fbpx
مضامین

چترال میں بلدیاتی الیکشن اور تاجِ نظامت!…ظفر اللہ پروازؔ بونی۔

ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

 

ہر سمت پریشان تیری امد کے قرینے
خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی الیکشن تمام صوبے کی طرح ضلع چترال میں بھی صوبائی حکمران جماعت پی۔ٹی۔ائی کی زیرِ قیادت اختتام پذیر ہوا۔گمان غالب تھی کہ حالیہ الیکشن صوبائی حکومت کی دعویٰ اور منشور کے مطابق شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دوسرے صوبوں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہوگی۔لیکن سب کی امیدیں زیرِ خاک اس وقت ہوئی جب عوام، چترال کو سارے پولینگ اسٹیشنوں میں منڈی کا منظر دیکھائی دیا اور تمام پولینگ میں بے ضابط گی ،لا قانونیت اور نا تجربہ کار اسٹاف سے پہلی بار واسطہ پڑا۔ اگر اس الیکشن کو جنرل ضیا کی دورِ امریت میں ہونے والی ریفرنڈم سے کسی طرح موازنہ کیا جائے تو اس وقت کے فوجی آمریت کے الیکشن کا توہین سمجھا جائے گا ۔صرف فرق اتنا کہ اس وقت صرف ایک ڈکٹیٹر کو مردِ مومن سے امیر المومنین بنانا تھا جبکہ موجودہ کپتان الیکشن میں ہر گلی کوچے سے لا تعداد امیر المونین اور ترقی پسند میدان میں سر بکف تھے۔دوسری فرق اس وقت کے ریفرنڈم میں تمام پولینگ اسٹیشنوں میں ایک ہی وقت ووٹ ڈالنے کے لیے مقررتھا جبکہ موجودا الیکشن میں چند پولینگ اسٹیشنوں میں وقت سے پہلے ووٹ ڈالنا بند اور اکثر میں صبح صادق تک سلسلہِ ووٹ جاری بلا مداخلت رہی۔تیسری فرق اس وقت ریفرنڈم میں عملہ کی کمی نہ تھی جبکہ موجودہ پولینگ اسٹیشنوں کے بھوت عوام از خود سنبھال کر پرچی فیاضی سے تقسیم کر رہے تھے ۔یہ عمل نہ ہوتا تو ووٹ کاسٹ کرنے کی رفتار مسلسل کئی دنوں تک جاری رہتا یا لوگ حقِ رائے دہی سے محروم ہو جاتے۔جب ان بے قاعد گیوں کے خلاف جمہوری طریقے سے پشاور میں صدائے احتجاج بلند ہوئی تو حکمرانِ وقت کی بارگاہ میں نعرہ مستانہ ثابت ہوا اور تمام غیر قانونی،بے ترتیبی اور دنگا و فساد کے الزاماات کو کپتان صاحب ملامت کے بجائے نو بال قرار دیکر زمہ داری تمام الیکشن کمیشن کے ناتواں کندہوں پر ڈال کر راہِ فرار اختیار کرکے لا تعلقی کا بر ملا اظہار کر دیا اور بری الذمہ ہوا۔
ضلع چترال میں عوام کا اس بات سے کوئی سروکار یا واسطہ نہیں اور نہیں کوئی افسوس اور پرواہ ہے کہ الیکشن میں بد نظمی ہوئی، دھاندلی ہوئی یا ہاتھ کی صفائی ہوئی ۔کس کی جیت یا ہار ہوئی۔مگر صد افسوس اس بات پر ہوئی کہ اگر صوبہ میں خدا نخواستہ پی۔ٹی۔ائی کے بجا ئے کسی بھی دوسری پارٹی کی قیادت میں اس قسم کی الیکشن ہوتی تو چترال کا ہر پیرو جوان بلا امتیازِ وابستگیِ پارٹی جنہیں اسلام آبادکے پُر مسرت دھرنے میں شامل نہ ہونے کی رنج دیمک کی طرح کھا رہی تھی وہ ضرور بہ ضرور ۱۰۰ کام چھوڑ کر عبادتِ الہیٰ سے منہ موڑ کر کپتان صاحب کی صحبتِ دھرنا میں اسلام آباد نہ سہی کے۔پی۔کے کے کسی پُر فضا مقام میں مخلوط مجلسِ دھرنے کا کفارہ ادا کرتے اور چترالی غلیل(ژی چھنجور) سے صاحب، اقتدار اور ان کے حواریوں پر کنکر برساتے،ذمہ دار پارٹی پر کیچڑ اچھالتے۔۔۔ گلی کوچوں میں بے آبرو کرکے ایسا پھراتے کہ ائیندہ ووٹ تو درکنار کے۔پی۔کے کے کسی ہوٹل میں نوٹ کے عوض بھی پیالہ قہوہ کو تا حیات ترس جاتے لیکن افسوس کہ ؂ واں تک نہ بار پایا۔
اگر چہ اس شہرِ نا پُرسان الیکشن کے نتیجے میں جیتی ہوئی کثیر طالع ازما اپنے آپ کو ضلع چترال کی نظامت کے لیے واحد و بلا شرکتِ غیرے امیدوار وا حقدار سمجھتے تھے لیکن ان سب کی تمنائیں صرف آرزوں تک ہی محدود ارہی مگر خود اتحادی پارٹی سے ہی دو بندے اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے میدان میں اترے۔جو الیکش سے پہلے ہی حفظِ ما تقدم کے طور پر اپس میں تمام رنجشیں ختم کرکے بحیثت دو مذہبی و دینی جماعتیں اپنے مطابق تمام طاغوتی اور باطل پارٹیوں کے خلاف ایک ہی تسبیح کے دانے بن کر ایک دفعہ پھر چترال کی حد تک ووٹ کے لیے باہمی اتفاق قائم کیے تھے اور دوسری طاغوتی قوتوں کے خلاف فولاد اور ۔۔۔ باہمی طور پر شعر علامہ اقبال کے عین مطابق حلقہِ یاراں میں ریشم کی طرح نرم ہوکر چند ماہ تک شیرو شکر رہے ۔عوام کے ساتھ ساتھ روحِ اقبال کو بھی خوش کیا ۔ دونوں نے گرتے ہوئے دیواروں کو ایک جگہ اور دینے کا عہد کیا ۔لمبی لمبی روح پر ور دعاوں سے سب کو مغمور کیا ۔علم عقل کے سمندر میں بھٹکتی ہوئی مچھلیوں کو پھر سے جگایا اور متحد کیے اور الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی ۔
کافی انتظار کے بعد جیتی ہوئی ممبران کی رسمِ سوگندھی کے بعدہی اس عظیم اتحاد کو کسی کی نظر لگ گئی اور دونوں منتشر ہو کر اپنے اپنے مورچے سے حصولِ نظامت کے لیے صف بندی شروع کر دی جبکہ دوسرے پارٹی اور سربراہاں بوجہ عدم دستیابیِ مقتدیاں بے وضو ہی قناعت کی راہ اختیار کی اور عقابی شان سے جو۔۔۔ بیٹھے تھے وہ بھی بے بال و پر نکلے آخر میدان میں وہی رہ گئے۔ وہی اتحادی پارٹیوں کے دو طالع ازما ایک مولانا عبد الر حمن جے۔یو۔ائی دوسرا حاجی معفرت شاہ جے۔ائی دونوں کے درمیان ؂ امتحان عشق کی تدبیر بِسم اللہ شروع ہو کر دونوں کے سامنے چند ماہ قبل بنی ہوئی اتحادِ فولادی، تارِ عنکبوت ثابت ہوئی ۔تاجِ نظامت کی اکثریتی ووٹ آخر کار حاجی معفرت شاہ کے حصے میں آئی ۔پھر دونوں پارٹی، دونوں جماعت ایک ندی کے دو کنارے ملنے پر مجبور رہے۔دونوں امیدوار اس سے پہلے ضلعی نظامت اور دوسرا مجلسِ عمل کے پلٹ فارم سے ایم۔پی۔اے بننے کا شرف حاصل کر چکے تھے ۔دونوں امیدواروں میں دلچسپ قدر مشترک بات یوں ہے کہ دونوں کا مقا بلہ چترال میں معروف سماجی و سیاسی شخصیت عبد الولی خان کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی اور انتحابی معرکہ حاصل کرنے کی شہرت مل چکی تھی۔اگرچہ وکیل موصوف اور مولانا عبد الر حمٰن با ہم قریبی براداری سے منسلک ہیں ۔۔۔ لیکن گذشتہ دور میں برنس اور کوہ کے حلقے سے عبد الولی خان صاحب اپنی تمام صلاحیتوں اور عوامی شہرت کے با وجود ان مقامات میں عبد الرحمن کا مقا بلہ صرف اور صرف بے ریش سپاہی ہونے کی بناپر نہیں کر سکا اور اسی کامیابی کی بدولت مولانا صاحب کو شہرت اور مقبولیت مل گئی ۔اور اپنے حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کام بھی انجام دیے۔۔۔یہ مشکل ہے کہ اُخروی طور پر اپنے ووٹروں کے لیے کیا حاصل کیا یہ تو اللہ کو معلوم ہے ۔خصوصاً پُلِ صراط کی گزر گاہ بعد از مرگ کے لیے کیا کیا دعائیں دی ہیں ان کے بدولت بندہ گان کے لیے یہ پُلِ صراط کس طرح ہوگی اس بارے کچھ قیاس کرنے کے لیے بوجہ کم علمی عاجز ہوں البتہ برنس والا پُل جو ہم سب کا گزر گاہ ہے موصوف اپنے دورِ اقتدار میں درست اور صحیح بنانے کا راقم چشم دید گواہ ہے۔ اس کے اقتدار سے پہلے جب کوئی گاڑی پل برنس میں وارد ہوتی تو اسکی بے ہنگام آواز سے نہ صرف سواریوں کو بلکہ آس پاس رہائشیوں کے لیے بھی نا قابلِ سماعت تھی ۔لیکن اب وہ نہیں یہ صرف مولانا صاحب کے کاوشوں کا ثمر ہے جو عوام کو مجلسِ عمل اور مولانا صاحب کی یاد اپنی قیام تک دلاتی رہی گی بشرطیکہ برنس گول سے بڑی سیلاب نہ گزرے۔ موجود بلدیاتی الیکشن میں عبدالولی خان صاحب اور حاجی مغفرت شاہ ایک دوسرے کے مد مقابل امیدوار تھے ۔جو سب کے توجہ کا مرکز اور دلچسپ مقابلہ تھا مگر عبد الولی صاحب کا پی۔ٹی۔ائی کے پلٹ فارم سے الیکشن لڑنا حاجی صاحب کے حق میں ووٹ لینے کے لیے آسانی پیدا کی کیونکہ وکیل صاحب کے زیادہ ووٹرزمعاملہ فہم لوگوں پر مشتمل تھی جو کپتان صاحب کے ٹکٹ کی بدولت مجبوراً حاجی مغفرت شاہ کے جولی میں گئی ۔اگر چہ چترال میں اکثریت کچھ عرصہ قبل پی۔ٹی۔ائی کے کرپشن کے خاتمے کی آواز پر کپتان صاحب کے ساتھ متحد نظر آرہی تھی ۔لیکن جلد ہی اسلام آباد دھرنے اور مخدوم ہاشمی صاحب کے کہنے پرلوگوں کو جلد یقین آگیا کہ یہ محضِ ایم۔آر۔ڈی مرحوم اور سابقہ مجلسِ عمل کی نفاذِ شریعت کی نعروں کی طرح ہے اور بعض لوگوں کو علما کرام کے سابق فتوے جس کے مطابق کپتان صاحب کو گولڈ سمتھ ( یہودی خاندان)کا بغل بچہ ہونے کی شک یقین میں بدل دیا اگر ذاتی طور پر وکیل صاحب الیکشن بحیثیت آزاد لڑتا تو دوبارہ مولانا ولی مقابلہِ نظامت گرم ہو جات خیر ابھی تو۔
؂نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہوا ۔
کالم کی طوالت سے قارئین سے معذرت کے ساتھ غیر عقلی بحثوں سے اجتناب کر تے ہوئے اور موجودہ حالات کی بغور جائزہ کے بعد مولانا عبد الرحمٰن صاحب اور حاجی مغفرت شاہ کی توجہ چاہتا ہوں کہ وہ بم قتضائے حال اور چترالی دستو ر و روایات کے عین مطابق اپنے اپنے حصے میںآئی ہوئی ووٹوں پر قناعت کریں۔آپ دونوں پر عوام نے کافی اعتماد کیے۔۔ ہیں اور ان حضرات پارٹیقائدین خصوصاً امیرِ جمعیت علماء اسلام محترم مولانا عبد الر حمٰن قریشیؔ صاحب کو خراجِ تحسین اور شکر گزاری کرنا واجب سمجھتا ہوں کہ انہوں نے پارٹی کے مرکزی قیادت کی غیر ضروری۔۔۔۔ بے جامداخت کو بڑی احسن طریقے سے نظر انداز کر کے اپنی وعدہِ ایفا پر قائم و پا بند رہ کر سب کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ؂ متاع دین و دانش لُٹ گئی تقدیر والوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کافر ادا کا غمزہِ دلسوز ہے ساقی ۔اقبال
انہوں نے ذاتی طور پر معاہدے کی نہ صرف پاسدار ی کی بلکہ اکثریتی پارٹی والوں کو بھی باور کرانے میں کامیاب ہو کر ثابت کیا کہ معاہدے کی پابندی بھی کوئی چیز ہے ۔مولانا صاحب نے عین اسلامی دستور و اصول کو آپنایا۔کیونکہ دونوں پارٹیز کے معاہدے کے دوران مرکزی قائدین بھی باخبر تھے ۔اگر وہ اس وقت اس اتحاد کو بارِ گران سمجھتے تو اسی وقت منع کرتے اگر کوئی اس وقت حکم عدولی کرتے انہیں پارٹی ٹکٹ سے محروم کرتے لیکن اس وقت مرکزی قائدین سے ہاں ملانا اصول و ضابطہ،قانون و اخلاق کی اور اسلامی شغائرکے صریحاً خلاف ورزی تھی ۔جسے حضرت صاحب نے اپنے دامن کو محفوظ و سلامت رکھ کر عوامی مبارک بادی کا صحی حقدار ہوا ۔ابھی بھی ان حضرات سے درخواست ہے کہ وہ مولانا صاحب کے ہدایت پر عمل کر کے ایک دوسرے کے خلاف کسی کے بہکاوے میں اکر غلط بیانی نہ کریں اگر پھر بھی مزید عدالتوں کا چکر لگانے سے باز نہ رہے تو اس کی خاطر خواہ نتیجہ فریق رنجیدہ حاصل نہیں کر سکے گا ۔زیادہ سے زیادہ اگر دوبارہ ان سیٹوں پر الیکشن کا انعقاد ہو جائے تو جیت انشا اللہ سچ کی بنا پر امیرِ محترم کو ہوگی۔ اور لوگوں کی جانب سے رہی سہی حمایت بھی ختم ہو گا ۔۔سیاست ایک بار ختم نہیں ہو تا پھر بھی موقع آنا ہے ۔لیکن ابھی نہیں کیونکہ ؂
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں الیکشن کے سیوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے پہلے سے محبت میری محبوب نہ مانگ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق