fbpx

مشرقی اور مغربی تہذیب کا فرق

ارشاد اللہ شادؔ
بکر آباد چتر ال

مشرق ومغرب کے تضاد اور مغرب کی برائیوں کے بارے میں ہم بہت سی باتیں کرتے ہیں اور مشرقی تہذیب کو سب سے بہتر اور اچھی تہذیب قرار دیتے ہیں۔ کیا مغربی تہذیب کو برُا کہنے سے ہم اپنی تہذیب اور اپنے معاشرے کی برائیوں کو چھپا سکتے ہیں یا اس بات کا دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی مشرقی تہذیب اور اپنے معاشرے کی ہر ضرورت کو سچائی ، نیک نیتی ، اور ہر رشتے کو پوری ایمانداری سے نبھا رہے ہیں۔ ان سب باتوں کا جواب ہمیں خود ہی تلاش کرنا ہوگا تب کہیں جا کر ہم اپنی آپ کو مشرقی تہذیب اور انسانی رشتوں کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھنے اور اسے پورا کرنے والا کہہ سکتے ہیں۔ ذیل میں اسی بات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایک مفکر نے کہا تھا ’’مشرق ، مشرق ہے اور مغرب ، مغرب اور یہ دونوں کبھی باہم نہیں مل سکتے ۔ ہر آدمی کی ہر بات درست نہیں ہو سکتی ، لیکن یہ بات ضرور درست مانی جا سکتی ہے کہ واقعی مشرق کچھ باتیں مغرب کی کچھ باتوں سے قطعی مختلف ہیں ۔ کچھ خوبیاں ہماری مشرقی روایات اور اقتدار میں پائی جاتی ہیں ، کچھ اچھائیاں مغرب کے اصول پسند معاشرے کا لازمی اور بہترین حصہ ہیں ۔ مشرق اپنی اخلاقی قدروں اور روحانی پاکیزگی کے حوالے سے مغرب سے کہیں بلند ہے اور طریقہ ہائے زندگی کو درست طور پر چلانے میں مغرب ہم سے کہیں بہتر ہے۔
کہا جاتاہے کہ انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے تین چیزیں لے کر گئیں : خوف خدا، قانوں کا احترام اور وقت کی پابندی ۔ اگر ہم اپنے معمولات زندگی پر نظر ڈالیں تو واقعی ہمارا دامن ان چیزوں سے خالی دکھائی دیتا ہے لیکن مغرب نے والدین کا احترام ، بزرگوں کی عزّت ، رشتے ناتوں کی اہمیت اور گھر گر ہستی جیسی انمول چیزوں کو کھو دیا ہے۔ اسلئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مشرق بہر حال مشرق ہے ۔ لیکن صرف چند اچھی باتوں پر۔۔۔۔۔۔۔ فخر کرنے سے ہم اپنی خامیوں کی پردہ پوشی نہیں کر سکتے۔ یہ بات ہمارے ذہنوں میں رہے کہ معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان کبھی اکیلا نہیں رہ سکتا۔ اسے اپنی زندگی بہتر اور محفوظ طریقے سے بسر کرنے کیلئے گروہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا خاندان ، قبلہ ، قوم اور ملک اس کی اس ضرورت کو پورا کرنے میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
انسان بلاشبہ ایک معاشرتی حیوان ہے۔ اس لیئے اسے اپنے دل کا حال سننے ، سنانے والا کوئی ہمدم ، کوئی ساتھی درکار ہوتا ہے۔ تارک الدّنیا ہو جانے سے،دنیا اہل ایمان کو رشتے نبھانے ، گھر بنانے ، خاندان کے ساتھ مل جل کر رہنے کی تلقین کی۔ کہا انسان ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹ سکے، ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہو سکے۔ مشکلات میں ایک دوسرے کی مددکر سکے اور جب خود کسی پریشانی کا شکار ہو تو اسے چار لوگ حوصلہ دینے والے موجود ہوں۔ لیکن ذرا اپنے معاشرے کے مجموعی حالات پر نظر ڈالیں تو معاشرے کی حالت کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ ایسے ہی حالات پر مرزا غالبؔ کا یہ شعر صحیح ثابت ہوتا ہے۔
رہیئے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زبان کوئی نہ ہو
اور معاشرے کے حالاتِ زار کو دیکھتے ہو ئے فیض کو اپنا درد ان لفظوں میں بیان کرنا پڑا۔
زندگی کیا مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
یہ کیفیت ہر اس درد مند اور حساس شخص کے دل پر طاری ہوتی ہے جو انسان کو انسان سے محبت کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے ۔ جب وہ انسان کو محض اولادِ آدم نہیں بلکہ شرفِ انسانیت سے بھی ہمکنار دیکھنا پسند کرتاہے ۔ مگر کیا ہمارا معاشرہ جس میں بے شمار خوبیاں ہیں واقعی اتنا ہی قابل ہے جتنا ہم کہتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔ ہم گھر اور گر ہستی یعنی چادر اور چاردیواری کے تحفظ کی بات کرتے ہیں ۔ لیکن یہ ہمارا ہی معاشرہ ہے جہاں عورت اگر اکیلی ہو تو خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے ۔ اور اپنے حقیقی رشتوں کے ساتھ ہو تب بھی استحصال کا شکار ہوتی ہے۔ سچ یقیناًکڑوا ہوتا ہے، آج ہمارے معاشرے میں خواتین اپنے حقیقی رشتوں کے ہاتھوں ذیادہ ذلیل و خوار ہوتی ہیں۔ اگر بیٹی ہے تو باب کی عزت پر قربان ہو رہی ہے ، ماں ہے تو بیٹے کی محبت پر مر رہی ہے، بہن ہے تو بھائی کی عزت کے بوجھ تلے پس رہی ہے، اور بیوی شوہر کی ذیادتی کا شکار ہے۔ غرض وہ ساس ہے یا بہو نند ہے یا بھاوج ، دیورانی ہے یا جھٹانی جہاں جہاں مرد اس کے ساتھ ہے وہ اپنے جیسی دوسری عورت کا استحصال کر رہی ہے کیونکہ کمزور کی حکومت کمزور پر ہی ہوتی ہے۔ مرد پر وہ حاکم نہیں ہو سکتی اس لیے اپنی جیسی عورت کو محکوم بنا کر خوش ہوتی ہے ۔ ایک طرف تو ہم اپنے بزرگوں کا خیا ل رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ میں کھڑے ہوکر سفر کرنے والے بزرگوں پر نظر ڈالیں ، بینکوں کی قطار میں ، ٹیلی فون اور بجلی وغیرہ کے بل جمع کرنے کے قطار میں ، سودا سلف لانے اور لے جانے والے ، بوجھ اٹھانے والے، جسمانی طاقت سے ذیادہ مشکل کام کرنے والے ، ہسپتالوں میں کھڑے ہوئے بے بس و لاچار بزرگوں کو دیکھئے ! کیا ہم میں سے ذیادہ لوگ ایسے ہیں یا چند لوگ ایسے ہیں جو ان بزرگوں کی مدد کرکے خوشی محسوس کر تے ہیں؟ سوچنے اور کرنے کے لیے ہمارے پاس بے شمار باتیں ہیں اور بہت سے کام ہیں ۔ بس صاحب دل ہونا چاہیے ، ہمارے یہاں ان باتوں کو بیان کرنے کا مقصد صرف آپ کی ذہین پر دستک دینا ہے ، یہ سب طے شدہ باتیں ہیں لیکن مجموعی طور پر جو نظر آتا ہے اسے دیکھ کر اس پر غور کرکے اگر اپنی خامیوں کو دور کر لیا جائے تو مشرق یقیناًاپنی خوبیوں کے ساتھ مغرب سے ذیادہ بہتر معاشرہ بن سکتاہے۔ کیونکہ زندگی ٹیکنالوجی کے ساتھ نہیں بلکہ انسانوں کے ساتھ بسر کی جاتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق