کمرشل اشتہارات/ اعلانات
صفحہ اول | تازہ ترین | اگرسیاستدانوں نے کرپشن کی ہے تو سول اور فوجی اشرافیہ بھی صاف شفاف نہیں،احتساب سب کاہوناچاہیے، رضاربانی

اگرسیاستدانوں نے کرپشن کی ہے تو سول اور فوجی اشرافیہ بھی صاف شفاف نہیں،احتساب سب کاہوناچاہیے، رضاربانی

کراچی (نیٹ ڈیسک)سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ سیاستدانوں نے کرپشن کی ہے لیکن ملک کی سول اور فوجی اشرافیہ بھی صاف شفاف نہیں، کوئی مقدس گائے نہیں ،احتساب بلاتفریق ہونا چاہیے ،اب یہ نہیں چلے گا کہ صرف سیاسی سوچ والوں کیلئے اسپیشل کورٹس بنائی جائیں، کیا دوسرے دودھ کے دھلے ہیں؟ جو لوگوں کا احتساب کرتے ہیں ان کا احتساب کون کرے گا، آج لولی لنگڑی جمہوریت سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے، آج کے نصاب سے پاکستان کی تاریخ کوحذف کر دیا گیا ، نوجوان ملک کی حقیقی تاریخ سے ناواقف ہے، ملکی تاریخ مرتب کرنے کیلئے کمیشن بنایاجائے۔وہ بدھ کو وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی میں منعقدہ کل سندھ مباحثہ میں اظہارخیال اور بعدمیں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے ۔رضاربانی نے کہاکہ آج کرپشن کرنے والوں کے احتساب کی باتیں ہورہی ہیں میں تسلیم کرتاہوں کہ ہماری جماعت میں بھی کرپٹ لوگ موجود ہیں،سیاستدانوں اور کارکنوں نے کرپشن کی ہے ان کادفاع نہیں کرتا لیکن میں یہ بھی کہتا ہوں کہ باقی پاکستان بھی صاف نہیں، اگرسیاستدانوں نے کرپشن کی ہے تو سول اور فوجی اشرافیہ بھی صاف شفاف نہیں ہے چنانچہ احتساب بلاتفریق سب کاہونا چاہیے ملک کے لیے کسی خاص طبقے کو مقدس گائے نہ بنائیں ۔انہوں نے کہاکہ اب یہ نہیں چلے گا کہ سیاسی سوچ والوں کے لیے خصوصی عدالتیں بنائی جائیں، خصوصی عدالتیں ضروربنائیں میں ساتھ کھڑا ہوں گا پھر احتساب سب کیلئے ہونا چاہیے۔ تمام طبقوں کے احتساب کے لیے خصوصی عدالتیں بنائی جائیں ۔کرپشن کا خاتمہ قانون کے دائرے میں رہ کرکرنے کی ضرورت ہے ۔نیب کے قانون کو دیکھنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کا احتساب کرتے ہیں ان کا احتساب کون کرے گا ۔نیب کے احتساب کے لیے سول سوسائٹی، اہل دانش پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ماضی کی غلطیوں کو دیکھا جا سکے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ماضی کی غلطیوں کو نہ دہراناچاہیے ۔آج جو بھی لولی لنگڑی جمہوریت نصیب ہے وہ سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔ وفاقی جامعہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو میں سوچ اور فکر رکھنے والے لوگ ہیں۔ آج کے نصاب سے پاکستان کی تاریخ کوحذف کر دیا گیا ہے جس کے باعث پاکستان کا نوجوان ملک کی حقیقی تاریخ سے ناواقف ہے۔ جب میں اپنی تاریخ سے ناواقف ہوں تو کسی سے کیا گلہ کروں ؟لیکن ہمیں اس دھرتی کیلئے جینا مرنا ہے۔ اس ملک میں پاکستانیت اس وقت آئے گی جب نوجوان محسوس کریں کہ وہ اس ملک کے مالک ہیں ۔ رضا ربانی نے اس موقع پر ملکی تاریخ مرتب کرنے کے لیے کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سے قبل جب رضا ربانی جامعہ اردو پہنچے تو ان کا استقبال کرنے والے ان سے گلے ملنے لگے اس وقت تقریب جاری تھی اور ایک مقرر خطاب کر رہا تھا جس نے رضا ربانی کے اس طرح کے استقبال پر تنقید کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ خبر بھی پڑھیں

دھڑکنوں کی زبان ……کیا اس محفل میں بھی ہماری باتیں ہوتی ہیں؟

کیا اے سی لگے کمرے میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ …

اترك تعليقاً