fbpx

چترال میں خوراک کی قلت کے خدشے کے پیش نظر لواری ٹنل کو ایمرجنسی بنیاد پر گندم کی چترال ترسیل کیلئے کھول دیا جائے۔چترال چمبر آف کامرس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس ) چترال چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی محمد خان ، سینئر نائب صدر سرتاج احمد خان ایگزیکٹیو ممبران محمد وزیر خان سابق ناظم امیراللہ اور معراج حسین لال نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور چیئر مین این ایچ اے سے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چترال میں خوراک کی قلت کے خدشے کے پیش نظر لواری ٹنل کو ایمرجنسی بنیاد پر گندم کی چترال ترسیل کیلئے کھول دیا جائے۔تاکہ گندم کے سو ٹرکوں پر مشتمل کھیپ کو چترال پہنچاکر غذائی قلت کو دور کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گندم کی ترسیل فوری طور پر نہ ہونے کی صورت میں بالائی چترال کے دور دراز علاقوں میں شدید قحط پڑنے کا خدشہ ہے ۔اس لئے وقت ضائع کئے بغیر گندم کا اسٹاک بالائی چترال پہنچانا انتہائی اہمیت کی حامل ہیں تاکہ انسانی جانیں بچائی جا سکیں ۔اُنہوں نے کہا کہ نومبر کے مہینے میں برفباری سے لواری ٹاپ روڈ کی بندش کی وجہ سے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ٹھیکہ دار مطلوبہ مقدار کو چترال نہ پہنچاسکا جبکہ ٹینڈر بھی مئی جون کی بجائے اکتوبر کے مہینے میں ہوئے تھے انہوں نے کہا۔ کہ لواری ٹنل کو ہفتے میں دو دن کھولنے کی بجائے روزانہ صبح اور شام کے وقت شفٹ کی تبدیلی کے موقع پر دو، دو گھنٹے آمدورفت کیلئے کھولا جائے ۔ تاکہ مسافروں ،ٹنل میں تعینات عملہ اور تعمیراتی کمپنی تینوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا ۔ چترال میں سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے انتہائی سخت حالات ہیں ۔ امسال گندم کی سپلائی کی ٹینڈر بروقت نہ ہونے کے سبب دس ہزار ٹن گندم تاحال چترال نہیں پہنچی ۔ اس لئے بالائی چترال کے علاقوں میں خوراک دستیاب نہ ہونے کے سبب قحط کا خطرہ ہے ۔ انہوں لواری کے چھوٹے ٹنل کو کھولنے کا مطالبہ کیا ۔ صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا ۔ کہ لواری ٹاپ پر سفر فوری طور پر بند کیا جائے ۔ کیونکہ اس وقت اس پر سے سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ اورخدا نخواستہ حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری این ایچ اے اور دیگر متعلقہ ادروں پر ہوگی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ لواری کا مسئلہ چترال کی لائف لائن سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس لئے شیڈول کے دن چترالی ضروریات کیلئے انتہائی ناکافی ہے ۔ اس لئے روزانہ صبح شام دو دو گھنٹے شفٹنگ کے ٹائم پر ٹنل کھولنے سے چترال کے لوگوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا ۔ اور متعلقہ تعمیراتی کمپنی کو بھی ہر وقت مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔اُنہوں نے کہاکہ چھوٹے ٹنل کو جلد از جلد سفر کے لئے کھولا جائے ،اپروچ روڈ اور پلوں پر کام کیا جائے چھوٹاٹنل نہ کھولنے کی صورت میں بھر پور احتجاج کیا جائیگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق