fbpx

چترال ڈسٹرکٹ انتظامیہ اورتجار یونین کے مابین باہمی رضامندی سے معاہد ہ ہوگیا۔تجار یونین نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال میں گذشتہ کہی دنوں سے ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور بازار یونین کے مابین چلنے والا تنازعہ کا حل ہو گیا۔ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے چند ہفتے پہلے شاہی بازار،نیو بازار اور کڑوپ رشت بازار میں سڑک کے دونوں کنارے سرکاری نالے سے دوکانوں کے اندار چار ،چار فٹ زمین تجاوزات کے طورپر سرخ مارک کی تھی۔جس پر بازار ہذا کے دکانداروں میں اشتعال پایا گیا ۔اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ناظم کی طرف سے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور تجار یونین کو آپس میں بیٹھانے میں کامیاب ہوئی اور دوبارہ تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی طرف سے اے سی عبدلاکرام،تجار یونین کے طرف سے صدر حبیب حسین مغل اور سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد اس کمیٹی میں شامل تھے ۔ میٹنگ میں دکانداروں سے باہمی گفت وشنید کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے اور انہیں مہلت دینے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن اس فیصلے کے بعدانتظامیہ کی طر ف سے بار بار بازار میں ایسکویٹر کے ذریعے دکانوں کو گرانے کے ارادے نے تجار یونین کوہڑتال کرنے پر مجبور کیا ۔جس کے بعد ایک مرتبہ سہ رکنی کمیٹی نے میٹنگ کرکے بازارکادوبارہ سروے کرکے گرین مارک کرکے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی اور تجار یونین نے ہڑتال ختم کرنے کا پروگرام بنایا۔مگر بعد میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر انتظامیہ نے گرین مارک کو ناقابل قبول مان کر دوبارہ سرخ لائن(چار فٹ) تک کو گرانے کا ارادہ ظاہر کیا تو تجار یونین نے ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور دھرنا بھی دیا۔بعد میں تجار یونین اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے مابین دوبارہ نشست ہوئی بازار کا تیسری بار سروے کرکے دکانداروں کو راضی کرکے دکانوں کے برامدے ہٹانے اور جوشٹرباہر لگے ہے اُن کو اندر لگانے پر راضی کیا  تجار یونین اور انتطامیہ کے درمیان تنازعے کے حل میں سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا جس پر تجار یونین اور عوام چترال کے کاوشوں کو سراہا۔ ڈی سی آفس  میں30دسمبر2015 کو دونوں فریقین نے باہمی رضامندی سے معاہد ہ نامہ پر دستخط کرکے تنازعہ کاحل نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔
معاہدے کے مطابق سرکار اور تجارکے جائیدادوں کے مابین سابقہ سرکاری نہر(نالہ)جو روڈ کے دونوں اطراف موجود ہے بطور حد بندی تسلیم کرلی گئی۔آئندہ کے لئے فریقین اس حدبندی کا احترام کرینگے۔تجار برادری اپنی اپنی دوکانات کے برآمدے عوام کے لئے بطور پیدل راہ چھوڑ دینگے تاہم مذکورہ راہ(زمین) پر فریق دوئم دکاندارکی ملکیت تسلیم کی گئی۔مستقبل میں حکومت کو بازار کی توسیع کے سلسلے میں اراضی ضرورت پڑنے کی صورت میں ہر دوکاندارمذکورہ برآمدے کاعواضانہ کا حقدار ہوگا۔
برآمدوں میں کچھ دکانات کے دروازے باہر لگے ہوئے ہیں اُنہیں دکاندار پیچھے نصب کرینگے۔
دوکاندران جتنی جلدی ہوسکے مذکورہ برآمدوں کو خالی کریں گے اور عوام کے کھولیں گے اس پر کام آج سے ہی شروع کرنے کے پابند ہونگے۔
مذکورہ برامدوں میں کچھ دوکانات کے فرسٹ فلورکے لئے سیڑھاں نصب ہیں مذکورہ سیڑیاں اپنی جگہوں پر ہی رہیں گے تاہم پیدل چلنے والوں کی سہولت کے لئے ڈائریکشن تبدیل کرنے کا دوکاندار پابند ہوگا۔نیز اگر ضرورت محسوس ہوئی توجگہ بھی تبدیل کرنے کا پابند ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق