژن چینلوں نے دنیا کو ’’جام جم ‘‘ میں سمیٹ لیا ہے پوری دنیا ایک مٹھی میں آگئی ہیں لیکن تہذیب کلچر اور انسانی حقوق کے معاملے میں ہم 800 سال پیچھے کی طرف واپس جاچکے ہیں جب چنگیز خان اور ہلا کو خان کے حملوں کا غلغلہ تھا یہ بارھویں اور تیرھویں صدی کے واقعات تھے اُن کے پاس بم نہیں تھے نیز ، تیر کمان اور تلواریں تھیں ،خنجر تھے اور چھریاں تھیں شام کی جنگ 2010 ء میں شروع ہوئی جنگ کا آغاز اچانک نہیں ہوا امریکہ ،برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ،ترکی اور سعودی عرب نے بلجیم کے شہر برسلز ، فرانس کے شہر پیرس اور برطانیہ کے شہر لندن میں چار میٹنگوں کے بعد فیصلہ کیا کہ شام پر حملے کے لئے بین لا قوامی فوج بھیجی جائیگی اس فوج کو پیسہ تما م ممالک مل کر فراہم کرینگی ابتدائی طور پر سعو دی عرب نے فنڈ فراہم کئے بین الاقوامی فوج نے شام پر حملہ کیا عالمی طاقتوں کا خیال تھا کہ ہم 3 ماہ کے اندر دمشق ، موصل ، کوفہ اور دیگر شہروں پر قبضہ کر ینگے لیکن شام کے بہادر عوام نے مزاحمت کی دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوا 3 ماہ بعد عالمی طاقتوں نے پھر میٹنگیں بلائیں ترکی ، اردن ، متحدہ عرب امارات ، کویت اور سعودی عرب میں دہشت گر دوں کی تربیت کے لئے خصوصی کیمپ قائم کر نے کی منظور ی دیدی گئی یہ سب کچھ اخبارات میں آیا ٹیلی وژن چینلوں نے دکھا یا چنگیز خان کے دور میں یہ سہولتیں نہیں تھیں 6 مہینوں کی جنگ کے بعد شامی اپنے گھروں سے نکلنے لگے پڑوسی ممالک نے ابتدائی دنوں میں ان کو پناہ دیکر شام کے خلاف پروپیگینڈے کے لئے پناہ گزنیوں کو استعمال کیا جب پروپیگینڈا کا میاب نہیں ہوا تو امریکہ اور اقوام متحدہ نے کہا کہ شامیوں کو پناہ نہ دو اب کوئی ملک ان کو پناہ دینے پر امادہ نہیں ایلان کی عمر کے بچے کشتیوں میں پناہ ڈھونڈتے ہوئے موت کی آغوش میں ہی پناہ لیتے ہیں چنگیز خان کے دور کا مشہور واقعہ تاریخ کی کتابوں میں آیا ہے چنگیز خان سے پوچھا گیا ’’کبھی تمہیں کسی مظلوم پر رحم اور ترس بھی آیا ہے یا نہیں ؟ چنگیز خان نے کہا ، ایک بار مجھے 3 سال کے بچے پر ترس آیا جب میرا گھو ڑا سرپٹ دوڑتے ہوئے قریب آیا تو اس کی ماں بچے کو اٹھا کر چٹان پر چڑھنے لگی بچہ نیچے گرا ماں کی چیخ نکل گئی مجھے بچے پر بہت ترس آیا میں نے اپنا نیز ہ اس کے سینے میں پیوست کیا اور ماں کی طرف پھینکتے ہوئے کہا یہ لو ، اپنا بچہ گود میں لے لو آج کا عالمی ضمیر چنگیز خان کے ضمیر سے ملتا جلتا ضمیر ہے چنگیز خان بھی انسان کو پتھر ،لکڑی اور مٹی کی طرح بے جان چیز سمجھ کر انسانی جانوں سے کھیلتا تھا آج کی عالمی طاقتیں بھی یہی کچھ کرتی ہیں شام پر 10 ملکوں نے حملہ کیا ہے یمن پر حملہ کر نے والوں کی تعداد 10 اور پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے ملکوں کی تعداد 4 ہے القاعدہ بھی دشمن کی فوج کا حصہ ہے داعش بھی دشمن کی فوج کا ہرا ول دستہ ہے 3 سالہ ایلان کی شہادت سے عالمی ضمیر دوبارہ زندہ نہیں ہوگا 2006 ء میں بیروت کے ہسپتال میں38 معصوم بچوں کو شہید کیا گیا عالمی ضمیر زندہ نہیں ہوا 2010 ء میں افغانستان میں گلی کے اندر کھیلتے ہوئے 19 بچوں کو راکٹ حملے میں ماراگیا عالمی ضمیر زندہ نہیں ہوا عالمی ضمیر کو زندہ کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ ؑ کے معجز ے کی ضرورت ہے عیسیٰ ؑ ابن مریم علیہ السلام اگر ضمیر کی قبر پر آکر کہنگے ’’ قم باذن اللہ ‘‘ تو شاید عالمی ضمیر زندہ ہونگے مگر وہ قیامت کی گھڑی ہوگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق