تازہ ترین

پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع چترال کے پارٹی ترجمان نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ کے ساتھ۔ میڈیا فورم کا ایک خصوصی نشست

نوجوان قانون دان اور سماجی وسیاسی شخصیت نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ کا تعلق وادی تورکہو کے خوبصورت گاؤں رائین سے ہے۔اُنہوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی۔میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول ورکوپ سے پاس کیا۔ایل ایل بی کی ڈگری کراچی یونیورسٹی (ایس ایم لاء کالج) سے اعزازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی۔اور انگریزی ادب میں شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی سے ماسٹر کیا۔پیشہ وکالت سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن کے حیثیت سے علاقائی اور ملکی سطح پر جانے جاتے ہیں۔سیاسی پس منظر رکھتے ہوئے اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع چترال کے پارٹی ترجمان ہیں۔میڈیا فورم کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں پوچھے گئے سوالات وجوابات قارئین کے خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں:

میڈیا فورم:نیازی صاحب آپ وکیل ہے،انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور سیاسی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔کس طرح وقت دیتے ہیں؟
نیازی ایڈوکیٹ:میں چونکہ وکیل ہوں۔اس لئے مجھے کوئی خاص مشکل پیش نہیں آتی کیونکہ انسانی حقوق کے لئے جو بھی کام کرتا ہوں۔وکالت کے پلیٹ فارم سے بھی انسانی حقوق کے لئے کام کرنا آسان ہوتا ہے اور ساتھ ہی سیاسی زمہ داریاں بھی نبھا رہا ہوں۔کیونکہ سیاست ،سماجی خدمات اور وکالت چولی دامن کے ساتھ ہیں ۔اس لئے کوئی خاص مشکل پیش نہیں آرہا۔
میڈیافورم:آپ بہت ہی کم عمر میں چترال کے سطح پر نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔وجہ شہرت وکالت،انسانی حقوق یا سیاست ؟
نیازی ایڈوکیٹ:میں اپنے آپ کو مشہور شخصیت نہیں کہہ سکتا۔یہ آپ کی نوازش ہے۔تاہم تینوں میری وجہ شہرت ہیں ۔خصوصاً زیادہ تر لوگ مجھے انسانی حقوق کے حوالے سے جانتے ہیں۔ظاہر ہے میں ایک میں پیشہ ور وکیل ہوں۔اسلئے بہت سارے لوگ اسی حوالے سے مجھے جانتے ہیں۔اور ساتھ ہی جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے2008ء اور2013کے جنرل الیکشن میں مجھے قومی اسمبلی کی سیٹ پر کورینگ اُمیدوار کے طورپر ٹکٹ دیا گیا تھا۔شاید کچھ لوگ اس حوالے سے بھی جانتے ہونگے۔بہرحال اکثر لوگ مجھے علاقائی اور ملکی طورپر انسانی حقوق کے کارکن کے طورپر جانتے ہیں۔
میڈیا فورم:سنا ہے حالیہ دنوں میں آپ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے ہیں۔بہت ہی متحرک نظر آرہے ہیں،کوئی خاص وجہ ؟
نیازی ایڈوکیٹ: میں جب جماعت اسلامی کا حصہ تھاتب بھی متحرک رہاہوں۔لیکن جماعتی نظم ونسق کچھ ایسا ہے کہ متحرک ہونے کے قیود ہوتے ہیں۔یہی قیود وحدود تھے جس کی وجہ سے مجھے اپنا سیاسی راہ جدا کرنی پڑی۔پاکستان مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوتے ہی ضلعی قیادت نے مجھ میں موجود صلاحیت کو سمجھا اور اہمیت دی۔اور پارٹی کے صفحہ اول میں جگہ دی۔میں بحیثیت کارکن مسلم لیگ(ن) کو چترال میں مضبوط طاقت دیکھنا چاہتا ہوں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اقتصادی ایجنڈا سے اتفاق کرتا ہوں۔اُن کا ویژن ترقی وخوشحالی اور آمن کا ہے۔میاں محمد نواز شریف جس طریقے سے چترال کی تعمیر وترقی میں دلچسپی لے رہا ہے۔اب وقت کا تقاضا ہے تمام ماؤں ،بہنوں،بھائیوں اور نوجوانوں کو جدید اور ترقی یافتہ چترال کے لئے مسلم لیگ(ن) اور میاں محمد نواز شریف کا دست وبازو ہونا چاہیئے۔

میڈیا فورم:بحیثیت کارکن اور ترجمان پاکستان مسلم لیگ(ن)کو2018کے الیکشن میں کہاں دیکھتے ہیں؟
نیازی ایڈوکیٹ:پاکستان مسلم لیگ(ن) کا مستقبل چترال میں بہت روشن ہے ۔2018کے انتخابات کارکردگی کے بنیاد پر پی ایم ایل این جیتے گی۔میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا ایجنڈا واضح ہے۔میاں محمد نواز شریف نے ملک کو دہشت گردی سے پاک کیا ہے۔مہنگائی کم ہوئی ہے،موٹر ویز بن رہے ہیں۔اعلیٰ تعلیم مفت کی گئی ہے۔کنسر ،گردوں اور ٹی بی جیسے بیماریوں کے علاج مفت قراردیا گیا ہے۔ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کیا جارہا ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 20ارب سے اضافہ کرکے 60ارب کردیا گیا ہے۔تاجکستان روڈ اور TAPIمیں پائپ لائن پرکام شروع ہوگیا ہے۔چترال کو30میگاواٹ بجلی دیا گیا ہے۔لواری ٹنل کودسمبر2016تک تکمیل کیاجائیگا۔۔یونیورسٹی کے طلباء فیس معاف کے گئے ہیں۔کراچی کی روشنیاں بحال کردی گئی ہیں۔2018میں خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت بھی مسلم لیگ(ن) کی ہوگی۔چترال کے عوام مسلم لیگ(ن) کے خوشحالی کے ایجنڈے کو اچھی طرح سمجھ گئی ہیں۔چترالی عوام جوق درجوق مسلم لیگ (ن) میں شامل ہورہے ہیں۔جدید چترال نواز شریف کے سنگ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ آپڈیٹ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق