fbpx
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بید اد ….اقلیتی زبانوں کا مسئلہ

ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

دنیا میں پرندوں یا جانوروں کی ایک نسل معدوم ہوتی ہے تو قدرت کی ایک نشانی مٹ جاتی ہے دنیا میں بنی آدم کی ایک زبان مٹ جاتی ہے تو اس کے ساتھ بھی قدرت کی ایک بڑی نشانی معدومیت سے دوچار ہوتی ہے اس لئے ماہرین دنیا سے پرندوں اور جانوروں کی نسلوں کو بھی معدومیت کے خطرے سے بچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور بنی آدم کی زبانوں کو بھی معدومیت کے خطرے سے بچانے کے لئے سوچ بچار کرتے ہیں فورم فار لینگویج اینی شے ٹیوز (ایف ایل آئی) نے ادارہ برائے تعلیم وترقی (آئی بی ٹی) اور سوات پریس کلب کے اشتراک سے مینگور ہ سوات میں قدیم وطنی زبانوں کو معدومیت کے خطرے سے بچانے کے موضوع پر سیمینار کا اہتمام کیا جس میں میڈیا کے نمائیندوں نے بھر پور حصہ لیا اعجاز احمد نے کمپیر نگ کی محمد زمان ساگر نے خطبہ استقبالیہ میں پروگرام کا تعارف کرایا اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا زبیر توروالی نے کلیدی مقالہ پیش کر تے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن کی قدیمی وطنی زبانوں کا جائز ہ پیش کیا انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کی 63 زبانوں میں سے 18 زبانیں ملاکنڈ ڈویژن میں بولی جاتی ہیں ملک کاکوئی دوسراڈویژن ایسا نہیں جہاں اتنی زبانیں بولی جاتی ہوں یہ ملاکنڈ ڈویژن کی انفرادیت ہے اپر سوات کی ایک تحصیل میں 6 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں2 زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں ان میں بد یشی اور اوشوجو کانام لیا جاتاہے گاؤری اور توروالی زبانوں میں تعلیم وتحقیق کاکام ہورہا ہے رسم الخط موجود ہیں سکولوں میں کثیر اللسانی نظام کے تحت ان زبانوں کی محدود تعلیم بھی دی جاتی ہے کھوار پر بھی کام ہورہا ہے بدیشی ایسی زبان ہے جو معدومیت کی سرخ لکیر پر ہے 60 سال سے زیادہ عمر کے 12-10 بوڑھے مرد اور عورتیں بدیشی بول سکتی ہیں گیت ان کو یاد ہیں ضر ب الامثال اور محاورے ان کویاد ہیں اُن نئی نسل کو بد یشی زبان نہیںآتی ’’ اوشو جو ‘‘ میں مہارت رکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے بچے بھی اوشو جو بولتے ہیں رسم الخط اور تعلیم وتحقیق کے میدان میں اس پر کام نہیں ہوا اسی طرح یدغہ زبان ہے یہ قدیم وطنی زبانوں میں سے ہے ہند ایرانی نسل سے تعلق رکھتی ہے زرتشت کے دور سے بولی جانے والی زبان ہے مگر اس زبان کو بدیشی کی طرح معدومیت کے خطرے کا سامنا ہے کلاشہ بھی قدیم ہند آریا ئی زبان ہے دردگروپ کی زبانوں میں اس کا شمار ہوتاہے کلاشہ کو بھی معدومیت کے خطرے کا سامنا ہے ملاکنڈ ڈویژن کی دیگر قدیم وطنی زبانیں کھوار ، انڈس کو ہستانی ،گوجری ، واخی ،کرغیز ،پالولہ ،سریقولی ،مڈاکلشٹی ، اُرسونی ،بشگالی ،ڈمیلی اور گوار بٹی کو بھی خطرے سے دوچار زبانوں کی قطارمیں شامل کیا گیا ہے زبیر توروالی نے ڈاکٹر جان بارڈ اور دیگر ماہرین لسانیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ملاکنڈ ڈیژن کی اقلیتی زبانوں پر غیر ملکی ماہرین نے کام کیا ہے ہماری اپنی یونیورسٹیوں میں ان زبانوں پر کام نہیں ہوا ہمارے ملکی ماہرین نے ان زبانوں پر خاص توجہ نہیں دی البتہ یہ غنیمت تھی کہ 2010 میں اے این پی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اسمبلی کے باقاعدہ ایکٹ منظور کرواکر صوبے کی 5 قدیم وطنی زبانوں کو سکولوں میں اول سے بارہویں جماعت تک نصاب میں شامل کیا تھا موجودہ حکومت اُس منصوبے پر کام روک دیا اگلی حکومت آئیگی تو اس منصوبے پر دوبارہ عملدر آمد ہوگا رقم الحروف کے مقالے کا عنوان تھا ’’ قدیم وطنی زبانوں کیلئے میڈیا کا کردار ‘‘ اس حوالے سے تاریخی تناظر میں مختلف مسائل کو اجاگر کر نے میں میڈیا کے کردار اور زبانوں کے مسئلے کو حکمرانوں کے سامنے رکھنے کے سلسلے میں میڈ یا کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی میڈیا کے نمائیند وں میں سے محبوب علی ، نیاز احمد ، فضل خالق خان ، قاری بلال ،عدنان باچہ ،انوار علی شاہ ،حیا ت محمد کالامی اور دیگر صحافیوں نے اظہار خیا ل کیا صحافیوں نے کہا کہ میڈیا ہاوسز کی ترجیحات میں زبانوں کا مسئلہ جگہ نہیں پاتا اس لئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقامی زبانوں کے مسائل کو سامنے لانے میں مشکلات پیش آتی ہیں تاہم زبانوں کے ماہریں اور مقامی تنظیموں کے نمائیندے مقامی سطح پر سیمینار ،ورکشاپ ،مذاکر ہ اور دیگر پروگراموں کے ذریعے میڈیا ہاؤسز کو اپنی طرف متوجہ کرسکتی ہیں اور مقامی اخبارات کی وساطت سے زبانوں کے مسئلے کو عالمی میڈیا اور ملکی میڈیا کے سامنے رکھا جاسکتا ہے سیمینار میں تجویز دی گئی ہے کہ قدیم وطنی زبانوں کے حوالے سے پروگرامات ان جگہوں میں رکھے جائیں جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں ایسے پروگراموں میں مقامی وطنی زبانوں کے کلچر کوبھی پیش کیا جائے ، لوک موسیقی ، لوک گیت اور دیگر دلچسپ چیزیں پروگرام میں شامل کئے جائیں صحافیوں نے کہا کہ کالام اور کالاش میں فیسٹول ہوتے ہیں تو پشاور اور اسلام آباد سے فنکار بلا کر پروگرام کروائے جاتے ہیں مقامی کلچر اور مقامی زبانوں کو نظر اانداز کیا جاتاہے قدیم وطنی زبانوں کا مسئلہ ملکی اور بین لاقوامی سطح پر اہم مسئلہ ہے اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ایف ایل آئی اورآئی بی ٹی جیسی فلاحی تنظیموں کے ذریعے مقامی زبانوں کو ان کا جا ئز مقام دینا وقت کا تقاضا ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق