fbpx

(رُموز شاد ) زلزلہ ڈپلومیسی اور قانونِ مکافات

(ارشاد اللہ شادؔ ۔ بکرآباد چترال )

پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپاکرنے سے روکتے۔۔؟ایسے لوگ نکلے بھی تو کم ، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا اور نہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیئے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے تیرا ربّ ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو نا حق تباہ کر دیں۔ حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں:: ( سورۃ ہود۔ 117)
جب قومیں خوشحالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگتی ہے اور ان کا اجتما عی ضمیرمردہ ہوجاتا ہے تو اللہ ان پر عذاب بھیجتا ہے۔ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔ ایسا ممکن نہیں کہ وہ پیچھے کام کر رہے ہو اور اہل خیر کی دعوت پر لبیّک بھی کہہ رہے ہواور اللہ ان پر تباہی کا کوڑا برسادے ۔۔۔۔۔ ہر اجتماعی نظام میں ایسے لوگوں کا موجود رہنا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دینے والے اور شر سے روکنے والے ہو۔۔ مگر جب کوئی انسانی گروہ اہل خیر سے خالی ہوجائے اور اس میں صرف شریر لوگ ہی باقی رہ جائے یا اہل خیر موجود ہو بھی تو کوئی بھی ان کی نہ سنے، اور پوری قوم کی قوم اخلاقی فساد کی راہ پر بڑھتی چلی جائے تو پھر خدا کا عذاب اس کے سر پر اس طرح منڈلانے لگتا ہے ، جیسے پورے دنوں کی حاملہ کو کچھ نہیں کہہ سکتے کب اس کا وضع حمل ہو جائے ۔۔۔
سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو ان الفاظ میں پیش کرتا ہے ۔۔’’ پھر ہم نے ان سب لوگوں کو نکال لیا جو اس بستی میں مومن تھے اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا ۔۔‘‘
یعنی قوم لوطؑ میں تنہا ان کا گھر تھا جس میں ایمان و اسلام کی روشنی موجود تھی ۔ باقی سارا ملک گندگی سے لبریز تھا۔ پوری قوم فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ چنانچہ اللہ نے اس بدکار قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔۔
اللہ کا قانون مکافات اس وقت تک کسی قوم کی کامل تباہی کا فیصلہ نہیں کرتا جب تک اس میں قابل لحاظ بھلائی موجود رہے بُرے لوگوں کی اکثریت کے مقابلے میں اگر ایک قلیل عنصرہی ایسا پایا جاتا ہو جو بدی کو روکنے اور نیکی کے راستے کی طرف بلانے کے لئے کوشاں ہو تو اللہ تعالیٰ اسے کام کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس قوم کی مہلت میں اضافہ کرتا رہتا ہے جو ابھی خیر سے خالی نہیں ہوئی ہے مگر جب یہ حالت ہو جائے کہ کسی قوم کے اندر آٹے میں نمک کے برابر بھی خیر باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو دو چار نیک انسان اسکی بستیوں میں بُرائی کے خلاف لڑتے لڑتے تھک کر عاجز آچکے ہوں انہیں وہ اپنی قدرت سے کسی نہ کسی طرح بچا کر نکال دیتا ہے اور باقی لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو ہرہوش مند مالک اپنے سڑے ہوئے پھلوں کے ساتھ کیا کرتا ہے‘‘
حضور نبی کریم ﷺ اسی قانون عذاب اور قانون نجات کی طرف مسلمانوں کو متنبہ فرماتے ہیں ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور بالضرور نیکی کا حکم دیتے اور بُرائی سے روکتے رہنا اور نہ اپنا عذاب بھیج دے اور پھر تم اسے پکارتے رہو پر تمہاری ایک نہ سنی جائے‘‘ ( ترمذی)
26ْْاکتوبر کو ہم جس دل خراش، ہیبت ناک، اور قیامت خیز سانحہ سے د وچار ہوئے اسے ہم آزمائش سے تعبیر کریں ، نا گہانی آفت کہیں ، اسے انتباہ کا نام دیں ،یا عذاب سے موسوم کریں ، الفاظ کی بھول بھلیوں میں کھو کر اسکی کوئی توجیہ بھی کریں ، سائنسی اور فنی انکشافات سے دل بہلائیں مگر اس قادر قاہر کے قانون مکافات سے مفر ممکن نہیں ۔
موجودہ زلزلے اور پے درپے جھٹکے ایک بہت بڑا انتباہ ہے حکمرانوں کے لئے اور عوام کے لئے بھی ۔ تاکہ وہ اللہ کے زمین پرفساد پھیلانا بند کر دیں ۔ دین کی راہیں مسلود نہ کریں ، اہل دین کی سر کوبی کے بجائے اپنی اداؤں پر غور کریں ، غیروں کی راہ تکنے کی بجائے اللہ کے مقرر کردہ راستے پر گامزن ہو، اسلام کی من مانی تشریح کرنے سے باز رہیں ، اسکی دھرتی پراسکا قانون نافذ کریں ، اپنی عقل و دانش کا محاسبہ قرآن کی روشنی میں کریں ، نظام عدل کو قائم کریں ، امیرو غریب کے مابین فرق کو دور کریں ، لینے اور دینے کے پیمانوں میں تفاوت اور تضاد کو دور کریں ، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ عارضی طور پر محبت و موانست کا جذبہ پھوٹ پڑا ہے۔ ہمدردی اور رافت و رحمت کے ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آرہے ہے۔ ایثار و قربانی کے مظاہر حوصلوں کو بڑھا رہے ہے، زلزلہ سے متا ثرہونے والوں کا دکھ درد بانٹنے میں کوتاہی نہیں کی جارہی ، اپنے بھائیوں کی مالی و اخلاقی مدد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جارہی ہے ۔ پوری قوم میں وحدت و یگانگت کے جذبات اُبھر کر سامنے آرہے ہیں ۔ اپنے بھائیوں کو بچانے ، بسانے اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی فکر فروزاں ہے ۔ یہی وہ پہلو ہے کہ جو اہل ایمان کی ڈھارس بندھاتا ہے۔ ان فراواں پاکیزہ جذبوں کو مہمیز دینے کی ضرورت ہے ، انہیں صحیح سمت پر لے جانے کے لئے مسلسل و پیہم ریاض سے کام کرنا ہوگا، اللہ کی طرف رجوع کرنا ہوگااور حضورﷺ کی سیرت مطہرہ کے نقوش سے مستفیض ہو کر آگے کی جانب بڑھنا ہوگا ۔یہ کام کیسے ہو اسکی منصوبہ بندی کیسے کی جائے ، اسکی ذمہ داری قوم کے رہنماؤں پر ہے، حکمرانوں پر ہے۔سیاستدانوں پر ہے، اہل دانش پر ہے ، قلمکاروں پر ہے ،حکمرانوں پر ہے جو صبح و شام قلم کی جولانیوں سے تبصرے و تجزئے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔یہ پوری قوم کے لئے ایک چیلنج ہے ۔ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر صحیح تجویز کر کے ہم ایک طرف ان متاثرین کو متعدد نفسیاتی، اخلاقی اور سماجی بُرائیوں سے بچا سکتے ہیں اور دوسری طرف اپنے تشخص کے تحفّظ کو ممکن بنا سکتے ہیں ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق