fbpx
تازہ ترین

موژ گول کے سیلاب متاثرین ابھی تک حکومتی امداد کی راہ تکتے ہیں۔ متاثرین شدید سردی کے باوجود دہ ماہ سے حیموں میں رہتے ہیں۔

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) جولائی 2015کے تباہ کن سیلاب نے موژ گول گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹایا تھا۔جہاں 70 کے قریب مکانات مکمل طور پر اور بیس جزوی طور پر تباہ ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے نہ صرف رہائشی مکانات سیلاب کے نذر ہوئے بلکہ وہاں دریا کے کنارے آباد ایک مکمل مارکیٹ ، دکانیں اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان بھی سیلاب میں بہہ گیا۔متاثرین سیلاب بے سروسامانی کی حالت میں اپنی جانیں بچاکر قاقلشٹ کے میدان میں خیموں میں آباد ہوئے جبکہ ان کے گھروں میں ان کا سارا سامان سیلاب لے گیا۔ اور گھروں پر دس فٹ مٹی، کیچڑ اور پتھروں کا ملبہ پڑ گیا۔غلام سرور ایک ریٹائرڈ صوبیدار کا کہنا ہے کہ موژ گول کے متاثرین قاقلشٹ کے اس لق دق ریگستان میں رہتے ہیں جہاں نہ پانی ہے نہ بجلی اور نہ کوئی درخت ہے۔ مگر ضلعی انتظامیہ ان کو پینے کی پانی تک پہنچاتے ہیں اور نہ ہی ابھی تک کسی افسر نے ان کا حال احوال پوچھا ہے۔ اس ریلیف کیمپ میں رہنے والے بچیاں دور دراز علاقوں سے مٹکوں اور بالٹیوں میں پینے کی پانی لانے پر مجبور ہیں جبکہ خواتین کھلے آسمان تلے کھانا پکاتی ہیں اور خیمہ میں بارش کا پانی ٹپکتا ہے۔ان بچیوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ان کے گھر ، سکول اور پُل بھی تباہ ہوئے ہیں اور ابھی وہ سکول بھی نہیں جاسکتی۔چند بچے بیمار بھی تھے جو یٹنٹ کے اندر پڑے تھے اور دیگر بچے بے سرو سامانی کی حالت میں خیمہ میں اندر بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہوئے دیکھے گئے جن پر سیلاب کی وجہ سے نفسیاتی اثر دکھائی دیتا ہے۔ان متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور وہ اعلانات صر ف زبانی جمع خرچ تھے ابھی تک ان کے ساتھ کوئی مالی امداد نہیں ہوا ہے۔ موژ گول کے متاثرین سیلاب کا وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھ مالی امداد کی جائے تاکہ وہ برف باری ہونے سے پہلے پہلے اپنے تباہ شدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کرے یا ان کیلئے قاقلشٹ کے اس میدان میں جو ان کی پدری جاگیر ہے اس پر ان کیلئے ایک ایک مکان تعمیرکرے تاکہ یہ لوگ اپنے بچوں اور بوڑھوں کو سردی اور برفباری کی اثر سے بچاسکے۔ ان لوگوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کا جائز مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ مجبوراً احتجاج کے طور پر سڑکوں پر نکل آئیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق