fbpx

شہر نا پرسان …….. چترال کے سیاسی میدان کا بے باک نمائندہ……..

.. حافظ نصیراللہ منصورچترالی….

چترال کی عوام نے اپنی جنم بھومی کے سیاسی اکھاڑے میں بڑے بڑے پہلوانوں کو رونق افروز ہوتے ،بچھاڑتے بچھڑتے ،اکھاڑتے ، اکھڑتے ،اور للکارتے دیکھا ہے ۔گردش ایام کے ساتھ پہلوانوں کے دنگل کا انداز بھی مختلف رہا ہے ۔کہیں خاندانوں کی بادشاہت ،تو کہیں رعایہ کی بیگاری، سیاسی لوٹوں کی ہٹ دھرمی اور حکمرانوں کے آپس کی چپقلش آئے روز نئے مسائل اور نیا ہنگامہ برپا کرتے دیکھائی دیتی اور آج بھی ان کے اثرات چترال کے محکوم طبقے اور بزرگوں میں نمایاں ہیں لیکن رعایہ میں اگر با ثر لوگ حکمرانوں کی بجائے ملک و قوم کے حق میں اخلاص رکھتے تو شاید آج چترال ترقی کی وہ منزلیں طے کر چکا ہوتا جو اب تک نہ کر سکا۔1948 ء سے قبل شاید حق کی صد اکوئی بہت بڑاجرم سمجھا جاتا تھا ،تعلیم، آپس کی ہم اہنگی اور اتحاد و اتفاق کو حکمرانوں کے خلاف سازش سمجھی جاتی تھی ۔وہ مفقود رویہ علاقے کے مکینوں کے لئے آج تک درد سر بن چکا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو غالبااس وقت کے حکمران قصور وار نہیں تھے جتنا عوام، صرف اپنے آباؤ اجداد کی یاد آوری میں یہ کہنا کافی ہوگا ’’لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی‘‘ جنگلات کی رائیلٹی ،زمینوں کی ناروا تقسیم اور سرکاری املاک پر جابرانہ قبضہ چترال کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں ۔شاہی خاندان کے چشم و چرا.غوں کو اسی نظرئے سے براجمان کرنا آج بھی فرسودہ نظام کو تحفظ فراہم کر رہا ہے عوام میں اکثر طبقہ حق رائے دہی میں غلامانہ نظرئے کے قائل ہیں۔ چترال اور ان کے باسیوں کے حقوق کے ساتھ ہاتھ کرنے والوں کونسل در نسل قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جنگل کے نظام قانون میں اگر جمہوریت شامل ہوتی شایدچترال سنگاپور سے کم نہ ہوتا۔ اس دور سے نکلنے والے زیرک افراد آج بھی چترال میں موجود ہیں جو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر راج کر رہے ہیں لیکن چترال میں ان کی وقعت میں کوئی خاطر خوا ہ اضافہ نہیں ہو ا ۔ ان میں سے ایک بے باک اور نڈر لیڈر فرداد علی شاہ بھی ہیں ایک اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ چترال کے حقوق کے لئے ہمیشہ ہر فورم میں آواز اٹھاتے رہے۔اور اپنے علاقے کے لئے دل میں درد رکھتے ہیں۔موصوف سے میری پہلی ملاقات ایک انٹر ویو کے سلسلے میں ان کی رہائش گاہ واقع اتالیق بازار میں ہوئی ۔ جب میں نے ان کو کا ل کرکے ملاقات کی درخواست کی تو موصوف اس وقت اسلام آباد کے لئے رخت سفر باندھے ہوئے تھے ۔سفر موخر کرکے ہمیں ویلکم کہا ایک گھنٹہ کی طویل انٹر ویو میں وہ باتیں کہہ دی جو کسی اور سیاسی لیڈر میں ،میں نے نہیں دیکھی۔ موصوف 1952 ء میں شاہی خاندان کے ایک سپہ سالار اتالیق سرفراز شاہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول چترال سے حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کا لج لاہور میں داخلہ لیا۔ 1970 ء میں یہاں سے ایف ایس سی پاس کرکے پاکستان ائیر فورس کو بحیثت جٹ فائٹر پائلٹ جوائن کیا 1993 تک ائیر فورس کے ساتھ منسلک رہے اس دوران پاکستا ن ائیر فورس کے مختلف جہاز چلانے کا موقع ملا۔قابلیت کی بنیاد پر سکارلر شپ پر الجزائر میں تین سال رہے قیام کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا ۔پاکستان ائیر فورس فلائنگ ونگ کو کمانڈ کیا جو کہ پورے چترال کے لئے ایک اعزازسے کم نہیں تھا ۔ونگ کمانڈر کے عہدے پر فائز رہے جو کہ ایک کرنل کے عہدے کے مساوی ہو تاہے،کمانڈ کے دوران موصوف کے ٹریننگ یافتہ تلامذہ آج بھی اعلی اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ ریٹائر منٹ کے بعد سوشل ورک شروع کیا عوام میں بیداری او رشعور پیدا کرنے کے لئے صحافت کے میدان میں ہندو کش اخبار کا اجرا کیا ۔آج بھی صحافت سے منسلک ہیں اور چترال کے ایک معروف انگریزی ان لائن نیوز سائیڈ کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ سیاست میں قدم رکھ کر پاکستان تحریک انصاف جائن کرنے کے بعد پارٹی کے ایک اہم کارکن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ بلدیاتی الیکشن میں کامیابی حاصل نہ کر سکے البتہ الیکشن میں ناکامی کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں جھوٹ فریب اور دھوکہ دہی کی سیاست کا حامی نہیں ہوں کھری باتیں اور سچ بولنا ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ میں لوگوں کو ابھی تک سمجھا نہیں تھا ۔ موصوف کا کہنا تھا کہ میں لوگوں سے صرف ایک وعدہ کرتا رہا ’’کامیاب ہونے کے بعد حکومتی فنڈ کے ساتھ اپنے پیسے بھی ملا کر آپ کی خدمت کروں گا آپ کے مسائل حل کروں گا اور ہر فورم میں آپ کے حقوق کے لئے آواز اٹھاؤں گا ‘‘ یہ بات مجھے بہت پسند آئی ،بہت بڑی بات تھی کیونکہ ہمارے سیاستدان کرپشن ،اقرباپروری لوٹ مار کی ٹھان رکھے ہوئے ہوتے ہیں دولت اکھٹا کرنے کو سیاست سمجھتے ہیں ۔ کروڑ پتی سے ارب پتی بننا چاہتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم بھی مستقبل پر یقین نہیں رکھتی ایڈوانس کو ترجیح دیتی ہے شاید یہ بھی ہمارے حکمرانوں کی مرہون منت ہے(جیسے دیس ویسے بیس) جو جھوٹے وعدے کرتے کرتے ہمیں اس فیصلے پر اتار رکھے ہیں ۔ ہمارے اورہماری آنے والی نسل کے لئے زہرقاتل ہے اور ہمیں ملک و قوم اور نسل کے ساتھ نا انصافی پر امادہ کر تا ہے ہمیں اگر ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا ہو نا ہے تو مستقبل پر نظر رکھنا ہوگا سونے اور پتھر کے فرق کو بھاپنا پڑے گا ایسے افراد کولیڈر شپ کے لئے سیلیکٹ کرنا ہوگا جو کم ازکم ہمارے حقوق پر ڈاکے نہ ڈالیں اور اپنے قابل اورباصلاحیت فرزند ان کو اگے لانا ہوگا ورنہ ہم پتھر کے زمانے میں ہی رہیں گے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق