کمرشل اشتہارات/ اعلانات
صفحہ اول | عالمی حالات | ’منیٰ میں ایک اور پاکستانی حاجی کی شناخت، تعداد آٹھ ہوگئی‘

’منیٰ میں ایک اور پاکستانی حاجی کی شناخت، تعداد آٹھ ہوگئی‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حج کے دوران سعودی عرب میں حج کے دوران بھگدڑ سے اب تک آٹھ پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ لاپتہ حاجیوں سے رابطے کی کوششیں جاری ہیں۔

جمعرات کو منیٰ میں رمی کے عمل کے دوران پیش آنے والے اس حادثے میں سعودی حکام کے مطابق 717 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے جمعے کی شام تک سات شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جن میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں۔

تاہم امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعے کی شب وزارتِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مزید ایک پاکستانی کی شناخت کے بعد یہ تعداد آٹھ ہو چکی ہے۔

ادھر اس حادثے کے بعد لاپتہ ہونے والے پاکستانی حاجیوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری اعدادوشمار میں ہی تضاد سامنے آیا ہے۔

اے پی کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر 236 پاکستانی حاجی لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے اب تک 86 سے رابطہ ہو چکا ہے جبکہ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔

تاہم پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے ڈائریکٹر حج ابو عاکف نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ سانحے کے بعد سے اب بھی 316 پاکستانی حجاج کرام لاپتہ ہیں۔

اے پی پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ تعداد 402 تھی تاہم بعد میں 86 افراد سے پاکستانی حکام رابطہ کرنے میں کامیاب رہے۔

ابو عاکف نے بتایا کہ پاکستانی ڈاکٹر مردہ خانوں میں موجود ہیں جبکہ ان ہسپتالوں سے بھی معلومات لی جا رہی ہیں جہاں زخمیوں کو لے جایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے مذہبی امور کی وزرات کی ویب سائٹ پر منیٰ حادثے میں اب تک جن سات پاکستانیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے ان میں سے تین کا تعلق صوبہ سندھ اور چار کا صوبہ بلوچستان سے ہے۔

ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق ہلاک شدگان میں پانچ خواتین اور دو مرد ہیں اور ان میں کراچی کے علاقے صدر سے تعلق رکھنے والی حفصہ شعیب اور زرین نسیم، میر پور کی نرجس شہناز، دالبندین کی بی بی زینب اور بی بی مدینہ اور اسی شہر کے نور محمد اور محمد اسلم شامل ہیں۔

پاکستانی وزارتِ مذہبی امور کے مطابق حادثے میں چھ پاکستانی زخمی بھی ہوئے جنھیں طبی امداد کے بعد اب ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً