fbpx
مضامین

نئے بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داریاں…….نگہت پروین دروش

پانچ سال کے وقفے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی ادارے وجود میں آئے ہیں، دس سال کے وقفے کے بعد الیکشن منعقد ہوئے، آخری بار بلدیاتی الیکشن اگست 2005میں ہوئے تھے ۔ بلدیاتی ادارے سیاست کی نرسریاں ہوتی ہیں تاہم انکا سب سے اہم کردار مقامی مسائل اور تنازعات کو مقامی سطح پر حل کرنا ہوتا ہے۔ فعال مقامی اداروں کی موجودگی میں صوبائی حکومت کو بھی آسانی میسر آتی ہے اور چھوٹے چھوٹے مسائل سے انکی جان چھوٹ جاتی ہے کیونکہ عوام اپنے مقامی اور چھوٹے مسائل کے لئے بلدیاتی نمائندوں کا رخ کرتے ہیں۔ اب جبکہ ضلع چترال میں بھی بلدیاتی ادارے قائم ہو چکے ہیں تو عوام کے توقعات بھی بہت زیادہ ہیں۔ ویلج کونسل سے لیکر ضلع کونسل تک کے ممبران اور ناظمین سے عوام یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ انکے ووٹوں سے بلاواسطہ یا بالواسطہ منتخب ہونے والے ان کے نمائندے میرٹ کی بالاستی کو یقینی بناتے ہوئے انصاف کی بنیاد پر انکی خدمت کرینگے، مقامی سطح کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل ہونگے، تعلیم ، صحت سمیت دیگر سماجی خدمات کی فراہمی میں واضح بہتری آئے گی ، ساتھ ساتھ مقامی نوعیت کے تنازعات کے حل میں بھی منتخب ممبران اپنا مثبت کردار ادا کرینگے۔ اگر کسی گاؤں میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے یا سینی ٹیشن کا مسئلہ تو گاؤں کے لوگ اب رکن صوبائی اسمبلی یا ایم این اے کے پیچھے جانے کے بجائے اپنے حلقے کے ویلج کونسل، تحصیل کونسل یا ضلع کونسل کے ممبرکے دروازے تک جائینگے اور اپنا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ ان حالات میں بلدیاتی نمائندوں پر بڑی ذمہ داریا عائد ہوتی ہیں، انہیں تمام تر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر عوامی خدمت کو ترجیح دینی ہوگی اور عوامی توقعات پر پورا اترنا ہوگا خدانخواستہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں عوام نہ صرف ان نمائندوں سے بد ظن ہو نگے بلکہ اس نئے سسٹم سے بھی ان کا بھروسہ ختم ہو جائیگا اور یہ نظام خود بخود فیل ہو جائے گا۔ اس سسٹم کو کامیاب بنانے میں اداروں کا کردار مرکزی ہے کیونکہ اگر مختلف سرکاری ادارے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ تعاون نہیں کرینگے توعوام کے مسائل کسی بھی صورت حل نہیں ہو نگے اور اسطرح عوام اپنے نمائندوں سے نالاں ہو کر سسٹم کو کوستے رہینگے۔ موجودہ بلدیاتی سسٹم کو کامیاب بنانے کے لئے سرکاری اداروں اور بلدیاتی نمائندگان میں تعلق کار کا بہترا ور مثبت ہونا نہایت ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں قانون کے اندر رہتے ہوئے دئیے گئے اختیارات کو میرٹ کے بنیاد پر استعمال کرنے سے عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور یہ سسٹم بھی کامیاب ہو گا۔ ایسا نہ ہوکہ مختلف کونسلوں کے اندر اراکین ہی میرٹ کا مذاق اڑائیں، ذاتی پسندو ناپسند کی بنیاد پر مختلف کام انجام پذیر ہوں، وسائل کی تقسیم اور تقرریوں و تبادلوں میں بھی ذاتی پسند و ناپسند، سیاسی مصلحت کو ترجیح بناکر میرٹ کا گلا گھونٹنے اور ناانصافی کو پروان چڑھانے سے نہ صرف عوام کے غیض و غضب کا سامنا ہوگا بلکہ یہ سسٹم بھی زمین بوس ہوکر بلدیاتی سسٹم پر سے عوام کا اعتماد ہی ہمیشہ کے لئے اٹھ جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق