Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

ماتحت عدلیہ مقدمات کو غیر ضروری طور پر طول دینے سے احتراز کریں۔ چیف جسٹس آف پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم میاں خیل

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چیف جسٹس آف پشاور ہائی کورٹ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا ہے کہ بینچ اور بار کا مشترکہ مقصد سائلین کو ان کے دہلیز پر سہولیات اور انصاف کی فراہمی ہے تاکہ معاشرے میں ہر ایک کو انصاف کے حصول میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو اور اسی مقصد کے لئے جوڈیشری نے وسائل کی فراہمی پر توجہ مرکوز کردی ہے تاکہ سہولیات کی تعداد میں اضافہ ہواور چترال میں کثیر رقم خرچ کرکے جدید سہولیات سے آراستہ جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح بھی اسی مقصد کا ایک حصہ ہے۔ جمعرات کے روز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطا ب کرتے ہوئے انہوں نے ماتحت عدلیہ پر زور دیا کہ وہ مقدمات کو غیر ضروری طور پر طول دینے سے احتراز کریں جس سے انصاف کا حصول مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ جوڈیشل نظام پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے بونی اور دروش کے مقامات پر بھی جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے موقع پر موجود پشاور ہائی کورٹ کے ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی کو حکم دیا کہ وہ اس کی فیزیبلٹی رپورٹ جلد از جلد پیش کرے ۔ انہو ں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں ججوں کی کمی ہے اور اس کمی کے پورا ہونے کے بعد چترال میں ہائی کورٹ کے سرکٹ کورٹ میں ذیادہ سے ذیادہ دن مختص کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سول ججوں کی 118خالی اسامیوں میں امیدواروں کی چناؤ کے لئے پبلک سروس کمیشن کو بھیجے جارہے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے زیر اہتمام ایڈیشنل سیشن ججوں کی اسامیاں بھی پر کی جارہی ہیں جس کے بعد مقدمات کو نمٹانے کا عمل تیز تر ہوجائے گا۔ انہوں نے مقامی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے پیش کردہ سپاسنامہ کا جواب دیتے ہوئے ضلعے میں بنکنگ کورٹ، انٹی کرپشن کورٹ سمیت دوسرے خصوصی عدالتوں کے قیام کے لئے متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ قانون کی کتابوں کی اشاعت پر پابندی اٹھنے کے بعد چترال بار کو ذیادہ سے ذیادہ کتب فراہم کئے جائیں گے۔ اس سے قبل بار کونسل کے رکن عبدالولی خان ایڈوکیٹ ، ڈسٹرکٹ بار کے صدر صاحب نادر ایڈوکیٹ اور جنرل سیکرٹری ساجد اللہ ساجد ایڈوکیٹ نے خطاب کیا اور چترال میں وکلاء برادری اور سائلین کے مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔ ڈسٹرکٹ کچہر ی پہنچنے پر پولیس کا ایک چاق وچوبند دستے نے چیف جسٹس کو سلامی دی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔