fbpx

تین دسمبر خصوصی افراد کا عالمی دن

عبدلولی خان خاموش ؔ (کوشٹ چترال)

اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو ایک جیسا نہیں بنایا۔ کوئی تندرست اور صحت مند ہے اور کوئی معذور۔ یہ سب ہماے لئے آزمائش ہے کہ ہم کہاں تک اپنی صحت اور تندرستی کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اوران لوگوں کو دیکھ کر کیا سبق حاصل کرتے ہیں۔ جو کسی نہ کسی طرح جسمانی یا ذہنی معذور ی کا شکار ہیں۔ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے۔تو اکثر لوگ خصو صی افراد کو معاشرے پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم جیسے گوشت پوست کے انسان ہیں۔ ہماری طرح جذبات اور احساسات رکھتے ہیں۔ یہ ہماری توجہ اور پیار کے محتاج ہیں۔ ہمیں انکے ساتھ احترام اورمحبت سے پیش آنا چاہیئے۔ تاکہ وہ اپنی جسمانی کمزوری اور معذوری کی وجہ سے کسی قسم کی احساس کمتری کا شکار نہ ہو سکیں۔

پوری دنیا میں 3دسمبر کو خصوصی افراد کے عالمی دن کے طور پر منایا جا تا ہے۔ اور معذور افراد کے ساتھ ہمدردی اور خلوص کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ مملکت پاکستان میں بھی یہ دن منا یا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے جو قوانین نافذ العمل ہیں۔ ان پر صحیح طریق سے عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اس لئے ضرورت اس امر ہے کہ خصوصی افراد کے لئے مروجہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ تاکہ ان کیلئے جو حقوق مقرر ہیں وہ انہیں مل سکیں اور انہیں اپنی معذوری کا احسا س نہ ہو۔ اگر ترقی یافتہ ممالک پر نظر دوڑائی جائے تو وہاں بہت سے خصوصی افراد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ کیونکہ ان ممالک میں خصوصی افراد کیلئے مروجہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہو تا ہے۔ جسکی وجہ سے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع بہت زیادہ ملتے ہیں ۔

بحیثیت مسلمان یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم خصوصی افراد کو معاشرے میں ایک اچھا مقام دیں۔ انکے ساتھ ہمدردی کریں۔ انکی ضروریات کا خیال رکھیں۔ انکی دلجوئی کریں۔ انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کریں۔ انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔ اور انہیں کارآمد شہری بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق