fbpx
مضامین

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم)

……..تحریر: شمس الحق قمرؔ گلگت …….

چلو آج بات کرتے ہیں چچا غالب ؔ کے اِس شعر پر کہ ’’ ؂ ہم موحّد ہیں ہمار ا کیش ہے ترکِ رسوم ۔۔۔۔ ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں ‘‘ ۔ غزل کے اشعار کی تشریح کی یہ خوبی ہے کہ ہر فرد اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں اپنی شخصیت کے مطابق معقول راستہ پکڑتا ہے اور وہ تشریح اس فرد کی اپنی رائے پر مبنی ہوتی ہے جسے چیلنج کرنا قطعی طور پر مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔ میرے ایک استاد نے بھی کلاس میں اپنا یہ شعرپڑھا ’’ ؂ حادثہ ہے تو مگر اتنا علم ناک نہیں ۔۔۔۔۔یعنی ایک دوست نے ایک دوست کو برباد کیا ‘‘ ۔ تو ہمارے ایک ہم جماعت نے عرض کی کہ اس شعر کی تشریح بھی شاعر کی زبانی ہی ہو جائے تو کمرہ جماعت میں شاعری پڑھنے کا لطف دوبالا ہوجائے گا ۔ استاد نے ایک جملے میں لاجواب جواب فرمایا ’’ اگر میں اس خیال کو نثر کے سانچے میں ڈھال کر صاف فرار ہونے پر قادر ہوتاتو ہر گز اسے شعر کے پردے میں بیان نہ کرتا ‘‘ پاکستان کی نامور شاعرہ پروین شاکر ؔ کے حوالے سے ایک بات مشہور ہے ۔ کہتے ہیں کہ پروین شاکرؔ صاحبہ نے سول سروسز کا امتحان تو پاس کیا مگر اُردو کا پرچہ تسلی بخش نہیں رہا حالانکہ ایک سوال آپ کی اپنی ایک غزل کے کسی شعر پر محیط تھا ۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہوئی کہ کسی دوسرے امیداورکو پروین شاکر کے اشعار کی تشریح میں زیادہ نمبر ملے تھے ۔ ( یہ بات کسی کتاب میں موجو د نہیں تاہم میں نے اُردو کے ایک استاد سے سنی تھی) بعد میں پروین شاکرؔ صاحبہ نے تحقیق کی تو وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئی کہ پروین شاکرؔ کے خیال کی جس انداز سے دوسرے امید وار نے تشریح کی تھی وہ قابل داد اور صد آفرین و تحسین تھی ۔ یہی گتھی عام بات چیت اور گفتگو میں بھی پیش آتی ہے ۔ ایک دوسرے کی گفتگو کو سمجھنے کے لئے مزاج شناسی ایک ضروری عمل گردانا جاتا ہے ۔ بعض اوقات چھوٹی سی بات لوگوں میں نفرت کا باعث بن جاتی ہے اور بعض مرتبہ ایک چھوٹی سی بات سے محبتیں بانٹی جاتی ہیں ۔ یہ معاملہ غالب کی شاعری میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے ۔ ایک شعر کو ایک وقت میں مختلف زاویوں سے ناپا ، تولا ، دیکھا اور سمجھا جاتا ہے ۔ غالبؔ کے مذکورہ شعر کی زمین بھی کثیر الزاویہ ہے اس مضمون کی کھینچا تانی میں ہر قاری کی اپنی استعداد اور اپنا زاویۂ نگاہ ہے ۔ میں اس شعر کی عمیق اسحاط تک تو شاید نہیں پہنچ سکتا البتہ اپنی سمجھ کے مطابق تشریح کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ چونکہ میں ایک مدرّس ہوں میرا طریقہ تدریس یہ ہے کہ میں کسی شعر کی تشریح طلبہ کی تشریح کے بعد ہی کرتا ہوں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ طلبہ سے انوکھی انوکھی تشریحات سامنے آتی ہیں تاہم میں سب سے پہلا کام یہ کرتا ہوں کہ مشکل الفاط بورڈ پر جلی حروف سے لکھنے کے بعد کسی مشکل لفظ کے مختلف معانی لکھتا ہوں ۔ لہذا یہاں پر بھی میں مناسب سمجھتا ہوں کہ الفاظ کے معنی آپ قارئین کے ساتھ بانٹوں تاکہ آپ میری تشریح کو میری نظر سے دیکھیں ( مہ غچھین مہ خوشو لوڑی تھے گلہ کورور)
موحّد ۔ واحد یعنی کسی ایک ذات کے پجاری ، کیش۔ عادت ، رسوم ۔ رسم کی جمع
ملت ۔ قوم ( اس سے مراد وہ ’’قوم‘‘ نہیں جو علامہ اقبال نے بیان فرمایا ہے بلکہ وہ ’’قوم‘‘ ہے جو ہم قبیلوں کی نسبت سے سمجھتے ہیں ) ، اجزائے ایماں۔ ایمان کا حصہ ۔پچھلے دنوں ایک مہر بان نے از راہ تفنن یہ بحث چھیڑ دی کہ’’ قوم پرستی ایک لعنت ہے‘‘ کیا قوم پرستی واقعی ایک لعنت ہے ؟ یہ اپنی جگہے پر بہت بڑا سوال ہے البتہ اس سوال کا جواب اُس وقت ممکن ہے جب ہم یہ سوچیں کہ یہ قوم پرستی کن معنوں میں لیے جاتے تو لعنت ہے ۔ یہاں غالبؔ نے میرا کام آسان کردیا ۔ غالبؔ نے اُس قوم پرستی کی بات کی ہے جہاں ہم ایک ہی آدم کی اولاد کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں اور اُن میں سے ہم ہر اُس گروہ یا قبیلے کو باعزت سمجھتے ہیں جن کے آباو اجداد میں سے کسی ایک نے کوئی کار ہائے نمایاں انجام دیا ہو ( یہ کار ہائے نمایاں اپنے اپنے زمانوں کے تقاضوں کے مطابق کچھ بھی ہو۔ مثال کے طور پر باد شاہ کے کہنے پر کسی بے گناہ کو قتل کرکے باد شاہ وقت سے داد وصول کرنا ، جائیداد حاصل کرنا اور بادشاہ کا قرب حاصل کرنا وغیرہ وغیرہ ) ہم کسی پر بے جا ظلم کرکے اپنے آپ کو عزت کے معراج تک پہنچانے پر بھی کسی کی شکایت نہیں کرتے کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ اُس زمانے میں عزت کا معیار وہی رہا ہو۔ بہر حال ہم اتنی سمجھ بوجھ کی گنجائش ضرور رکھتے ہیں کہ ایک دادا کے دادا اور اُس کے پر دادا کے کسی کارنامے کی وجہ سے پوتے کے پوتے اور پر پوتوں کا اپنے کسی پر دادا کے کارنامے پر ٹیک لگا کر اپنے آپ کو ممتاز گردننا کم از کم صاحب عقل و دانش لوگوں کو زیب نہیں دیتا ۔ایک مرتبہ میری ملاقات ایک آدمی سے ہوئی جو اپنے آپ کو غیر معمولی طور پر خاندانی اور باعزت آدمی تصور کرتا تھا یہ بندہ پڑھا لکھا ضرور تھا لیکن تعلیم یافتہ نہیں تھا وہ اپنے کسی پر دادا کے نام سے اپنے پورے قبیلے کو منسوب کر کے ڈھینگیں مارتا تھا ۔ میں اُس کے پر دادا کے بارے میں تو نہیں جانتا تھا البتہ مجھے معلوم تھا کہ اُس کے والد بہت عظیم انسان تھے کسی سکول میں ہلکا پھلکا ملازم تھا ، سخت محنت، مشقت اور اپنے خون پسینے سے اپنے بچوں کو لکھایا اور پڑھایا تھا ۔علاقے کے لوگ بچوں کو تنگی و سختی میں رہ کرمعیاری تعلیم دلانے کے حوالے سے اُس کے والد کا نام مثال کے طور پر بڑے احترام سے لیتے ہیں ۔ مجھے بہت افسوس اس بات کا تھا کہ وہ اپنی تمام تر کامیابیوں کی وجہ اپنے مہربان باپ کو نہیں سمجھ رہا تھا بلکہ اپنے بہت دور کے کسی سفاک پر دادا پر نازاں تھا ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی اُسے اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اُس کی اپنی غلط فہمی اور اُس کا اپنا عمل تھا لیکن وہ اپنے نا م نہادبڑا پن کے اُس بھونڈے احساس کے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اپنے سے کم تر سمجھ رہا تھا ۔ اُس نے باتوں باتوں میں کہا کہ ’’ انگلی اور انگلی میں فرق ہے جناب! میرا پر دادا فلاں باد شاہ کے دور میں وزیر تھا ‘‘ ۔ ایسی بے تکی گفتگو کے لئے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اِن صاحب کی تمام باتیں اپنی جگہ پر درست اور بجا ہو سکتی ہیں لیکن مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ بھلے چنگے لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ کسی کو بُرا کہنا یا ناقص گرنادنے کا حق اُن کے پاس نہیں یہاں تک کہ کسی کو اچھا کہتے ہوئے بھی سو بار سوچنا چاہئے ۔
چچا غالب نے اس گتھی کو سلجھاتے ہوے فرمایا ہے کہ : ہم( غالب اور اُس کے تمام پرستار) ہمیشہ ایک پر یقین رکھتے ہیں کیوں کہ تمام انسان ایک ہی نسل یعنی ایک ہی آدم کی اولاد ہیں ۔ یہ جو ذات پات کا معاملہ ہے یہ انسان کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ ذات کا تصور اُس وقت اُبھرتا ہے جب ہم دوسرے جانوروں کی بات کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر لومڑی کی الگ ذات ہے ، بھیڑئے کی الگ ذات ہے کیوں کہ اُن کی جسمانی ساخت اور رہنا سہنا ، کھانا پینا اور زندگی کی دوسری تمام ضروریات ایک دوسرے سے الگ ہیں اور انسان اُن تمام جانوروں سے مختلف نسل کا جانور ہے جو سوچتا ہے ، جذبات و احساسات رکھتا ہے اور بولتا ہے ۔ غالبؔ کی نظر میں ایک انسان نے اپنی دکان چمکانے کے لئے دوسرے انسان کو ذات پات کے جھنجھٹوں میں بُری طرح سے الجھا کے رکھا ہے ۔ اپنی مفاد کی خاطر اپنا قبیلہ بنایا ہے اور سادہ لوح انسانوں کو قبیلے میں بانٹ کر انفرادی طور پر پرسکوں زندگی گزارنے کے غیر انسانی اصولوں پر کار بند ہے ۔ غالب کی نظر میں ہم جب تک قومیت کے اس گھناؤنے نظریئے کو نیست و نابود نہیں کریں گے تب تک ہم ایمان کا جزو بننے سے قاصر رہیں گے ۔ اور جب ایمان نہیں رہے گا تو کچھ بھی نہیں رہے گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق