fbpx
مضامین

عبدالولی خان بائی پاس ، تجاویز ، حکومتی اور عوامی زمہ داریاں

……..سرور کمال………

اخر کار گزشتہ ایک دہائی سے لٹکا ہوا بائی پاس روڈ بہت کھٹن اور انتہائی اذیت ناک انتظار کے بعد آج کل اپنے اختتامی مراحل کی جانب گامزں ہے ۔۔بائی پاس روڈ کے تقریباً 70% سے بھی زیادہ حصے پر بلیک ٹاپنگ یعنی ترکول بچایا جا چکا ہے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حضرت انسان کی زندگی میں نمایاں بہتری کے اثار واقع ہوئے ہیں ۔اگر حضرت انسان اپنی عقل و فراست یعنی بہتر منصوبہ بندی نہ کرے تو بعض اوقات یہ سہولیات اور اسا ئیشیں اس کے لئے وبال جان ثابت ہو سکتے ہیں ۔مثال کے طور پر جب موٹر وے کا افتتاح کیا گیا تھا ۔ تو شروع کے چند مہینوں میں بہت سے قیمتی انسانی حلاکتیں روزانہ اخباروں اور ٹی وی کی زینت بنا کرتے تھے ۔اس وقت موجودہ وزیر اعظم کے مخالفین خصوصاً اپوزیشن والے طنزً اس منصوبے کو ” خونی شاہ راہ قرار دیتے تھے ۔حلانکے یہ ایک شاندار اور بہترین منصوبہ تھا ۔ جس کے تحت لوگوں کو بین الاقوامی معیار کی آرام دہ سفری سہولیات مہیا کرنا مقصود تھی ۔اس موٹر وے کے ذریعے غریب کا شتکار بر وقت اپنے فصلوں اور پھلوں کو منڈیوں تک پہنچا کر اصلی دام حاصل کر سکتے تھے ۔یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہمارے حکمران اور ارباب اختیار جب بھی کوئی منصوبے شروع کرتے ہیں تو مکمل اس پر کام نہیں کرتے حالانکے ہر پہلو کو انتہائی باریک بینی سے دیکھا جانا چاہئے ۔ مثال کے طور پر حکومت نے سادہ لوح اور ان پڑھ لوگوں کے ہاتھوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر کریڈیٹ کارڈ تھما دئے ہیں ۔ جن کو استعمال کرنا ان کی بس کی بات نہیں ہے ۔کہتے ہیں کہ وقت بہتریں استاد اور دوا بھی ہے اسی طرح موٹر وے پر سفر کرنے والوں کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایجوکیٹ کیا گیا ، انہیں سائیں بورڈ اور مقررہ حد رفتار کے بارے میں بتایا گیا جس کی وجہ سے حادثات اور انسانی جانوں کی ضیاع میں نمایان کمی واقع ہو چکی ہے ۔اس سے پہلے ڈرائیور حضرات موٹر وے پر حد سے زیادہ تیز رفتاری یا حد سے کم رفتاری کی وجہ سے حادثات سے دو چار ہوتے تھے۔بحیثیت قوم ہم میں ایک بڑی خرابی ہے کہ ایک سہولت کو بہت انداز میں استعمال کرنے کی بجائے ہم اس میں منفی پہلو ڈھونڈتے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے لئے اور دوسروں کے لئے درد سر بن جاتے ہیں۔اس طرح کے صورتحال آج کل بائی پاس روڈ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔نوجوان موٹر سایکل سوار اور گاڑی چلانے والے بائی پاس ورڈ پر گاڑیاں اورموٹر سایکل ایسے چلا رہے ہیں گویاکہ وہ فارمولا ون ریس یا ڈکار کا رریلی میں حصہ لے رہے ہوں ۔ اس نا چیز نے چند ایسے تجاویز مرتب کئے ہیں اگر ان پر عمل کیا جائے تو انشاء اللہ بائی پاس روڈ کو ہم بہتریں انداز سے استعمال کر سکیں گے ۔تجاویز یہ ہیں ۔
* ایک خاص حد رفتار بائی پاس روڈ کے اندر چلنے والے موٹر سایکل اور گاڑیوں کے لئے متعین کیا جائے ۔ اور سپیڈ کرنے والوں کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹ لیا جائے ۔ آج کل موٹر وے پولیس والوں کے پاس جدید مشینیں ہیں جس کے ذریعے حد رفتار معلوم کیا جا سکتا ہے ۔ایسے مشینوں کو منگواکر ٹریفک پولیس چترال کے حوالے کئے جائیں ۔
* موٹر سایکل چلانے والوں کے لئے ہیلمیٹ اور گاڑیوں کے اندر بیٹھنے والوں کے لئے سیٹ بیلٹ لازمی قرار دیا جائے ۔ بد قسمی سے قانوں صرف کاغذوں کی حد تک ہمارے پاس موجود ہے المیہ یہ ہے کہ خود پولیس والے ان قوانین کی پاسداری ہیں ۔امریکہ اور یورپ میں جدید تحقیق کے مطابق 80 % حادثات کے دوران سیٹ بیلٹ کے ذریعے انسانی جانوں کو بچایا جا چکا ہے ۔ اگر ڈیوٹی پر موجود ٹریفک پولیس ان قوانیں پر عمل داری کو یقینی نہ بنائے تو انکے خلاف بھی سخت کاروائی کرنی چاہئے ۔
* ضلع چترال کے اند رتمام چابی چور گاڑیوں اور موٹر سایکل رکھنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔بعض اوقات انکی وجہ سے امن و عامہ کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ کیونکہ انکا کوئی رکارڈ نہیں ہوتا ۔ بد قسمتی سے یہ ساری چیزیں ہماری پولیس کے ناک کے نیچے ہو رہے ہیں۔وہ پردہ داری کے نام پر ایسے لوگوں کو کھلی چھٹی دیتے ہیں ۔ حکومت ایسے اقدامات کرئے کہ ایسے پولیس اہلکار اور عام عوام جب ایسے عناصر کی نشاندہی کریں تو انکی حوصلہ افزائی کی جائے، ان لوگوں کے ناموں کو صیغہ راز میں رکھا جائے اور ایسے پولیس والوں کو تعارفی اسناد اور محکمانہ ترقی سے نوازا جائے ۔جب تک کسی معاشرے میں سزا و جزا کا تصور پرواں نہیں چڑ ھے گا تو وہ معاشرہ ساکت اور بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے * لایسنس نہ رکھنے والوں کے خلاف ا ہنی ہاتھو ں سے نمٹا جائے ۔ صرف چند سو روپوں کے جرمانوں سے ہم سدھرنے والے قوم نہیں ۔ گزشتہ دنوں جب کراچی میں ڈی ائی جی ٹریفک نے اعلان کیا کہ لایسنس نہ رکھنے والوں کو سرکاری مہمان خانوں یعنی سلاخوں کے پیچھے کر دیا جائے گا تو سارا کراچی امڈ پڑا لایسنس بنوانے کے لئے ۔
* ہمارے نوجوان خصوصاً ٹیکسی چلانے والے بھائی مختلف قسم کی منشیات اور نشہ اور گولیوں کا عا م استعمال کرتے ہیں اکثر حادثات اس وجہ سے جنم لیتے ہیں ۔ایسی دوائی فروشوں اور منشیات کے کاروبار سے منسلک لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جو نوجوانوں میں زہر بانٹتے ہیں ۔
* ابھی تک بائی پاس کے دونو ں اطراف پید ل چلنے والوں کے لئے فٹ پاتھ کا کوئی خاص انتظام نہیں کیا گیا ہے ۔جس کی وجہ سے لوگ سڑک پر چلنے پر مجبور ہیں ۔اس بے ھنگم ٹریفک اور غیر زمہ درانہ ڈرائیونگ کی زد میں وہ کبھی بھی آسکتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سڑک کے دونوں اطراف پینٹ یعنی رنگ کے زریعے فٹ پاتھ کی نشاندہی کی جائے ۔ یعنی ڈرائیور حضرات اور پید ل چلنے والوں کو ایک گائیڈ لائین فراہم کی جائے ۔
* اگر خدا نہ خواستہ کم عمر لوگوں سے کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو انکے بڑوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔
* سائیں بورڈوں کے بارے میں ڈرائیور حضرات کو مکمل ایجوکیٹ کیا جائے انہیں ٹریفک کے قوانیں کے بارے میں بتایا جائے ۔ بہتر ہوگا پمفلٹ چھاپ کر ڈرائیوروں میں تقسیم کئے جائیں۔
* ائیر پورٹ روڈ سے لیکر کڑوپ رشت کے قریب تک دریا کی سایڈ والے حصے کو باقعدہ ڈرلنگ کے ذریعے سوراخ کرکے کنکریٹ اور سرئے پر مشتمل ایک مظبوط دیوار کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اس جگہ پر کئی گاڑیاں اور موٹر سایکل سوار ماضی قریب میں چیو پل کے نیچے گر چکے ہیں اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکے ہیں ۔ اسی طرح موڑین گول کے پل کے پاس یعنی چھاونی والی سایڈپر بھی سیفٹی دیوار وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ پل کی تعمیر کی وجہ سے وہاں ایک خطرناک کھائی بن چکا ہے اور ابھی تک اس کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے ۔اس کھائی کی وجہ سے کسی بھی وقت جانی نقصان ہو سکتا ہے ۔ نجانے حکومت اور انتظامیہ کی انکھیں کب کھولیں گے ہمیں مزید لاشوں کا انتظار نہیں کرنا چاہئے ۔
* اب میں جس نقطے کو اجاگر کرنے جا رہا ہوں میرے نزدیک اس کی سب سے زیادہ اہمیت ہے ۔ نیو چھاونی پل سے لیکر پولوگراونڈ گیٹ کے سامنے تک اور اسی طرح کڑوپ رشت سے لیکر چیو پل تک بائی پاس روڈ کو تین فٹ چوڑی اور دوفٹ لمبی دیوار کے زریعے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ۔ جس طرح چھاونی ہسپتال کے سامنے سکاوٹس والوں نے روڈ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔جس کی وجہ سے ٹریفک کی بہاو اور روانی قائم رکھنے میں مدد ملے گی یعنی ڈرائیو ر حضرات اور پیدل چلنے والوں کو اپنے حدیں تعین کرنے میں آسانی ہوگی جس سے حادثات پر ہم خاطر خواہ قابو پاسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی جغور کی طرف سے ائیر پورٹ یا دنین کی طرف جائے گا تو وہ اپنے لیفٹ سائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے اگے جائے گا ، اسی طرح اگر کوئی بلچ سے دنین یا جغور کی طرف آئے گا تو وہ صرف پرانا بازار کو استعمال کرے گا ۔ اگر اس تجویز پر عمل نہ کیا جائے تو میرے نزدیک بائی پاس روڈ کی اصل فوائد سے ہم محروم ہونگے ۔روڈ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے جو دیوار بنے اس میں سبزہ و پھول اور گلاب لگائے جائیں ، اس سے ماحول ، ہماری شخصیت اور نفسیات پر یقیناًاچھے اثرات مرتب ہونگے ۔اسی طرح کڑوپ رشت سے لیکر چیو پل تک روڈ کو بھی اسی طرح سجایا جائے ۔
* ضلعی انتظامیہ بائی پاس کے اند ر کوڑدانوں کا وافر مقدا ر میں دستیابی کو یقینی بنائے اور عام لوگوں پر بھی واجب ہے کہ بازار کے اند صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے ۔
* اگر ممکن ہو تو پُرانا نیشنل بینک کے سامنے اور بائی پاس کے اندر گولدور کے قریب جو نیا چوراہا بن گیا ہے وہاں تھوڑا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ یعنی زمین کے اندر کھودائی کر کے چترال میں بھی انڈر گراونڈ اور فلائی اوور کی طرز کا نظام لایا جائے ۔ مثلا جنگ بازار اور ڈی سی افس سے گاڑیا ں الفلاح بینک کے سامنے زیر زمین پرانا بازار کی طرف جائیں گے اسی طرح جغور سے ائیر پورٹ کی طرف گاڑیاں اُپر سے گزریں گے ۔ اسی طرح گولدور میں بھی اس طریقے کو وضع کیا جائے ۔ جس طرح ش ششہ واٹر سپلائے یعنی گرم چشمہ رود پر لوگوں کو پتھروں سے بچانے کے لئے مضبوط پیلروں اور چت کے ذریعے ایک کمرہ نما سٹرکچر تعمیر کیا گیا ہے بالکل اسی طرز کی تعمیر کرنا میرا مقصود ہے ۔ اس سے ٹریفک کی روانی اور بہاو کو قائم رکھنے میں مدد ملے گی کیونکہ چترال میں گاڑیوں میں ہوشربا اظافہ ہو چکا ہے۔
اخر میں تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاوں کرکے ہم اس منصوبے مستفید ہو سکتے ہیں اور خصوصاً والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نصیحت کریں کہ بائی پاس روڈ پر ویلنٹینا روزی اور میکل شومارکر کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق