Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

کھلاخط بنام عمران خان

……سرور کمال …..

پاکستان ویسے تو 14 اگست 1947کو ازاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ لیکن یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ لوگوں کے بنیادی حقوق یعنی پینے کا صاف پانی ، صحت کی سہولیات ، تعلیم ، لوگوں کے لئے باعزت روزگار اور سستا فوری انصاف کا نظام جو لوگوں کو انکی دہلیز پر ملے بحیثیت ریاست پاکستان آزادی سے لیکر اب تک مکمل طور پر نا کام ہو چکا ہے ۔ اس نظام اور صورتحال سے صرف چند ہزار لوگوں نے بیس کڑوڑ آبادی والے ملک کو یرغمال بنایا ہے ۔ ہم بار بار اسٹیٹسکو کا لفظ سنتے ہیں ، بنیادی طور پر یہ فرنچ زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کہ صورتحال کو جوں کا توں رہنے دیا جائے یعنی بہتری کی کوئی ایسی صوتحال پیدا نہ کی جائی جس سے پاکستان کے غریب لوگوں کا بھلا ہو اس اسٹیٹسکو والے نظام میں ہی ہمارے کرپٹ حکمرانوں اور ان لوگوں کی جو لوٹ کھوسوٹ کا بازار گرم کیا ہے انکی وارے نیارے ہوجاتے ہیں ۔وہ اپنے ساتھ پشتوں کے لئے دولت کے انبار جمع کرتے ہیں ۔ اسٹیٹسکو والے نظام کی حفاظت اور اببیاری کے لئے بڑے بڑے مختلف قسم کے ما فیا انتہائی مکاری اور پیشاوارنہ طریقے سے کام کرتے ہیں ۔ہم نے خان صاحب کو ٹی وی پر اکثر اسٹیٹسکو کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس نظام کو دوام بخشنے اور قائم کرنے میں جو سب سے بڑا مافیا اور عنصر ہے وہ ٹھیکہ داری کا نظام ہے اس ٹھیکہ داری کے نظام نے پورے سسٹم کو مفلوج کر رکھا ہے ۔ کارپوریٹ سیکٹر کے علاوہ یہ ہوہ ان دیکھی قوت ہے جو حکومتیں بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ بظاہر تو ابھی حال ہی میں کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات ایک جمہوری عمل یعنی ووٹنگ کے زریعے ہوا اور لوگوں نے اپنے اپنے نمایندے چنے لیکن تصویر کا دوسرا رخ نہایت خوفناک ہے ۔یہ کرپٹ ٹولہ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اندر گھسے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ الیکشن کمپین کے دوران اپنا دولت پانی کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔ انتخابی عمل جب بلکل سر پے آجاتا ہے تو یہ لوگ لوگوں کے ضمیر خریدنا شروع کردیتے ہیں ۔ انکے مطلب کے لوگ جب اقتدار کی کرسی پر براجماں ہوتے ہیں تو کئی گنا زیادہ مال بناتے ہیں جس کو انہوں نے الیکشن کمپین کے دوران خرچ کیا تھا ۔
عمران خان صاحب اگر واقع اس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو یہ اسٹیٹیسکو کے تابوت میں پہلا اور اخری کیل ثابت ہوگا۔اس ناچیز کے خیال میں ایک متبادل نظام کے تحت ہم عوامی منصوبوں کو بغیر رشوت ستانی ، غیر ضروری تاخیری حربوں اور کفایت شعاری کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچا سکتے ہیں ۔ اس نظام کے تحت عام لوگو ں کو ایک ایک پائی کا حساب معلوم ہوگا اور وہ عوامی فلاحی منصوبوں کو اپنے سامنے انتہائی صاف و شفاف طریقے سے مکمل ہوتے دیکھ سکیں گے ۔یہ منصوبے مروجہ انجینئرنگ کے اعلی معیار پر بھی پورا اترے گا اور ناقص یعنی غیر معیاری کا تصور ختم ہو جائے گا ۔جس متبادل نظام کا خاکہ میں نے اپنے زہن میں کھینچ رکھا ہے اس کے تحت ہم افرادی قوت کو ایک منظم طریقے سے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ان سے وہ کام کرا سکتے ہیں جس کے اثرات ہمارے ملک پر نہایت مثبت نقوش ثبت کرے گا ۔ الحمداللہ پاکستان افرادی قوت سے مالا مال ملک ہے ۔ترقی یافتہ ملکوں میں طالبعلوں کو سوشل ورک کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے ۔ جس کے زریعے نوجوان نسل میں احساس زمہ داری اور حب الوطنی کے جذبات پرواں چھڑتے ہیں ۔انہیں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے گر سکھائے جاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ کئی قیمتی جانیں بچاتے ہیں ۔ بد قسمتی سے ارض پاک میں اس قسم کے پروگراموں کا کوئی تصور نہیں میں نے بزات خود سی این ڈبلیو دفتر جاکر معلوم کیا کہ عبدالولی خان بائی پاس کے سلسلے میں متعلقہ ٹھیکہ دار کو صرف ترکول کی مد میں جولائی سے لیکر اب تک دس کڑوڑ روپے ادا کئے جا چکے ہیں ۔جبکہ روڈ کے اوپر ترکول بچانے کا کام باقی ہے اس سے اپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مزید کتنی خطیر رقم کی ضرورت ہوگی ۔چترال میں سیکڑوں پرائیوٹ اور سرکاری سکول و کالج ہزاروں طالبعلموں کو زیور تعلیم سے اراستہ کر رہے ہیں مستقبل میں عبد الولی خان بائی پاس جیسے منصوبوں کے لئے ہم سکولوں اور کالجوں کے نوجوانوں کو افرادی قوت کے طور پر استعمال کرکے ٹھیکہ داری کے لعنت سے چھٹکارا پا سکتے ہیں ۔اس مہم میں حصہ لینے والے پچوں کو تعریفی اسناد اور اضافی نمبروں سے نوازا جائے ۔اس سے یہ منصوبے انتہائی کفایت شعاری اور تیز رفتاری کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں ۔ہیوی مشینری اور انجینئرنگ کے ایکسپرٹیز فوج یا چترال سکاوٹس کے حوالے کئے جائیں انکے زیر نگرانی اس افرادی قوت کو منظم ریقے سے استعمال کیا جائے ۔ شاید میرے چند دوست احباب اعتراز کریں گے کہ ہم اپنے بچوں کو پڑھانے بجھتے ہیں انہیں مزدوری کے لئے نہیں جس سے انکی تعلیم کا ضیاء ہو انکے سامنے میں یہ دلیل رکھ سکتا ہوں کہ چترال میں سکولوں ا ور کالجوں میں پڑھنے والے نوجوانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔اگر منصوبہ بندی اور روٹیشنل پالیسی کے تحت انکو استعمال کیا جائے تو ان شااللہ انکے پڑھائی اور قیمتی وقت کا ہر گز ہرج نہ ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔