fbpx
تازہ ترین

تجار یونین کا شٹرڈان ہڑتال کا فیصلہ۔ا نتظامیہ اپنے فیصلے کوعملی جامہ پہنائیں ورنہ تجار یونین قانونی کاروائی کا حق رکھتی ہیں۔صدر تجار یونین حبیب حسین مغل

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)تجار یونین کے صدرحبیب حسین مغل نے اخباری بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ 26دسمبر2015کوڈی سی آفس چترال میں زیر صدارت ڈپٹی کمشنر چترال اور اجلاس میں موجودضلعی ناظم،تحصیل ناظم وانتظامیہ ومصالحتی کمیٹی وتجار یونین کے صدر وکابینہ کے ارکان کے ساتھ مشترکہ مٹینگ ہوئی جسمیں مصالحتی کمیٹی کے کوششوں کو سراہا گیاتھا اور متفقہ طورپرفیصلہ کیا گیا تھاکہ پی آئی آے چوک میں سرکار کے چند دوکانوں پر تجاوزات کو ختم کرکے باقی دوکانوں کو دوکانداروں کو اعتماد میں لینے کے بعد ان کا موقف سننے کے بعدجہاں کہیں بھی تجاوزات ثابت ہوئی تو دوکانداران خود ہٹائیں گے پر فیصلہ ہوگیا تھا۔لیکن انتظامیہ اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنائیں کی بجائے دکانداروں کوہراسان کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کے باوجود انتظامیہ ہمارے ساتھ تعاون کے بجائے تجار برادری کو ہراسان کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔جو کہ ہمیں منظور نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تجار یونین اپنے تجاربرادری کے خلاف ناانصافی اور ظلم ہونے نہیں دیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ پاکستان ہے یہاں قانون کے ادارے موجود ہیں کسی کے ساتھ ناانصافی کا تجار برادری بھرپور مذمت کریگی۔ڈپٹی کمشنر چترال تجار برادری کو اپنے اعتماد میں لیکر کاروائی کریں ورنہ اس کی مذمت کی جائیگی ۔حبیب حسین مغل نے کہا کہ کمیٹی کے ساتھ ڈی سی اور کمیٹی اراکین کے درمیان بات چیت ہونے کیباوجود کبھی اے سی ،کبھی تحصیلدار اور کبھی پٹواری بار بار بازار آکر ہمارے دکانداروں کو پریشان کرنے کی کوشش کررہی ہیں جو کہ قابل مذمت ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ اپنی بات پر قائم نہیں تو تجار یونین قانونی کاروائی کرنے کا حق رکھتی ہیں ،اُنہوں نے کہا کہ میٹنگ میں سہ رکنی کمیٹی کے فیصلہ پر دارآمد نہ ہونے کے بناء پر چترال بازار بشمول بائی پاس روڈ بازار وغیرہ تجار یونین نے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیاہے۔اُنہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ کے پاس بازار میں کوئی تجاوزات کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت ہو تو وہ پیش کرکے کاروائی کریں ورنہ کسی صورت میں تجار برادری کر ہراسان کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق