کمرشل اشتہارات/ اعلانات
صفحہ اول | مضامین | ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی | داد بید اد ….واپڈا کا قبلہ

داد بید اد ….واپڈا کا قبلہ

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے صوبائی گو رنر اور اپوزیشن پارٹیوں کو ساتھ لیکر واپڈا کا قبلہ درست کر نے کا فیصلہ کیا ہے اسلام آباد میں نیپرا کی کھلی کچہری میں وزیر اعلیٰ نے بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کے حوالے سے صوبائی حکومت کا موقف پیش کیا واپڈا بجلی کے خالص منافع میں صوبائی حکومت کے حصے میں 10 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر نے کے بجائے 12 پیسے فی یونٹ کمی کر رہا ہے اسوقت مقر رہ ریٹ ایک روپیہ 22 پیسہ فی یونٹ ہے 2015 ء میں اس کو ایک روپیہ 32 پیسہ فی یونٹ ہو نا چاہیے مگر واپڈا اس میں 10 پیسے کی کمی کر کے ایک روپیہ 10 لگانا چاہتا ہے واپڈا کے ذمے ایک سو چھیا لیس ارب 146 ارب روپے کے بقایاجات ہیں جن کی ادائیگی میں تاخیر ی حربے استعمال کئے جاتے ہیں اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں گورنر سردار مہتاب احمد خان نے بھی شرکت کی سپیکر اسد قیصر اور پارلیمانی لیڈروں کو بلایا گیا اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن بھی اجلاس میں شریک ہوئے اجلاس کے بعد سب کا مینڈیٹ لیکر وزیراعلیٰ نیپرا کی کھلی سماعت میں صوبے کا مقدمہ لیکر گئے اگر چہ وزیراعلیٰ نے واپڈا کا قبلہ درست کر نے کی بات کی ہے لیکن واپڈا کی دو بنیادی خر ابیاں ہیں یہ خرابیاں دور نہیں ہونگی پہلی خرابی یہ ہے کہ واپڈا ایک صوبے کاادارہ ہے باقی ملک کے ساتھ اس کا رویہ سوتیلی ماں جیسا ہے دوسری خرابی یہ ہے کہ واپڈا کے اندر ملازمین اور مفت خوروں کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے واپڈا کی آمدن کا 70 فیصد کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے ان دو خرابیوں کا جب تک آزالہ نہیں ہوگا واپڈا کا قبلہ کبھی درست نہیں ہوگا بجلی کے خالص منافع میں صوبے کا حصہ اے جی این قاضی کے وضع کردہ فارمولے کے اندر طے ہوا ہے متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں ثالثی کمیشن نے بھی اس حوالے سے صوبائی حقوق کاتعین کیا ہے خیبر پختونخوا کا حصہ 6 ارب روپے سے 3گُنا بڑ ھ کر اب 18 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے لیکن واپڈا اس کی ادائیگی میں تاخیر کر کے صوبے کو قابل تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے حکومت میںآنے سے پہلے میاں نواز شریف نے واپڈا ، پی آئی اے ، پاکستان سٹیل ملز اور دیگر اداروں کی نجکاری کا وعدہ کیا تھا اگر گذشتہ دوسالوں کے اندر واپڈا کے 55 فیصد حصص کسی پر ائیویٹ سرمایہ کار کے ہاتھ فروخت کر دئیے جاتے تو اس کے تین بڑے فائدے ہوتے پہلا فائد ہ یہ ہوتا کہ کرپشن ختم ہو جاتا بڑے ڈیموں پر کام شروع ہوتا دوسرا فائدہ یہ ہوتا کہ خیبر پختونخوا کو اس کے تمام بقایاجات مل جاتے اورتیسرا فائد ہ یہ ہوتا کہ نجی تحویل میں جانے کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہوجاتی بجلی کی پید اوار اور تقسیم کا سسٹم درست ہوجاتاہے اسوقت بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ ہے اور 4 ہزار میگا واٹ بجلی وہ ہے جو واپڈا والوں کی مہربانی سے چوری ہوجاتی ہے واپڈا کے افیسروں نے نجکاری کے خلاف ہائیڈرو الیکڑک یونین کو اس لئے میدان میں اتارا ہے کہ واپڈا ہاؤس لاہور کا تخت وتاج سلامت رہے چےئر مین واپڈا ، ممبر پاور اور جنرل منیجر وں کی بادشاہی ’’ پائیند ہ وتابند ہ باد ‘‘ کی چھتری نصیب ہو پاکستان لُٹ جائے عوام کی جیب کٹ جائے لوڈشیڈنگ کا عذاب ٹلنے کا نام نہ لے خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع میں حصہ کی ایک پائی نہ ملے چند افیسروں کا موج میلہ جاری رہے اگر ہماری صوبائی حکومتیں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کر ناچاہتی ہیں بجلی کے خالص منافع میں خیبر پختونخوا کا حصہ ادا کر وانا چاہتی ہیں اور اگر مستقبل میں بڑے بڑے ڈیموں کے ذریعے پاکستان کو پانی اور بجلی کے معاملے میں خودکفیل دیکھنا چاہتی ہوں توصوبائی اسمبلیوں میں واپڈا کی نجکاری کے لئے قرار دادیں منظور کروائیں مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلاکر واپڈا کی نجکاری کو اس میں زیر بحث لائیں حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کو واپڈا کی نجکاری کے لئے متفقہ طور پر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قرار داریں منظور کر نی چا ہئیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو واپڈا کی جلداز جلد نجکاری میں اپنا مثبت اور فیصلہ کن کردار ادا کر نا چاہیے واپڈا کا قبلہ گذشتہ 60 سالوں کی کرپشن کی وجہ سے بہت زیادہ بگڑچکا ہے جب تک واپڈا کا انتظار کسی سیٹھ ساہوکار کے حوالے نہیں ہوگا تب تک اس کا قبلہ درست نہیں ہوگا یہ ایسا قبلہ نہیں جو بیٹھے بٹھائے درست ہوسکتا ہے
نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میر ے آزمائے ہوئے ہیں

نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میر ے آزمائے ہوئے ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ خبر بھی پڑھیں

صدا بصحرا ….جانبداری کا عذاب

جج کہتا ہے مجھے متنازعہ نہ بناؤ ورنہ کچھ بھی نہیں بچے گا جرنیل کہتا …

اترك تعليقاً