fbpx
فداالرحمن

پھولوں کے نگہبانوں سے کوئی بھول ہوئی ہے …….فدا الرحمن

پاپا !! سوری ۔ میں جانتی ہوں کہ آ پ مجھ سے بہت محبت کرتے ہو لیکن پاپا !! میں نوروز سے بہت محبت کرتی ہوں ۔ اسلئے میں سوسائیڈ کر رہی ہوں ۔ کیونکہ میں جانتی ہوں آپ میری شادی کسی اور کے ساتھ کرو گے ۔ جوکہ مجھے قبول نہیں ہے ۔ میں صرف نوروز کی ہوں ۔ اس جنم ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے اسلئے ہم مرکر ایک ہونگے ۔ آئی لو یو پاپا ۔جب میں مر جاؤں تو پلیز میری قبر نوروز کے قبر کے ساتھ ساتھ ہی بنانا ۔ پلیز پاپا۔ یہ میری لاسٹ وش ہے ۔پاپاسب کاکئیر کرنا ۔ بائے پاپا ۔ بائے مام ۔ گاڈ جی ! میری ماما اور پاپا کا خیال رکھنا ائی لو یو پاپا ، ماما ۔فاطمہ بشیر
ڈیڈی سوری !! آپ لوگوں کو میری جان اچھی نہیں لگتی ہے اسلئے آپ لو گ میری شادی کسی اور کے ساتھ کرنا چاہتے ہو ۔ بٹ مام میں صرف فاطمہ کو وائف بنانا چاہتا ہوں جو آپ لوگوں کو منظور نہیں ہے ۔ میں فاطمہ کے ساتھ آج اپنی مرضی سے سوسائیڈ کر رہا ہوں ۔ کیونکہ جب تک ہم زندہ ہیں آپ لوگ ہمیں ایک ہونے نہیں دینگے لیکن اللہ کے پاس ہم دونوں ایک ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ بائے ڈیڈی اینڈ مام ۔ آئی لو یو بوتھ۔ بٹ فاطمہ میری جان ہے ۔ میں اس سے الگ ہو کر نہیں رہ سکتا ۔ اس لئے سوری ۔۔ بائے۔۔۔ نوروز۔
قارئیں !! اوپر جو پڑھا وہ کسی لو سٹوری فلم کا اسکرپٹ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سچا واقعہ ہے ۔ جو یکم ستمبر کو گلشن فاطمہ سکول گرومندر کراچی میں پیش آیا ۔ جب تمام بچے اور اساتذہ سکول کے صحن میں اسمبلی کررہے تھے ۔ اس وقت کمرہ جماعت کے اندر میٹرک کا طالب علم سولہ سالہ نوروز نے اپنی محبوبہ 15 سال کی فاطمہ کو گولی مار کر خود کوبھی موت کے گھاٹ اتارد یا ۔
دومعصوم پھول ، جو زندگی کے سحر میں جو بن کی راہ ہی نہیں دیکھے تھے ۔ موت کے مہیب اور وحشت ناک شام کی دھندلے سایوں میں حیات مستعار کی شمع خودہی گل کر دئے ۔ پوری قوم خصوصاً والدین کے دلوں میں کہرام مچ گیا ۔ سوچیں زہن کے ساحل پر لہر درلہر ٹکرانے لگیں ۔ تصور کے نہاں خانے میں تمام والدین کوان کے بچے نوروز اور فاطمہ کی روپ میں نظر آنے لگے ۔ ہر سو فضا میں پریشانی اور بے اطمینانی پھیل گئی ۔ جب یہ خبر ہماری بے لگام میڈیا میں بریک ہوا تو سوشل میڈیا میں بھی اس ” پری اسکرپیٹیڈ ”کہانی کے بارے میں ایک لمبی بحث چھیڑ گئی ۔لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واقعے کا زمہ دار کون ہے ۔ کس پر اس کی زمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
ایک بڑی تعداد اس واقعے کی تمام تر زمہ داری میڈیا کے اوپر ڈال دیا ہے ۔ کہ ریٹینگ کے چکر میں ٹی وی چینلز ایسے ڈرامے ،شوز اور دوسرے تیسرے مختلف پروگرامز دیکھا رہے ہیں جو فحاشی اور عریانی کو پروموٹ کر رہے ہیں ۔ بہت ساروں کا یہ بھی کہنا ہے ۔ کہ تعلیمی ادارے بچوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور یہ ادارے اخلاق باختہ تقاریب کا انعقاد کرکے باقاعدہ مادر پدر ماحول فراہم کرتے ہیں ۔ کچھ کا کہنا ہے کہ مخلوطہ تعلیم اسکی بنیادی وجہ ہے ۔ بعضوں کے مطابق انٹرنٹ، سوشل میڈیا ، فیس بک ، موبائل فون کی بے جا اور بہت استعمال کی وجہ سے نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں میں عنفوان شباب میں جذباتی ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے اسطرح کے واقعات جنم لیتی ہیں ۔ میری ذاتی رائی یہ ہے کہ اس واقعے میں میڈیا وغیرہ کی کلی طور پر قباہت نہیں ہے ۔ میڈیا ہر گز اس درجے تک حدود کو پھلانگ کر آگے جانے کے لئے مجبور نہیں کرتا ہے ۔ اس واقعے کی خدوخال تک پہنچ کر اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں والدین کا قصور واضح طور پر عیاں ہے ۔ واقعے کی بنیادی وجہ والدین اور بچوں کے مابین عدم دوستانہ ماحول ہے ۔ والدین کا پیار بچوں کے ساتھ عملی ہیں ہے ۔والدین اولاد کے معمولات سے پہلوتہی کرتے ہیں۔ بلوغت کے آغاز میں جنس مخالف کی طرف کشش ایک قدرتی امر ہے ۔ اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ اس عمر میں لڑکا لڑکی اپنے آپ کا کھوج لگا رہے ہوتے ہیں ۔ یہ ایک فطری بات ہے ۔اس کو دبایا نہیں جاتا ۔ حا لیہ واقعے میں بھی اگر بچوں نے کہیں سے متاثر ہوکر یا فطری امر کے اگے بے بس ہو کر شادی کا فیصلہ کر ہی لیا تھا تو اس سر گزشت کے حل کے لئے والدین کے دست قدر میں بے شمار عقدہ کشائی کے طریقے موجود تھے ۔ مگر والدین گھر کے سرپرست اور سمجھدار فرد ہونے کے باوجود خود بچے بن بیٹھے ۔ بچوں کو سرف نظر کیا ۔اور انہیں ازخود فیصلے کرنے کے لئے بے تعلق کر دیا ۔ الٹاان سے عقلمندی کی امید باندھی گئی ۔ کہ وہ خود اعادہ کریں ۔ والدین کو بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے انہیں اعتماد میں لیکر فیصلہ کرنا چاہئے تھا ۔ وقت سے پہلے معاملات کو سنبھالنا تھا ۔ بچے بہر صورت بچے ہیں ۔ان سے بڑے بننے کی توقع نہیں کرنا چاہئے تھا ۔بچے بڑوں سے مختلف انداز میں سوچتے ہیں ۔ والدین کو چاہئے کہ وہ شروع ہی میں بچوں کی تربیت اور ان کی شخصیت سازی پر توجہ دیں ۔ اگر دیکھا جائے تو بچوں کی نشو نما دو حوالوں سے ہوتی ہے ایک تو انکے جینیٹکس اور ذاتی صلاحیتیں اور دوسرا انکا ماحول ۔ وہ اپنے ارد گرد سے بہت کچھ سیکھتے ہے ۔ا نکے والدین ، بہن بھائی سکول اور تقریبات وغیرہ جہاں وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملتا ہے ۔ انکا کا مشاہدہ آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے۔ بچے کو میل ملاپ کا موقع ضرور دینا چاہئے ۔ اس سے جذباتی نشو نما اچھے انداز میں ہوتی ہے اس سے اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملتا ہے وہ اپنے ملنے والوں سے بہت سی باتیں شیر کرتا ہے ۔ بچے کی شخصیت پر اسکی تقافت کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس کا ماحول ، رسم و رواج ، والدین کا رویہ ، یہ سب عوامل اسکی شخصیت کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
والدین بچوں کے بنیادی حقوق محض لباس ، کھانا ، پینا ، رہائش اور تعلیم کو تصور کرتے ہیں ۔ جبکہ والدین کا تربیت کرنا جائز خواہشات کی تکمیل کرنا ، بچوں کی نفسیات کو سمجھنا بھی ایسے حقوق ہیں جو والدین کی زمہ داری میں شامل ہیں۔ اگر چہ اولاد پر یہ فرض ہے کہ وہ والدین کی عزت و تکریم کو بہر طور ملحوظ خاطر رکھیں۔ مگر ساتھ ہی والدین کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے ۔کہ وہ محترم بن کر انا کا تاج سر پر سجائے اونچے مسند پر بیٹھے اونچا ہی اونچا سوچ رہے ہوں ۔اور انہیں اس بات کی فر صت نہ ہو کہ وہ لمحہ بھرکے لئے اپنے نیچے والوں جنہیں ” احترام ” کا حکم ہے ۔ کا حال احوال لے سکیں ۔ بقول برادرم فاران شاہد ” بعض اوقات بچے بہت سی باتیں، ذاتی مسائل ، سوال و جواب پوچھنا اور اگاہ ہو جانا چاہتے ہیں ۔ مگر والدین اور بچوں کے مابین اسطوار ہونے والا ” احترام ” کا رشتہ انہیں جائز مطالبات کہنے سے بھی روکے رکھتا ہے ۔جس کے نتیجے میں بچے بلا آخر بھلائی کے تمام راستے بند دیکھتے ہوئے خود ہی فیصلہ کر بیٹھتے ہیں ۔ کہ چلئے تجربہ کرتے ہیں ۔ بھلے وہ کامیاب ٹھرے، یا ناکامی کا مرتکب ہو ۔ مگر ان بچوں کا محدود دماغ یہی کر سکتا ہے۔ والدین سے میری گزارش ہے کہ بچوں کے اسطرح معاملے میں خود بچے نہ بنیں بلکہ معاملے کا تدبیر ی حل نکالیں۔ بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ تدبیری چالوں اور افہام و تضہیم سے بچوں کو اسطرح کے بولڈ ایکسپیریمنٹ کی طرف قدم اٹھانے نہ دیں ۔
”ایمرسن” کی اس بات سے یہ ارٹیکل ختم کرتا ہوں ۔ کہ تعلیم کا راز بچوں کے ادب و احترام میں چھپا ہوا ہے ۔ یعنی بچوں کا ادب کئے بغیر آپ انہیں زیورتعلیم سے آراستہ نہیں کرسکتے ۔
Email. sfida511@yahoo.com

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق