fbpx
مضامین

(رُموز شادؔ )دنیا میں فساد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذمہ دار کون؟ ایک حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔ دنیا جسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 ارشاد اللہ شادؔ ۔۔۔۔ بکرآباد چترال

اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات میں منافقین کی ایک خصوصیت ذکر فرمائی ’’ترجمہ: جب ان کو کہا جاتا ہے زمین میں فساد مت کرو ، تو کہتے ہے کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں ، یاد رکھو! بے شک یہی لوگ مفسد ہے، لیکن وہ لوگ اس کا شغور نہیں رکھتے۔‘‘ اس آیات کریمہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، ویہ لوگ اس نظام عالم میں فساد کا باعث ہے۔ اس لیے کہ یہ زمین بھی اللہ کی ہے، یہاں نظام بھی اسی کا چلنا ہے، جو لوگ اس نظام کو ماننے والے ہیں وہی مطیع اور مصلح ہے اور جو اس نظام کو تسلیم نہیں کرتے وہ کافر اور مفسد ہیں۔لیکن مفسدین اپنے فسادی ہونے کا اقرار نہیں کرتے بلکہ مصلحین ہونے کے دعویدار ہیں ۔ لیکن قرآن صریح الفاظ میں اس بات کا اظہار کرتاہے کہ یہی لوگ زمین میں فساد کا جڑہے۔ انہی کفار اورمنافقین کی وجہ سے دنیاکے امن کو خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔ چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والی ان آیات کا جب ہم اپنے دور کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو بعینہ وہی منظر ہمارے آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ آج بھی کفرونفاق کے دلدادہ جن کی وجہ سے پورے عالم کے اندر فساد پھیلا ہوا ہے۔ اپنے آباؤ اجداد کی پیروی کرتے ہوئے مصلحین ہونے کے دعویدار ہیں اور اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلمان دہشت گرد ہیں ! انہوں نے پوری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دیا ہے، دہشت گردوں کے خلاف ہمیں مل کر کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا ، یہ دنیا کا وہ خطرناک ترین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے عالم کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کو بنیاد بنا کر عالمی امن کے ٹھیکدار مسلماتوں کے خلاف اپنی دلی نفرت اور بغض کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ آیئے ۔۔۔۔۔۔ ذرا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا واقعتا مسلمانوں کی وجہ سے آج پوری دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے؟
سب سے پہلے ہم ایک مختصر سا جائزہ ان غیر مسلم باشندوں کا لیتے ہیں جو مختلف اسلامی مملک میں صدیوں سے آباد ہیں۔ ہمیں پوری دنیا کے اندر کوئی اسلامی ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اپنے ملک میں رہنے والے ذمیوں کے ساتھ ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہو ۔ کیا وہاں ان ذمیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا؟ کیا ان کی خواتین کو بے آبرو کیا گیا ؟کیا ان کے نوجوانوں کا بلا کسی جرم کے خون بہایاگیا؟ اسلامی ملک میں ہونے والی کسی بھی خونریز کاروائی یا دھماکے کے بعد ان کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا؟ کیا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا غیر امتیازی سلوک کیا گیا؟ ان تمام سوالوں کا جواب آپ کویقیناً’’نہیں ‘‘ میں ملے گا۔ ۔ گزشتہ داستان سنانے کی ضرورت نہیں ہے حال ہی میں ہندو مذہب کراچی میں دیوالی کی تقریب پوری جوش و خروش سے منائی ، ان کو یہ بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم ہندو مذہب کے پیروکار ہے اور ہمارا شمار اقلیتوں میں ہوتا ہے ۔ اور وہ بلا کسی خوف و خطر اپنی تقریب منائی ، اور پاکستانی قوم شانہ بشانہ انکے ساتھ خوشی منائی اور ان کو یہ درس دیا کہ آپ پاکستان میں رہتے ہو اور پاکستان میں اقلیتوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے ہم آپ کے ساتھ ہے۔۔ وزیر اعظم پاکستان بھی اس پر جوش تقریب میں گئے تھے ۔۔ بلکہ ہر اسلامی ملک میں ان کو دئیے گئے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے بلکہ یہاں تک دیکھنے میں آتا ہے کہ جتنا احترام ان یہود ونصارٰی اور خصوصاً ان کے وزارء کا ہمارے مسلمان حکمران کرتے ہیں اتنا احترام تو اپنے ہاں کے کسی بڑے سے بڑے محب وطن ، دین و وطن کا بھی نہیں کرتے۔میرا سوال یہ ہے کہ پاکستا ن میں ان اقلیتوں پر کوئی پابندی نہیں ہے تو غیر مسلم ممالک اللہ کے نام لیوا لوگوں پر کیوں پابندیا ں لگاتی ہے۔۔۔۔ اس کے برعکس ذرا ان (کفریہ) ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات کا دل تھام کے جائزہ لیں۔۔۔ بھارت کی طرف جب ہم نظر اٹھا کے دیکھتے ہیں وہاں عجیب وغریب صورتحال نظر آتی ہے۔ کوئی ایک یا دو گھر نہیں، کسی ایک یا دو بستیوں کا ذکر نہیں، کسی ایک شہر کی بات نہیں یہاں تو ملکوں کے ملکوں پر انتہائی ظالمانہ و غاضبانہ قبضہ کر لیا گیا ہے۔ کروڑوں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن کر دی گئی۔ ان سے جینے کی حق تک چھین لیا گیا، ان کو گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔ مساجد و مدارس اجاڑ دیں گئیں۔ اللہ کا نام لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ رسولﷺ کے طریقوں پر زندگی گزارنا جرم تصور کیا گیا۔ خواتین کو بے حیائی اور عریاں لباس پہننے پر مجبور کیا گیا۔ بھائیوں کے سامنے ان کی پاک دامن بہنوں کے دامن عفت و عصمت کو داغدار کیا گیا۔ ماں ، بہنوں کی آنکھیں اپنوں کی راہ تکتے تکتے پتھر ہو گیں ۔
آئیے ذرا دنیا میں امن کے مہذب ترین ملک (امریکہ ) کے کارناموں پر بھی نظر ڈالتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوری دنیا میں امن کا پر چار کرنے ولا یہ ملک انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہونے کا دعویدار ہے۔ ان کی لغت میں حقوق کی اطلاق کن اقوام و مذاہب پر ہوتا ہے۔ وہ بھی سمجھ لیجئے ان کے حقوق کا اطلاق یہود و نصاری پر ہوتا ہے۔ ہندو اور مجاسی بھی اس میں داخل ہے۔ بت پرست اور سورج کی پوجا کرنے ولاے بھی اس میں شامل ہے۔ اس مہذب قوم نے حقوق کی بھی مزید قسمیں کی ہوئی ہے، ان میں ایک قسم غیر انسانی حقوق کی بھی ہے جس میں ہر طرح کے جانور داخل ہے ان میں درندے ہوں یا حشرات الا رض سب کے حقوق ان کے ہاں مسلم ہیں ، ہان ! اگر حقوق نہیں ہے تو صرف امت محمدیہ ﷺ کے نہیں ہیں ۔ ان مہذب ملکوں کے نزدیک نہ وہ انسانوں میں داخل ہے نہ جانوروں میں۔ اس لیئے ان کے نزدیک مسلمانوں پر ہر طرح کا ظلم و ستم نہ صرف جائز بلکہ کار ثواب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جب مسلمانوں پر ظلم جاتا ہے تو یہ اپنے ہونٹ سی لیتے ہیں اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے بولنا گناہ سمجھتے ہیں ۔
دنیا کے اندر امن کاراگ آلا پنے والا یہ تمام کفریہ ممالک ظلم و جبر، دہشت و بربریت ، اور وحشیانہ مظالم ڈھانے میں کسی چیمپین سے کم نہیں ، اور مسلمانوں سے ان کا بغض و عناد ا پنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ مظالم کا ایک طویل سلسلہ ہے جسے لکھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، دل دہلنے لگتا ہے، خوف کی ایک سرد لہر دل و دماغ کے جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
ان ممالک کا مختصر جائزہ ہے جو جو مسلمان پر ظلم و ستم ڈھانے میں پیش پیش ہے مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ آج ان کے تمام وسائل اور صلا حیتیں مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور روز نت نئے منصوبے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے بن رہے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ آج سے چودہ سو سال پہلے فر ماگئے تھے “الکفرملۃواحدۃ ” آپ ؐکی فرمان کی صداقت اور روشن کی طرح ہمارے سامنے آچکی ہے۔ آج عالم کفر پوری دنیا سے مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کے در پے ہے۔ آج کفاّر سر جوڑ کر بیٹھ چکے ہیں۔ اور آقائے دو جہاں
کے فرمان کے مطابق ” یوشک ان تدعی علیکم الا ھم کما تدعی الا کلا ٰۃ الی منصعتھا” ایک دوسرے کو بلا رہے ہیں اور ہمیں کھانے کیلئے ایک دستر خوان پر جمع ہو رہے ہیں۔ اپنے ان نا پاک منصوبوں اور کمزور تدبیروں کے ذریعے امت محمدیہ ؐ کے چراغ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گل کر دینا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
افسوس کہ یہ نادان (کفّار) غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ اللہ کی تدبیر اور اس کے فیصلوں سے ناواقف ہے۔ اللہ رب العزت تو بہتر یں تدبیر کرنے ولاے ہیں ۔ ” وللہُ خیرالماکرین” ان کے یہ مکڑی کے جالے اس حکیم ذات کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اللہ رب العزت اس دین کو عظمت دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ دین اب عروج حاصل کرتا چلا جائے گا۔
اللہ اسلام کے چراغ کو روشن کر کے ہی رہے گا اب پوری دنیا کے اندر اسلام کی روشنی پھیلے گی ” واللہُ متم نورہ ولو کرہ الکفرون” اب کافر کتنا ہی واویلا کریں ، کتنا ہی شور مچائیں کتنے ہی دہشت گردی کے الزام لگائیں انشاء اللہ اب یہ اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم نہیں روک سکیں گے۔ نورخدا ہے کفر کی حرکتوں پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
بس اب اللہ کے محبوب بندے بن جاؤ اور اپنی صفوں کے اندر فولاد کی سی سختی پیدا کرو اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس آیات کا مصداق بن جاؤ۔
” واعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقو” اب آگے بڑھو، بڑھتے ہی رہو، یہ صدی اسلام کی صدی ہے اب عنقریب غیر ممالک میں اسلام کا علم لہراتا ہوا دیکھو گے یہ میرے رب کا فیصلہ ہے ” یہ میرے آقا کا فرمان ہے ” الا سلام یعلو ولا یعلی”
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری جائے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق