کمرشل اشتہارات/ اعلانات
صفحہ اول | عالمی حالات | افغان طالبان نے صوبہ بدخشاں کے ضلع وردوج پر بھی قبضہ کرلیا،حکام کی تصدیق

افغان طالبان نے صوبہ بدخشاں کے ضلع وردوج پر بھی قبضہ کرلیا،حکام کی تصدیق

کابل/اسلام آباد/نیویارک(نیوز ایجنسیاں ) افغان طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے شمال مشرقی صوبے درخشاں کے ضلع دردوج پر بھی قبضہ کر لیا جس کی حکام نے تصدیق کردی ،ادھر طالبان نے امریکی کارگو طیارہ مار گرا نے کا دعویٰ کیا ہے جس کے نتیجے میں 6 فوجیوں سمیت 11 افراد ہلاک ہو گئے۔جمعہ کو افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے ضلع وردوج پر قبضہ کرلیا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان 3 دن سے جھڑپیں جاری تھیں۔وردوج پر طالبان کے قبضے کی تصدیق ضلعی انتظامیہ کے سربراہ دولت محمد خاور نے بھی کردی، تاہم انھوں نے جھڑپوں میں ہلاکتوں اور زخمی افراد کی تعداد کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔امریکی میڈیا کے مطابق وردوج پر قبضہ حکومت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔واضح رہے کہ صوبہ بدخشاں اْن صوبوں میں شامل ہے جہاں طالبان سمیت دیگر عسکریت پسند با آسانی کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔گزشتہ برس اپریل میں بدخشاں میں طالبان کے ایک حملے میں افغان نیشنل آرمی کے 23 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔دوسری جانب افغان طالبان امریکی کارگو طیارہ مار گرایا جس کے نتیجے میں 6 فوجیوں سمیت11 افراد ہلاک ہو گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان شہر جلال آباد میں ایئرپورٹ کے قریب امریکا کا سی 130 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 6 امریکی فوجی اور 6 سویلین اہلکار جو کہ نیٹو کے لئے کام کر رہے تھے ہلاک ہو گئے۔ امریکی فوج کے کرنل برین ٹریبس کا کہنا ہے کہ حادثہ رات دیر گئے پیش آیا جس میں جہاز میں موجود تمام افراد ہلاک ہو گئے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال حادثے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں لیکن تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمارے جنگجوؤں نے امریکی طیارے کو جلال آباد میں حملہ کرکے گرایا۔خیال رہے کہ طالبان نے پیر کے روز صوبہ قندوز پر قبضے کا اعلان کیا تھا مگر گزشتہ روز افغان حکام نے اس قبضے کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم برطانوی نشریاتی ادارے کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ قندوز میں مختلف علاقوں میں جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔افغان وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ فورسز طالبان سے قبضہ چھڑوانے میں کامیاب ہو گئی ہیں جبکہ ان کو بھاری نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔اْدھر افغان حکومت کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان کا جھنڈا اب بھی قندوز میں لہرا رہا ہے۔علاوہ ازیں واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ دہشت گرد دیگر ممالک سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں شدت پسند روس، چین اور پاکستان سے داخل ہوتے ہیں۔انہوں نے قندوز پر طالبان کے قبضے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔علاوہ ازیں کابل میں شہریوں نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت میں طالبان کے ایجنٹس شامل ہیں، جن کی وجہ سے طالبان کو کارروائیوں میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔افغانستان کی عسکریت پسند تنظیم طالبان کے لیڈر ملا اختر منصور نے کہا ہے کہ قندوز پرطالبان کا قبضہ ایک علامتی عمل تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان کی تحریک کس قدر توانا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملا منصور نے قندوز شہر پر قبضے کو تاریخی کامیابی قرار دیا۔ اسٹریٹیجک نوعیت کے شہر قندوز پر طالبان نے پیر کے روز قبضہ کیا تھا اور کابل حکومت کی فوج نے نیٹو کی مدد سے شہر پر دوبارہ مکمل کنٹرول جمعرات کے روز حاصل کیا ہے۔ ملا محمد عمر کی رحلت کی خبر عام ہونے کے بعد ملا منصور کو رواں برس اگست میں افغان طالبان کا نیا لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کی حمایت کرتا ہے اور مفاہمتی امن کی بحالی کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے،پاکستان کو قندوزپرحملے کے بعد افغانستان کی صورتحال پر تشویش ہے ۔ جمعہ کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہناتھاکہ پاکستان افغانستان میں مفاہمتی امن کی بحالی کیلئے پر عزم ہے ، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کی ہمیشہ حمایت کرتارہے گا ۔ مشیر خارجہ نے قندوز پر حملے کے بعد افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ افغان مفاہمتی عمل کو امریکہ اور چین کی بھی حمایت حاصل ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً