fbpx

چترال، عوام کو بار بار بجلی لو ڈ شیڈنگ سے کیوں تنگ کیا جا رہا ہے ۔پیر کرم الہیٰ قادری

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)سینئر رہنما پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال پیر کر م الٰہی قادری نے میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ ضلع چترال کے عوام 5 فیصد بجلی کے لئے100 فیصد بجلی کا بل ادا کر تے ہیں ۔ حکومت ہر سال بجلی کے نزخوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ لیکن عوام بجلی کے لوڈ شیڈنگ سے بار بار متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بات پر حیرانگی ہے کہ ٹی وی پر پاکستان کرکٹ میچ دیکھا یا جا تا ہے تو بجلی کی ایک سکنڈ لو شیڈنگ بھی نہیں ہوتی۔ کیا کرکٹ میچ کے دوران بجلی کی سپلائی بھارت، ایران یا افغانستان سے کی جا تی ہے یا واپڈا سے۔ اگر واپڈا حکام کرکٹ میچ کے دوران بجلی بلا نا غہ سپلائی کر سکتے ہیں تو عام دنوں میں عوام کو بار بار بجلی لو ڈ شیڈنگ سے کیوں تنگ کیا جا رہا ہے کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟ عوام یہ سو چنے پر مجبور ہیں کہ واپڈا حکام اور چترال انتظامیہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ جان بوجھ کر رہے ہیں۔ پیر کرم الٰہی قادری نے مزید کہا کہ حالیہ زلز لہ متاثرین کی سروے کے دوران کا فی زیادہ بے    ا ب بھی بعض مفاد پر ست عناصر مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے پر تلے ہو ئے ہیں۔ ڈسٹر کٹ انتظامیہ نے زلزلہ متاثرین کے سروے کے لئے جن لوگوں کو متعین کئے تھے انہوں نے ذاتی پسند و نا پسند، اقربا ء پروری، اور سیاسی بنیادوں پر ایسے لو گوں کے نام متاثرین کی لسٹ میں شامل کیئے جن کی وجہ سے اصل حقداروں کی حق تلفی ہو ئی ہے۔ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو چاہیئے کہ ایسے عناصر کا پتہ لگا کر قرار واقعی سزا دی جا ئے تا کہ آئندہ کسی کو ایسے مذموم کام کرنے کی جرات نہ ہو۔انہوں نے چترالی عوام کے مسائل بیان کر تے ہو ئے مز ید کہا کہ چترال سے دیر مسافروں اور سامان پر نا جائز کرایہ وصول کیا جا تا ہے۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور متعلقہ حکام ان مسائل سے بے خبر ہیں جو کہ چترالی عوام کے ساتھ ظلم و ذیادتی کے متراد ف ہے۔ انہوں نے کہا چترالی عوام صوبائی اور مر کزی حکومت کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں متاثر ین کے لئے خطیر رقم مختص کئے لیکن مجھے افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ چترال انتظامیہ ایسے مشکل وقت میں بھی عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہے ہیں۔قاعدگیوں کے انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہے کہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق