fbpx
محمد جاوید حیاتمضامین

دھڑکنوں کی زبان …..گل دستہ

….محمد جاوید حیات….

پریس کلب کے چھوٹے سے ہال میں چترال کے چیدہ چیدہ لوگ جمع تھے۔زندگی کے ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ،ہوشیارلوگ،ذہین لوگ،تجربہ کار لوگ،پیارے لوگ،پروفیسرز،سیاسی اکابرین،صحافی،نوجوان،علمائے کرام۔اساتذہ،سماجی کارکن،سب چہرے نمایاں چہرے تھے۔ایسی محفلیں کم کم سجاکرتی ہیں۔یہ سب پھول تھے ان میں سے کسی نہ کسی کی کوئی نہ کوئی خوشبو تھی۔ان پھولوں کواکھٹا کرنا حسن انتخاب تھا۔انتخاب تھا۔انتخاب کرنے والا خود پھول تھا۔میں جب ایک کونے میں بیٹھ کر سوچنے لگا تو شعر یاد آئے۔پہلے یہ یاد آیا۔
برگ گل چون شد بہ آئین بستہ شد
گل بہ آئین بستہ بستہ شد گل دستہ شد
پھر دوسرا بار بار یاد آیا۔
خلوص ہوتو دعائیں اثر بھی آتا ہے
درخت ہَرا ہو تو اس میں ثمر بھی آتا ہے
میری سماعت وبینائی چھیننے والے
میں سن بھی سکتا ہوں مجھ کو نظر بھی آتا ہے۔
اس سے پہلے مجھ جیسے کم فہم لوگوں کے لئے ایسا اجتماع خواب لگتا تھا۔ہم نے دوریاں دیکھی تھی۔ہم نے فاصلے دیکھے تھے۔ہم نے اچھے لوگوں کو نفرت کا تیر پھینکتے دیکھے تھے۔ہم خود حیران تھے کہ فاصلے کیوں بڑھے۔ہم نے سنا تھا کہ خدا کے نام لیوا ٹکڑوں میں بٹتے نہیں ہیں۔یہ آپس میں لکیریں کھنچا نہیں کرتے۔محمود وآیاز کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔فاصلے باٹ دیتے ہیں۔ایک جسم بن جاتے ہیں۔سوچ آفاقی ہوتی ہے۔ان کی سوچوں کے راستے میں دنیا نہیں آتی۔اس دنیاسے آگے کی دنیا کرتی ہے۔یہ بلند پرواز ہوتے ہیں۔دور سے دیکھتے ہیں مگر دور تک دیکھتے ہیں۔آج کا گل دستہ جس ماہر باغبان کی کوششوں سے ترتیب پایا تھا۔اس کو کانٹوں کی پروا نہیں تھی۔اس کے نزدیک سارے پھول تھے۔خواہ خوشبو بھری بھری ہو۔اتفاق ہے۔مقصد اور منزل ایک بھی ہو تو ہم اس میں فاصلہ رکھتے ہیں۔نفع اور نقصان مشترک بھی ہوں تو بھی سوچیں الگ رکھتی ہیں۔یہ فاصلے بڑھتے کیوں ہیں یہ محسوس کرتے ہوئے بھی محسوس نہیں کرتے۔لفظ’’رواداری‘‘بولتے رہتے ہیں۔عمل میں یہ لفظ نہیں آتا۔پریس کلب کے چھوٹے سے ہال میں مسئلہ ،مقصد اور منزل مشترک تھی۔بندے کی کوششوں میں اللہ نے برکت دی کہ سب اکھٹے ہوئے۔ڈسٹرکٹ ناظم،نائب ناظم،تحصیل ناظم،مختلف پارٹیوں کے رہنما،سکالرز سب موجود تھے۔علمائے کرام نے سٹیج سنبھالیکہا کہ دین مبین فلاح ،خدمت اور محبت کا دین ہے۔اس دین کے اندر معیار ہے۔تحفظ ہے مقام ہے،زندگی ہے۔امسال چترال قدرتی آفات کی زد میں رہا ۔درد دل رکھنے والے سب نے متاثرین کی خدمت کا بیڑھااٹھائا۔زن سب کی خواہ وہ این جی اوز ہوں ،پاک فوج اور پولیس کے جوان ہوں،انتظامیہ کے افسرز ہوں تعریف کی گئی سب کی خدمات گنوائے گئے۔سامعین شاباش کراُٹھے۔پروگرام کا منظم اعلی خطین شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان نے قاری فیض الرحمن چترالی اقرا ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کی طرف متاثرہ خاندانوں کے لئے آہنی چادروں (ٹن) کی امداد کی تقسیم کا ذکر کیا۔انہوں نے مذورہ تنظیم کے سرپرست قاری فیض اللہ کی خدمات کا ذکر کیا۔اور اس تنظیم کے تحت میں ہر مد میں کروڑوں روپے کی امداد اور کاموں کا ذکر کیا۔انہوں نے بے گھر تقریباً500خاندان جو پورے ضلع میں بے گھر ہوگئے ہیں ان کو60عدد ٹن ہر خاندان دینے پر ان پر کرڑوں اخراجات کاذکر کیا۔اس موقع پر8 خاندانوں کو60,60عدد ٹن حوالے کئے گئے۔مقررین نے مذکورہ امداد کو بہت سراہا کیونکہ چترال جغرافیائی لحاظ سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ بے گھروں کو گھر کے اندر اور کھلے آسمان تلے موجود بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو چھت کے نیچے پناہ دی جائے کیونکہ صرف دو مہینے بعد سخت برفباری میں ٹینٹ میں گذارہ ناممکن ہوجائے گا۔مقررین نے کہا کہ ابھی آٹے کی تھیلی اتنی ضروری نہیں جتنی کھلے آسمان تلے موجود لوگوں کو چھت کے نیچے پناہ دینا ضروری ہے۔نئی ضلعی کابینہ نے مستقبل کے پروگراموں کی پیش بندی کی عزم کا اظہار کیا کہ انشاء اللہ قوم کی بے مثال خدمت کی جائے گی۔اللہ ایسی اجتماعی کوششوں میں برکت دے۔جب شیشہ مزاج لوگ شیشے کے گھر میں جمع ہوتے ہیں تو ان کو اندر باہر دونوں اطراف سے خطرہ ہوتا ہے۔کارگاہ شیشہ گری بڑی مشکل کام ہے۔اللہ ان سوچوں میں برکت دے۔خلوص کی ہوائیں چلائے۔الفاظ عمل میں بدل جائیں اور پاک سرزمین میں صحیح معنوں میں خوشحالی آجائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق