fbpx

(رُموز شادؔ ) ہماری صحافت پر مغربی میڈیا کے زہریلے اثرات۔۔

        ایڈیٹرکا مراسلہ نگار کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں

ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال

اسلامی معاشرے پر مغربی اثرات کے تباہ کن نتائج کو دیکھتے ہوئے عرصہ دراز سے آرزو تھی کہ اس بارے میں اپنے دردِدل کا اظہار کیا جائے۔ہماری صحافت پر مغربی میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کسی سے مخفی نہیں۔۔۔۔۔
سیاسی اثرات: سب سے پہلے تو یہ دیکھا جائے کہ مغربی میڈیا کے منفی اثرات ہیں کیا؟ یہ بات ہمیں تسلیم ہے کہ مغربی ذریعہ ابلاغ ایسی خبریں نشر نہیں کرتا جن کا سرے سے وجود ہی نہ ہو۔ان کی یہ مجبوری ہے کیونکہ ان پر پوری دنیا کی نظریں ہوتی ہیں۔اور خلاف واقعہ بات کرنے سے ان کو وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے جو طمع سازی ہے ہوتے ہیں۔حقائق بیان کردئے جاتے ہیں پھر تبصرے کے نام پر ان سے اپنے مطلب کے نظریات کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔لہٰذا یہ بات ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ مغربی صحافت کے اصول،اسلامی صحافت سے آگ اور پانی کی طرح متضاد ہیں۔ایک تعصب کی عینک سے دیکھنے کا قائل ہے جب کہ دوسرا قرآن و سنت کے آئینے میں۔اور اس میں انداز اظہار سے فرق واضح ہوجاتا ہے اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔۔۔۔
مثلا:علماء،مذہبی لوگوں کے بارے میں دشمنان اسلام کے عزائم و نظریات کسی سے مخفی نہیں۔اس لئے ان کا میڈیا بھی اسی تصور کو اجاگر کرنے کیلئے ہی پیش کرتا ہے اور ہمیں صدہا افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے اخبار بھی انہی کی تقلید کر رہے ہیں وہ بھی طلباء ،علماء کرام اور دیگر مذہبی خیال لوگوں کے بارے میں وہی خبریں تلاش کرتے ہیں جن سے عوام بدظن ہو۔مغربی تعلیم سے کسی نے منع نہیں کیا بلکہ اس کے زہریلے اثرات جذب کرنے سے منع کیا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے۔۔
مشرقی و مغربی تعلیم حاصل کر مگر
بن کے علامہ وبال جان نہ بن
اور یہی اثرات ان کو لے ڈوب رہی ہے اب ان کیلئے اسلام پر بلا ہچکچاہٹ کیچڑ اچھالنے کا دروازہ کھل چکا ہے۔مغربی عفریت اب ہمارے صحافیوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ یہ طلباء و علماء اور دیگر مذہبی اشخاص وغیرہ محض سرپھروں کا ایک ٹولہ ہے جو دنیا میں دہشت گردی پھیلانے اور ہمارے پر امن معاشرے کو برباد کرنے کاخواہاں ہے،مذکورہ بالا تو سیاسی اثرات پر مبنی تھی اور دینی بے راہ روی کی بات کرو تو سر شرم کے مارے جھک جاتا ہے۔۔
ہمارے اخبارات جو اسلامی کالم شائع کرتے ہیں،ان میں کبھی ان موضوعات پر قلم نہیں اٹھا جو بکثرت قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔لیکن معاشرے میں پائے جانے والی بدعات و منکرات،مشرکانہ خیالات کے بارے میں ان کے اسلامی صفحات گنگ ہیں کیونکہ ان کا مقصد عوام میں دینی شعور بیدار کرنا نہیں۔اسلامی کالم میں مضامین محض خانہ پری کیلئے ہی ہوتے ہیں تاکہ یہ لوگ نام نہاد مسلمانوں کی صف میں شامل ہوسکیں۔۔
راضی رہے رحمٰن بھی،خوش رہے شیطان بھی
ہاں البتہ ان مسائل کی خوب تشہیر کی جاتی ہے جو اقلیتوں کی علامت ہے،اقلیت کی ناراضگی گوارا نہیں مگر اکثریت کی بڑی فراخدلی سے دل آزاری کی جاتی ہے۔مثلا اب محرم کا مہینہ ہے۔تجربے کیلئے محرم کے مہینے میں اپنا پورا میڈیا چاہے ٹی وی ہو،ریڈیو ہو یا اخبارات ہوں ان کے حوالہ کر دیا جاتا ہے اور وہ خوب دل کھول کر اپنے من گھڑت مسائل بیان کرتے ہیں اور اہل سنت کا رد کھلے بندوں کرتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کے خلاف طعن و تشنیع میں بھی یہ اخبار ان کے معاون بنتے ہیں۔اور پھر خبروں میں شکوہ کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فساد ہورہے ہیں گویا عہد کر رکھا ہو کہ سیاسی،دینی اور معاشرتی ہر لحاظ سے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔
پڑھنے کو جی چاہتا ہے تو چلو کچھ معاشرتی بے راہ روی کے بارے میں بتاتا چلوں!معاشرتی لحاظ سے تو یہ اخبار اسلام کو مغرب کے مساوی دکھانے میں کسی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔پاکستان میں چھپنے والے تمام اخباروں کا فرنٹ پیج کسی نیم عریان غیر ملکی طوائف کی تصویر سے مزین ہوتا ہے،ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد صرف اور صرف حصول زر ہے اس لئے ان چیزوں سے پاکستان کے بے راہ رو عوام اخبار کی طرف اپنا توجہ زیادہ مبذول کرتے ہیں۔
فلم اور شوبز کا صفحہ ہر اخبار کا لازمی جز ہوتا ہے جس میں بے حیائی کی انتہاء کردی جاتی ہے۔اداکاروں،گلو کاروں اور اداکاراؤں کے ذاتی معاملات اور ان کے آپس کے ناجائز تعلقات کو دلچسپ خبر اور ان آوارہ،بدمعاش ایکٹروں کو ہیرو بنا کرپیش کیا جاتا ہے۔یہ بات صرف پاکستانی اداکاروں تک محدود نہیں بلکہ ہندوستانی اور مغربی فلمی اداکاروں کے گمراہ لیل و نہار پر بحث کی جاتی ہے،یعنی یہ فرزندان پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ تمہارے آئیڈیل ہیں،ان کے نقش قدم پر چل کر تم کامیابی اور سرفرازی کے منازل کو چھو سکو گے۔اخباروں ساتھ ملحق رسائل میں بھی مغربی کلچر کو فروغ دینے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا جاتا۔اخبارات کے سوالات کے کالم میں اکثر و بیشتر یہ سوالات ہوتے ہیں کہ میرا فلاں عاشق ہوگیا ہے اور اس معاملے میں آپ سے مشورہ چاہتے ہیں تو اسلامی معاشرے کے یہ سپوت جواب دیتے ہیں کہ عشق کوئی جرم یا گناہ نہیں،آپ اپنے محبوب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اور فلاں فلاں حربہ استعمال کریں،ستم یہ کہ ان خبیثوں نے یہاں پر بس نہیں کیا بلکہ باقاعدہ مضامین لکھ دیتے ہیں کہ لڑکیوں کو کس طرح اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔
پھر اسی میں یہ لوگ اپنے نام نہاد تہذیب کا لبادہ اتارتے ہوئے پردہ کے معاملے میں باپردہ خواتین کو ایسے القابات سے نوازتے ہیں جو جانوروں کیلئے موزون ہیں۔پھر عورت کی آزادی کی آڑ لے کر جو زہر اگلا جاتا ہے ،پڑھ کر ایک سلیم الطبع آدمی بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس مضمون کا مولف سیکولر اور سوشل ذہن کا مالک ہے جس کا اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
یہ کرتوت ہیں جن میں یہ پیش پیش ہوتے ہیں اور ملک کو سنوار رہے ہیں۔میں اس کا فیصلہ ہر ذی ہوش،ذی عقل قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ کیا یہ مغربی فحاشی اور غلامی پاکستان پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں ہے؟یہ ایجنٹ پاکستان کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟کیا یہ نہیں چاہتے کہ یہملک شہوت پرستوں کا گہوارہ بن جائے جہاں ایک جنس دوسرے کے پیچھے دوڑ رہی ہو؟ کیا یہ کفار کیلئے پاکستان پر قبضہ کرنے کے راستے ہموار نہیں کر رہے؟ کیا کوئی ذی عقل کسی عشق مجاز کے ڈسے ہوئے سے یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ وہ میدان کارزار میں شجاعت کے جوہر دکھائے؟ جب یہ مضامین نظر سے گزرتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ان اخباروں کو پڑھ کر یہ خیال آتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل کن ہاتھوں میں ہوگا؟ اور یہ پاکستان کے سب سے کثیر الاشاعت اخبار ہے مگر کیا کریں۔۔۔؟
یہ حرف تمنا سے زباں کی دوریاں
اور سختیاں،دشواریاں،پابندیاں،مجبوریاں
اے قوم اگر تم ساتھ نہ دو تو ہم سے اکیلے کیا ہوگا
ہمارا کام تھا ان اسلام دشمنوں کا چہرہ بے نقاب کرنا
کیا ان فرض شناسوں نے کبھی فتوحات اسلام،کبھی سیرت رسول ﷺ پر بحث کیا ہے؟ کبھی خالد جرارؓ کی فتوحات کے قصے بیان کئے؟ کبھی طارق بن زیاد ؒ کی یلغار کی داستانیں سنائیں؟ کبھی سید صلاح الدین ایوبیؒ کی غیرت مندی کی سرگزشت بیان کی؟کبھی ٹیپو سلطان کی شجاعت کی کہانیاں سنائیں؟ ان کو تو بس نوجوانوں کو عشق مجازی میں ڈال کر تباہ کرنے کی فکر ہے۔
اور ہمارا مطالبہ اور ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ ’’جاء الحق و زھق الباطل‘‘ کی آیت پر طفلان پاکستان،شیخ و شاب پورا اتر کر پوری دنیا کو یہ درس دے کہ یہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور یہاں شبانہ روز اسلام کی سربلندی کی باتیں ہونگی اور پاکستان کی صحافت پر ’’جاء الحق و زھق الباطل‘‘کی دہائی آنا ہوگی۔انشاء اللہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق