fbpx

آو تم کو سیر کرائیں ضلع نا پرساں کی

ایڈیٹرکا مراسلہ نگار کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں

تحریر:سرور کمال

چترال کے لوگ آج کل سیلاب کی تباہ کاریوں سے نڈہال ہیں یعنی انکے زخم ابھی بھی ترو تازہ ہیں۔ مگر افسوس وہ لوگ اور ادارے جن کو اس نازک وقت میں لوگوں کی مشکلات کو کم کرنا چاہئے تھا وہ الٹا مظلوم چترالیوں کے لئے وبال جان بن چکے ہیں بلکہ غیر محسوس طریقے سے ان کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں ۔ چترال کے لوگوں کو نت نئے طریقو ں سے جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔پہلے قومی اور صوبائی سطح پر صرف دولوگ چترال کی نمائندگی کیا کرتے تھے اور کسی حد تک ڈیلیو ر بھی کیا کرتے تھے ۔اب تو ماشا اللہ یک نہ شد چہار شد یعنی صوبائی اور قومی اسمبلوں میں چار لوگ چترال کی نمایندگی کر رہے ہیں اور ان کی کار کردگی ہم سب کے سامنے ہے ۔اوپر سے حال ہی میں ضلعی حکومت بھی نازل ہو چکی ہے وہ بھی خواب خرگوش میں مست ہیں ۔ عبدلوالی خان بائی پاس گزشتہ کئی سالوں مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ اس سے اٹھنے والے گرد و غبار کی وجہ سے چترال میں انکھوں کی الرجی اور سانس کی مختلف بیماریوں میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے ۔ یہ اعداد و شمار ڈی ایچ کیو ہسپتال کے او پی ڈی رکارڈ سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔کاروباری حضرات بھی شدید ذہنی ازیت میں مبتلا ہو چکے ہیں بلکہ وہ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں اسی طرح آج کل چترال میں ظالمانہ لوڈ شیڈنک کا دورانیہ 18 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے ۔وفاقی وزیر بجلی و پانی خواجہ اصف صاحب کے مطابق بجلی ترجیحی بنیادو ں پر صرف ان علاقوں کو مہیا کی جائے گی جہاں لائین لاسس سب سے کم ہونگے ۔چترال پاکستان کا شاید واحد ضلع ہوگا جہاں بجلی چوری ، کنڈا سسٹم کا تصور بھی نہیں ہوگا یہاں کے لوگ باقاعدگی کے ساتھ اپنے واجبات وقت پے ادا کرتے ہیں ۔اسی طرح لائین لاسس نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ شاید اسی لئے ہمارے ساتھ یہ ظلم روا رکھا جارہا ہے کہ ہم اتنے اصول پسند کیوں ہیں ؟؟ دوسری طرف پی ٹی سی ایل والوں نے بھی بھتے کی ایک نئی قسم ایجاد کی ہے۔ یعنی ڈی ایس ایل کے نام پر عوام کو چونہ لگا کر مہینے کے اخر میں بھاری بھر کم سر چارجز وصول کر رہے ہیں ۔چترال کے لوگ پہلے ٹمبر مافیا کے بارے میں سنا کرتے تھے اب تو سیب اور آلو مافیا بھی سر گرم ہو چکا ہے ۔ آج کل سیب اور الو سیکڑوں کی تعداد میں ٹرکوں کے زریعے چترال سے باہر لے جا رہے ہیں۔ بونی اور بریپ کا روایتی خوشبودار اور شاندار سیب چترال کے مارکیٹوں سے گزشتہ چند سالوں سے بالکل غایب ہے کیونکہ ادھر باغ سے ہی سارا مال اونے پونے داموں اٹھا کر پشاور لے جایا جاتا ہے ۔ اسی طرح الو بھی چترال کے باسیو ں کے لئے بھی اجنبی ہے ۔ ہاں بعد میں یہی الو سردیوں کے موسم میں دوبارہ پشاور سے چترال لا کر ہمیں انتہائی مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے ۔ دوسری طرف ہوائی جہاز یعنی ہوائی سفر کی مد میں دنیا اور خطے میں فی ناٹیکل میل کے حساب سے سب سے مہنگا ٹکٹ خریدتے ہیں ۔ضلع چترا ل کا شمار پاکستاں میں تعلیم کے شعبے میں سب سے زرخیز علاوقوں میں کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہمیں بے نظیر بھٹو کیمپس اور عبدالولی خاں کیمپس کے نام پر ہمیں ٹر خایا جاتا ہے حالانکہ یہاں ایک علحیدہ اور ایک باقاعدہ فعال یونیورسٹی کی اشد ضرورت ہے ۔
میرے معزز قارعیں شاید مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اب قراردادو ، سپاہ ناموں اور درخواستوں کا وقت گزر چکا ہے ۔ ہم پر امن احتجاج کے تحت ہی اپنے جائز مطالبات منواسکتے ہیں اس بات کا عملی ثبوت ریشن کے طلبا نے ٹراسپورٹ کے لئے روڈ بلاک کر کے حکومت اور انتظامیہ کو گوٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور 24 گھنٹے کے اندر انہیں بس بھی مہیا کی گئی جو کہ انکا حق تھا ۔ہم نے اکثر یہ محاورہ سنے ہے کہ لاتوں کے بت باتوں سے نہیں مانتے یہ محاورہ ہمارے ارباب و اختیار کے لئے پورا اترتا ہے ۔اجتماعی کوشش اور اجتماعی دانش کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا ۔ قر آن پاک کا بھی مفہوم ہ کہ خد ا اس قوم کی حالت نہیں بدلتی جس کو خیال نہ ہو خود اپنے حالت بدلنے کا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق