fbpx

پس وپیش چترال میں صفائی،چھاپہ اور تجاوزات

…….تحریر: اے ایم خان چرون،چترال…..

صوبائی حکومت کا صفائی مہم پشاور میں تو رنگ لائی ہے ،اور چترال میں بھی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کا صفائی مہم چلانا اِس کوشش کی ایک کڑی ہے ، جسے ہر کوئی سراہتاہے۔صفائی مہم جوکہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں چند دِن پہلے چترال میں شروع ہوا، جسکو برقرار رکھنا ،اِس مہم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ ایک دفعہ چترال جانے کی عرض میں روڈ میں کھڑا تھا،کہ مستوج کا ایک گاڑی آیا جسمیں مجھے بھی بیٹھنے کاجگہ مل گیا۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعددیکھا تو اُس میں ایک غیرملکی جسکا نام ڈیوڈ تھا، بیٹھا تھا۔ دسمبر کا موسم تھا چترال آتے وقت گاڑی خراب ہونے سے شندور میں رات گزارنے کی وجہ سے اُسے زکام بھی ہوا تھا۔ ڈیوڈ نے یہ ساری باتیں مروئی ہوٹل میں ناشتے کے وقت مجھے بتایا۔ڈیوڈ راستے میں سفر کے دوران مروئی تک ، اور مروئی سے چترال تک ٹیشو پیپرز کو استعمال کرتا تھا، لیکن استعمال شدہ ٹیشو پیپرز کو اپنے بیگ کے پاکٹ میں رکھتا تھا۔بہرحال ڈیوڈ سے اسٹریا کے حوالے سے بہت زیادہ باتیں ہوئیں،لیکن صفائی کے تناظر میں یہ بات کرنا ضروری تھا،کہ صفائی اُس وقت تک نہیں کی جاتی جب تک لوگوں میں سوک سینسcivic) sense ) اور صفائی کا احساس پید ا نہیں کیا جاتاہے۔ اب ڈیوڈ اپنے ٹیشو پیپرز کو استعمال کے بعد گاڑی سے باہر پھینک سکتا تھا لیکن اُس کا سوک سینس اُس کو مجبور کرتا تھا کہ وہ یہ غلطی نہ کردے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ علاقے میں سسٹم کرکے یعنی ڈسٹ بین لگاکر ، مختلف اخباروں، ریڈیو اور دوسرے ذرائع سے لوگوں میں صفائی کا شعور پید ا کرنے کی کوشش کی جائے تو صفائی کا مہم قوی ہوسکتا ہے۔ ہاں اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ اِس کلچر culture)) کو تعمیر کرنے کیلئے وقت تو درکار ہے!، لیکن اِس پر کام شروع ہوا ہے یہ اچھی بات ہے۔
چترال کے اخباروں میں اور خصوصاً میل جول کے میڈیا میں یہ اکثر اِ ن دِنوں دیکھنے میں آتا ہے کہ ڈسڑک ایڈمنسٹریشن کے ٹیمزمختلف قسم کے دُکانوں پر چھاپہ لگا چُکے ہیں، جس سے خراب اور ناقص معیار کے اشیائے خوردو نوش اور دوائی وغیرہ فروخت کرنے کے جرم میں مختلف دُکانوں کو سیل کر چکے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھنے میں آیا، کہ مقامی ہوٹلز پر چھاپہ ڈال دیا گیا، اور یہاں تک کہ اُن کے پرائسز لسٹprices list) کو بھی دیکھایا گیا، جوکہ قابل غور تھا؟ قابل غور اِس لحاظ سے کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چترال میں کیا ایک سٹینڈرڈ پرائسز لسٹ standard prices) list) پورے چترال میں اشیائے خوردو نوش، کاسمٹکس، اور ہوٹلوں کیلئے تیار کرسکتا ہے جوکہ کاروباری حضرات کے کاروبار اور عوام کے فائدے پر ہو؟۔ یہ بات اہم ہے کہ چترال میں ایسے دوکان کئی اور ہیں جو ناقص اشیاء فروخت کرتے ہیں اور کئی معیاری اشیاء کے نام پر دوگنے سے بھی زیادہ قیمت لوگوں سے وصول کررہے ہیں،ان کے ساتھ آنیوالے دِنوں میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کس طرح ڈیل کرتا ہے؟
تجاوزات کا مسئلہ چونکہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ ہے ، جس کا ایک پہلو سرکاری اور دوسرا غیرسرکاری ہے۔ سرکاری تجاوزات کا عندیہ ایک قانونی مسئلہ ہے ، جوکہ لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ 1894 land acquistion Act)) کے ذمرے میں آتا ہے یا نہیں ، یہ وقت ہی بتائے گا جب یہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ سرکاری تجاوزات کے علاوہ ،پرائیوٹ تجاوزا ت بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ لوگ جو اپنی مالی و سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے تجاوزات کرتے ہیں، اور دوسری تجاوزات کرنے والا ایک غیریب بندہ بھی ہوتا ہے ، جو کاروبار کیلئے دکا ن کرایے پر لینے کا مالی لحاظ سے اہل نہیں ہوتا ، اور سرکاری یا غیرسرکاری پراپرٹی پر تجاوزات کرتاہے ۔ بہرحال تجاوزات کو ہٹانا ایک مثبت قدم ہے جس میں رول آف ایکسپشن (rule of exception) کا سوال آجائے تو سوالات اُٹھتے ہیں۔
عوام کی سہولت کیلئے ، روڈ، ٹریفک ،اور مارکیٹ میں قیمت اور چیزوں کو ایک خاص معیار میں فراہم کرنے کا عمل گڈ فیتھgood faith)) میں گُٹ گورننس کی طرح ایک اہم قدم ہے۔ بہرحال لوکل گورنمنٹ سسٹم تو بن چُکا ہے اُمید ہے کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ بھی روڈ، نکاسی اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ملکر اِس فلاحی کاموں میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق