Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

اے کے آر ایس پی کی ایلی پراجیکٹ اور ملک سعد شہید ٹرسٹ کی مشترکہ تعاون سے طالبات کے لئے اسکالر شپ دینے کی تقریب

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈی پی او چترال عباس مجید خان مروت نے کہا ہے کہ چترال جیسے پسماندہ علاقے کی ترقی کے لئے خواتین کی تعلیم بنیادی اہمیت کا حا مل ہے جس میں مقدار کے ساتھ معیار کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ چترال کے طالبات میں یہ احساس موجود ہے اور وہ مختلف امتحانات میں اعلیٰ پوزیشن لے رہی ہیں جوکہ علاقے کی شاندار مستقبل کی نوید ہے۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی ایلی پراجیکٹ اور ملک سعد شہید ٹرسٹ کی مشترکہ تعاون سے ہونہار اور مستحق طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لئے اسکالرشپ دینے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک سعد شہید نہ صرف خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں اور افسران کے لئے رول ماڈ ل ہے بلکہ ان کا نام صوبے میں بچہ بچہ جانتا ہے جوکہ محنت اور دیانت داری میں ان کے لئے مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نام سے منسوب تعلیمی وظیفہ حاصل کرنا باعث فخر ہے اور اس کے حاصل کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ ملک سعد جیسی خصوصیات اپنے اندر پیدا کرکے اور ز ندگی میں اپنے لئے مقام پیدا کریں۔ انہوں نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی طالبات ولایت بیگم اور غزالہ بی بی کو اسکالرشپ کی پہلی قسط کا چیک تقسیم کیا جوکہ ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی دو حقیقی بہنیں ہیں۔ اس موقع پر ملک سعد ٹرسٹ کے چترال میں کوارڈینیٹر حسین احمد نے کہاکہ اس اسکالرشپ کے حاصل کنندگان کو اعلیٰ تعلیم کی کسی بھی مرحلے تک مالی مدد فراہم ہوتی رہے گی بشرطیکہ وہ امتحانات میں اپنی کارکردگی کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک سعد ٹرسٹ سپورٹس کے میدان میں بھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے اور اس ٹرسٹ کے تحت ضلعے میں پانچ مختلف مقاما ت پر سپورٹس کوچنگ سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ اے کے آر ایس پی کے منیجر انسٹی ٹیوشن ڈیویلپمنٹ فضل مالک نے کہاکہ ایلی پراجیکٹ کے تحت یوتھ کی ہر شعبہ زندگی میں حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔