fbpx

گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج بونی میں غیر مقامی طالبات کے لئے ہاسٹل کا انتظام نہ ہونے پر سینکڑوں طالبات کا قیمتی سال ضائع،نوٹس لیا جائے۔

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) سب ڈویژن مستوج کے عمائدین سابق کونسلرسید احمد حسین شاہ ، محمد حسین، زارامان،دینار خان ،زاربہارخان، رحمت خان اور دوسروں نے ہائیر ایجوکیشن کے وزیر اور سیکرٹری سے اپیل کی ہے کہ گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج بونی میں غیر مقامی طالبات کے لئے ہاسٹل کا انتظام نہ ہونے پر سینکڑوں طالبات کا قیمتی سال ضائع ہونے کا نوٹس لیا جائے اور فرسٹ ائر اور تھرڈ ائر کے ان طالبات کو داخلہ فیس کی فوری واپس کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں جوکہ ہاسٹل نہ ہونے کی بنا پر کالج نہ آسکے ۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مستوج، یارخون، لاسپور، بروغل، موڑکھواور تورکھو کے سینکڑوں طالبات نے اس سال گورنمنٹ گرلز کالج بونی کے سال اول اور سال سوم داخلہ لے کر اپنے غریب والدین کی جمع پونجی سے ہزاروں روپے داخلہ فیس جمع کیا تھا لیکن کالج انتظامیہ نے ان کو ہاسٹل کی سہولت فراہم نہ کرسکی جس کی وجہ سے وہ کالج کے کلاسوں میں حاضر نہ ہوسکے اور اپنے گھروں میں اپنی قیمتی وقت کی ضیاع کا اپنی آنکھوں سے نظارا کررہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کالج کے ایک ہاسٹل کی عمارت میں لیکچررز رہائش پذیر ہیں جبکہ دوسرے ہاسٹل کی عمارت تو مکمل ہے لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس عمارت کا چارج سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ سے نہیں لیا جارہاہے اور حکومت کے خزانے سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود علاقے کے طالبات کو اس کا فائدہ نہیں پہنچا۔ مستوج سب ڈویژن کے عمائدین نے کہاکہ علاقے میں غر بت عام ہونے کی وجہ سے والدین کی 95فیصد سے ذیادہ تعداد اپنے بچیوں کے لئے پرائیویٹ کالجوں کے فیس برداشت نہیں کرسکتے جس کے نتیجے میں انہیں میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد تعلیم کاسلسلہ منقطع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ایجوکیشن اور ہیلتھ کے سیکٹروں میں انقلابی اقدامات کا دعویٰ تو کررہی ہے لیکن بونی کے دوردراز علاقے میں بچیوں کوکالج کی تعلیم سے محروم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کی پسماندگی اور دورافتادگی کے ساتھ ساتھ کالج کے محل وقوع کے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے کالج کے لیکچررز کیلئے بیچلر ہاسٹل بھی فوری طور پر تعمیر کیا جائے جہاں رہائش پذیر ہوکر وہ دلجمعی کے ساتھ ہمارے بیٹیوں کو پڑہاسکیں۔ انہوں نے علاقے منتخب نمائندو ں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اس نازک مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے جسے بار بار ان کی نوٹس میں لایا جاتا رہا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق