ارشاد اللہ شاد

رُموز شاد)۔۔۔ سرزمین چترال کا ماضی اور حال۔۔۔۔۔۔۔…..سلگتے چناروں کی روح فرسا داستان

(ارشاد اﷲشادؔ ۔۔بکرآباد چترال

یہ چترال ہے۔۔ جہاں فطرت نے اپنے ۔۔ حسن و جمال سے۔۔ تمام نقابیں الٹ دی ہیں۔۔ جس کی گل و پوش وادیاں۔۔ سحرگرفتہ ہیں۔۔ جس کے مرغزار۔۔کیف پرور ہیں۔۔ جس کے بلند و بالا پہاڑ ۔۔ فلک کی پیشانی ۔۔ چوم رہے ہیں۔۔ جس کے سر سبز باغات۔۔پھلوں اور میوؤں سے لدے ہوئے ہیں۔۔ جس کے گلستان ۔۔ گل و لالہ کی مہک سے مخمور ہیں۔۔ جس میں جا بجا ۔۔ سبزے کی حسین مخملی چادریں ۔۔ بچھی ہیں۔۔ جہاں موسم کی خشک اور سرد ہوائیں ۔۔ اور برف باری کی سحر انگیزیاں ہیں۔۔ جس میں مچل مچل کر بہتے ہوئے ۔۔ شیریں چشمے ہیں۔۔جہاں مست خرم ندیاں ہیں۔۔ جس کی مست ہواؤں سے۔۔ سیب اور ناشپاتی کے درختوں کی ڈالیاں ۔۔دلفریب انداز میں ۔۔ جھول رہی ہیں ۔۔۔۔!!
شوخ و شنگ شگوفے ۔۔پھولوں کے حسین وجمیل چہروں پر۔۔ شبنم کا میک اپ ۔۔ نسیم سحر کی گلوں سے چھیڑ چھاڑ ۔۔ بلبل کے سریلے نغمے ۔۔ کوئل کی رسیلی کوک ۔۔ تتلیوں کا وجدانی رقص۔۔ پو پھٹتے ہی چڑیوں کی چہکار۔۔شام ہوتے ہی ۔۔طوطوں کی ڈاروں کا باتوں کی مستی میں۔۔ اپنے بسیروں کی جانب ۔۔ مسحور کن سفر ۔۔ ساون کی بھیگی ہوئی اندھیری راتوں میں۔۔ جگنوؤں کا چراغاں ۔۔ امڈ کر آتی کالی گھٹائیں ۔۔ کبھی جل تھااور۔۔ کبھی رم جھم کی موسیقی ۔۔ بارش میں بھیگتے نہاتے لالہ زاروں کا حسن ۔۔ اور پھر بارش کے بعد ۔۔ پتوں اور شاخوں سے پانی کے قطروں کی ٹپ ٹپ کا ترنم ۔۔ چرخ نیلو فری پر۔۔ قوس و قزح کا۔۔ رنگوں کی حسیں دنیا آباد کرنا۔۔گھمبیر سیاہ بادلوں کی اوٹ سے چاند کی آنکھ مچولی ۔۔ نیلگوں آسماں پر لٹکتی ہوئی ۔۔ ستاروں کی قندیلیں ۔۔ پہاڑوں کی اوٹ سے۔۔سر پر کرنوں کا تاج سجائے ۔۔ آفتاب کا طلوع ہونا ۔۔ اور سارا دن روشنیاں بکھیرنے کے بعد۔۔سرخ گولے کا دھار کر۔۔ مغرب میں پہاڑوں کی گود میں۔۔روپوش ہوجانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
یہ وادی چترال کا حسن ہے۔۔ یہی جنت نظیری تھی ۔۔ سرزمین چترال کی محبت میں ڈوب کر شاد اتنا کہہ سکتا ہے کہ۔۔۔
اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمیں است وہمیں است و ہمیں است
لیکن سر زمین چترال کی یہ حسین وجمیل تصویر۔۔ ماضی کے آئینہ دار ہے۔۔ ۔۔۔ہاں۔۔۔! چترال کی کلیوں کا شرما شرما کر کھلنا۔۔ پھر سمٹ جانا ۔۔ ماضی ہے۔۔۔۔۔!!!
طلسماتی سپیدہ سحر۔۔ متبسم صبحیں۔۔ چمکتی چاندنی ۔۔ دل نواز لالہ زار۔۔ باصرہ نواز چمنستان ۔۔ کیف پرور مر غزار ۔۔ مہکتی ہوائیں ۔۔ روح پرور فضائیں ۔۔مچل مچل کر بہتے شیریں چشمے ۔۔ خوبصورت کوہسار۔۔اور ان کے درمیان وادیوں میں ہستی بستی آبادیاں ۔۔ پہاڑی چشمے۔۔ بلندیوں سے گرتے خوبصورت آبشار۔۔ اور نہریں۔۔۔۔۔!!
ہاں۔۔۔۔! یہ ہمارے ماضی کی انتہائی درخشانی ہے ۔۔ یہ تصویر ماضی ہے۔۔ آج جب حال کی سیاہ جھلسی ہوئی تصویر۔۔ ماضی کے ان آئینہ نما مناظر میں ۔۔اپنی جھلک دیکھتی ہے۔۔ تو وہ ندامت سے سر جھکا کر رہ جاتی ہے۔۔آج کا حال ۔۔ ماضی سے انتہائی ۔۔ افسردہ ہے۔۔
کل تک چترال کی گل و پوش وادیاں۔۔ گل و نسترن سے مہک رہی تھیں۔۔ لیکن آج ان وادیوں میں۔۔ لوگ بے گھر ہو گئے ہے۔۔ کھانے کے لئے روٹی نہیں مل رہی ہے۔۔ پہننے کے لئے کپڑے دستیاب نہیں ہے۔۔ طفلان، محصنات ،شیخ و شاب کی آہیں اور سسکیاں۔۔انسانی حقوق کے عالمی چیمپئینوں کے ۔۔بے سماعت اور بند کانوں کی کھڑکیاں۔۔کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔۔۔۔!!
حالیہ سیلاب اور زلزلہ کی وجہ سے۔۔چترال کے حسیں دلکش وادیاں ۔۔ بے نقاب ہو گئے ۔۔
چترال میں ایک سو سے زائد ۔۔چھوٹے بڑے دیہات ملیامیٹ ہو گئے ہیں۔۔کئی ایکڑ زرعی زمین و باغات بہا کر لے گئے۔۔ کئے تاریخی و تفریحی مقامات بھی۔۔ صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔۔ ۔۔۔اسی طرح زلزلہ سے بھی کئی جانی نقصان ہوا اور لوگوں کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔!یہ میرا چترال کا حال ہے۔۔۔۔
لاشوں کے کئی فرش بچھاتا ہوا سیلاب ایک عبد کو قبروں میں سلاتا ہوا سیلاب
لو دیتے چراغوں کو بجھاتا ہوا سیلاب ہنستے ہوئے لوگوں کو رلاتا ہوا سیلاب
بہرحال یہ تباہی بظاہر۔۔ قدرت کی طرف سے ایک امتحان نظر آتا ہے۔۔ بسا اوقات آفات کا پیشگی مقابلہ ۔۔انسانی وسائل و استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔۔ ۔۔۔رویّہ میں تبدیلی کا وقت ہے۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ آپڈیٹ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق