Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

داد بیداد …..سیلاب اور حکومت کا امتحان

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ…..
کوئی بھی قدرتی آفت حکومت کے لئے امتحان ہوتی ہے اگر حکومت لوگوں کو مصیبت اور تکلیف کی گھڑی میں امداد اور راحت فراہم کر ے تو امتحان میں سرخرو ہوتی ہے لوگوں کی مدد نہ کرسکے تو ناکام کہلاتی ہے 2013 ء کے سیلاب میں ہماری حکومت لوگوں کو سہارا دینے میں ناکام ہوئی تھی 2015 ء کے سیلاب میں پھر ناکام ہوگئی ہے 2015 ؁ء کے سیلاب میں 6 اضلاع متاثر ہوئے سب سے زیادہ اموات چترال میں ہوئیں 36 شہری لقمہ اجل بنے 700 گھرانوں کو کلی نقصان پہنچا 2000 گھرانے جزوی طور پر متاثر ہوئے سڑکوں ،پلوں نہروں اور پائپ لائنوں کے ٹوٹنے سے 3 لاکھ کی آبادی دوتحصیلوں اور 1 2 یونین کونسلوں میں متاثر ہوئی 15 جولائی کو سیلاب آیا 15 ستمبر کو سیلاب گذارنے کے دو مہینے پورے ہو رہے ہیں آرمی چیف ، کورکمانڈر اور جی او سی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ نے متاثر ہ علاقوں کا دورہ کیا عمران خان نے بھی متاثر ہ علاقون کادورہ کیا دو مہینوں میں موڑکھو کی 3 یونین کونسلوں کے اندر 60 ہزار کی آبادی کیلئے زمینی راستہ بحال نہیں ہوا حالانکہ یہ 15 دنوں میں بحال ہوسکتا تھا کوشٹ اور مژگول کے دو پل ہنگامی بنیادوں پر تعمیر ہوسکتے تھے پاک فوج کر ایے پر پُل دے سکتی ہے بروز ، دنین اور ریشن میں یہ پل موجود ہیں متاثرین سیلاب کی فوری ضرورتوں میں ایک اہم ضرورت تین کمروں کے مکان کی تھی تاکہ سردی کا موسم آنے سے پہلے ان کے سر پر چھت کی سہولت میسر ہو حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی مرنے والوں کی لواحقین کی دلجوئی کرنا ضروری تھا حکومت نے دو مہینے گذرنے کے باوجود کوئی اعزازیہ ادا نہ کیا مرنے والوں کے لواحقین کا حال نہیں پوچھا فصلوں کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا تھا حکومت نے دو مہینے گذرنے کے باوجود فصلوں اور باغات کے نقصانات کا معاوضہ ادا نہیں کیا سیلاب زدہ ضلع کے لئے تمام سودی قرضوں کو معاف کر نے کا پیکج دینا تھا اب تک سودی قرضوں کی مُعافی کا پیکج نہیں دیا گیاگندم کی قیمت میں 50 فیصد سبسڈی دینا چاہیے تھا دو مہینے گذرنے کے باوجود اس کا اعلان نہیں ہوا خیبر پختونخوا اسمبلی نے قرار داد بھی منظور کی مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی سڑکیں موت کا کنواں بن چکی ہیں چترال ٹاؤں کے اندر چار مقامات پر سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں جہاں سے سکولوں کے بچوں اور بچیوں کی بسیں گذارتی ہیں دو مہینے گذرنے کے باوجود ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی معمولی مرمت پر توجہ نہیں دی گئی شاید حکومت کو کسی بڑے حادثے کا انتظار ہے حالانکہ ایسی ٹوٹی سڑکوں کی معمولی مرمت میں ایک ہفتہ بھی نہیں لگتا دولو موس روڈ کو سکول کی سڑک کہہ کر نظر انداز کیا جاتاہے گرم چشمہ روڈ کو سی انیڈ ڈبلیو کی سڑک کہہ کر ٹھکر ادیا جاتا ہے شاڈوک روڈ کو این ایچ اے کی سڑک کہہ کر نظر وں سے گرایا جاتاہے کوراغ گول کو تحصیل مستوج کہہ کر مسترد کیا جاتاہے ہے کوئی مرکزی کنٹرول روم نہیں ہے شکایات سُننے کا کوئی دفتر نہیں ہے اگر ایک مسافر گلگت سے چترال کی طرف بس میں سفر کرتاہے تو وہ محسوس کرتاہے کہ لنگر کے مقام پر چترال کی حدود میں داخل ہونے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی کارگردگی کے باعث ٹوٹی ہوئی سڑک ملتی ہے جولائی کے مہینے میں سیلاب نے جہاں جہاں سڑک کو متاثر کیا وہ اُسی حالت میں پڑی ہے گلگت بلتستان کی حکومت جنرل مشرف کی بنائی ہوئی کچی سڑک پر روزانہ بس سروس چلاتی ہے خیبر پختونخوا کی حکومت سڑک کی دیکھ بھال کر کے اس کو بس چلنے کے قابل نہیں بنا سکتی 48 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بس لنگر سے مستوج پہنچتی ہے اور اس مختصر راستے باربار سواریوں کو اتار کر بس کو گذار نا پڑتا ہے صحافیوں کے ایک گروپ نے جگہ جگہ خیموں میں مقیم سیلاب زدگان سے ملاقات کی حال احوال پوچھا تو معلوم ہوا کہ کہ ایک خیمہ ، 5 کلو آٹا ، 5 کلو گھی اور چینی جولائی کے مہینے میں ملا تھا اس کے بعد کچھ بھی نہیں ملا 8000 فٹ سے اوپر جو مقامات ہیں وہاں سردی کا موسم شروع ہوا ہے سیلاب زدگان کے سروں پر کوئی چھت نہیں ہے بجلی گھروں کو جو نقصان پہنچا ہے اُس کے ازالے کی کوئی صورت نظر نہیںآتی ایک فصل ضائع ہوگئی کھیتوں سے ملبہ ہٹا کر ان کو اگلی فصل کے لئے قابل کاشت بنانے یا متبادل جگہ فراہم کرنے کی کوئی تدبیر سامنے نہیں آئی ایسی بیوہ عورتیں ملیں ،ایسے یتیم بچے ملے جنکی فصل سیلاب برد ہوگئی ایک پاؤ غلہ اور ایک سیر بھوسہ ہاتھ نہیں آیا رہنے کی جگہ نہیں ہے فرار کاراستہ نہیں ہے بمبوریت ،گرم چشمہ ،شور غور ،گرین لشٹ ،سہت، پھر گام ،مژگول ،گشٹ ،بالیم اور اجنوجیسے 38 دیہات میں متاثرین حکومت کی طرف سے ریلیف او ر بحال کے منتظر ہیں قدرتی آفت کے اس بڑے امتحان میں حکومت کی پوری مشینری نا کام ہوچکی ہے اور یہ نہ کامی سڑک سے لیکر، بجلی گھر تک ،آب پاشی کی سکیم سے لیکر آبنوشی کی سکیم تک قدم قدم پر نظر آرہی ہے کور کمانڈر لفٹننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور جی او سی سوات میجر جنرل نادر خان کو ہنگامی بنیادوں پر سیلا ب زدگان کے مسائل حل کر نے کی طرف توجہ دینی چاہیے کوئی دوسرا دفتر ، ادارہ یاافسر ایسا نظر نہیں آتا جو مظلوم اور آفت زدہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے میں دلچسپی لے سکتے ہوں ۔

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔