fbpx
تازہ ترین

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے جو ڈیشل کمپلکس بلڈنگ چترال کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے بدھ کے روز چترال کے علاقے جغور میں جو ڈیشل کمپلکس بلڈنگ کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کیا یہ بلڈنگ محکمہ ورکس اینڈ سروسز چترال کے زیر نگرانی عرصہ تین سال میں مکمل ہوگاجس پر 930 ملین روپے لاگت ائے گی اس موقع پر محکمہ ورکس اینڈ سروسز چترال کے ایکسن انجینئر مقبول اعظم نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو تفصیلی بریفینگ دی چیف جسٹس کو بتایا گیاکہ جوڈشل کمپلیکس تین منزلہ بلڈنگ ہوگی جوکہ چترال کے مخصوص جغرافیائی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر کی جائے گی ۔ کمپلیکس کے اندر سایلین ،ججز اور وکلاء کیلئے تمام تر جدید سہولیات میسر ہوں گے اس مقصد کیلئے 40 کنال زمین پہلے سے خریدی گئی ہے جبکہ مزید 4 کنال زمین عنقریب خریدی جائے گی۔جوڈیشل کمپلیکس کے اند ہائی کورٹ سرکٹ بنج چترال کی بلڈنگ بار رومز ججز کیلئے رہائشی مکانات سائیلین کیلئے جدید سہولیات سے میسر انتظار گاہ ،لائیبری ، یوٹیلٹی سٹور بھی تعمیر کیا جائے گا۔جبکہ بلڈنگ کے اندر بینک کیلئے بھی ایک جگہ مختص کی گئی ہے ۔جوڈشل کمپلکس کا ٹھیکہ اے سی ای کنسلٹنٹ لاہور کو دیا گیاہے ۔جبکہ اس کی نگرانی محکمہ ورکس اینڈ سروسز چترال کرے گی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس چترال کے عوام کی سہولیات کیلئے تعمیر کی جاری ہے جو کہ تعمیر کے لحاظ سے اعلی معیار کا ضامن ہوگاانہوں نے کنسٹرکشن کمپنی کو تنبیہ کی کہ تعمیراتی کام میں کوئی کمی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے تحصیل ایڈمنسٹریشن چترال کو ہدایات جاری کی ہے کہ جوڈشل کمپلیکس کی تعمیر کے بعد ویسٹیجز کو دریائے چترال میں پھینکنے کے بجائے انہیں ضائع کرنے کا معقول بندوبست کیا جائے ۔تاکہ دریا چترال کا پانی آلودہ نہ ہواس سے پہلے چیف جسٹس نے باقاعدہ فیتہ کاٹ کر تعمیراتی کام کا افتتاح کیا۔اس مو قع پر ڈپٹی کمشنر چترال آمین الحق ،ڈی پی او چترال عباس مجید مروت ،تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس ،ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن جج چترال احمد سلطان ترین ،سول ججز ، ڈسٹرٹ بار چترال کے صدر صاحب نادر خان ایڈوکیٹ اور وکلاء کی بڑی تعداد مو جود تھی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق