fbpx

صدابصحرا…..اسٹبلشمنٹ اور سِول سو سا ئیٹی

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …..

30سال پہلے امریکی ماہر سما جیات سمو ئیل ہنٹنگ ٹن کی کتاب ‘ تہذیبوں کا ٹکراؤ ‘ شا ئع ہو ا تو پا کستان میں انہیں اسلام دشمن کاطعنہ دیا گیا۔حالانکہ اس کا نظریہ غلط نہیں ہے اور یہ نظریہ 30 سالوں کے اندر ثابت ہو کر سا منے آگیا۔مغربی ممالک کی طرف سے دا عش کو ما لی ، فو جی ، فنی ، تکنیکی اور تر بیتی معاونت دیکر اسلامی ممالک کے اندر خانہ جنگی کر وانا تہذیبوں کے ٹکراؤ کا بہت بڑاثبوت ہے ۔پاکستان کے ممتاز مورخ اور ما ہر سما جیات ڈاکٹر مبارک علی نے اسٹبلشمنٹ اور سول سو سا ئیٹی کے ٹکراؤ کو پا کستا نی معا شرے کے مستقبل کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔قریب ہے کہ ہمارے بعض اکا برین ہا تھ د ھو کر ڈاکٹر مبارک علی کے پیچھے پڑ جا ئیں گے ۔ڈاکٹر مبارک علی کا نظریہ بہت وا ضح ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امویوں ، عبا سیوں ، تا تا ریوں ، سلاطین اور مغلوں کا دور اسٹبلیشمنٹ کا دور تھا۔ با دشاہ کی زبان سے نکلا ہوا لفظ قا نون کا درجہ رکھتا تھا۔ شیخ احمد سر ہندی جیسے لو گ سول سوسا ئیٹی کی آواز بن کر سامنے آتے تھے آج کل کا دور با دشا ہت اور اسٹبلشمٹ کا دور نہیں ہے ۔اٹھارویں صدی میں انقلاب فرانس، بیسویں صدی میں انقلاب روس ، انقلاب چین اور ایرانی انقلاب نے سول سو سا ئیٹی کے کردار کو با دشا ہت اور اسٹبلشمنٹ کے مقا بلے میں مضبو ط ، نمایاں اور طاقتور کر کے دکھا یا۔یہ الگ بات ہے کہ سٹالن کے دور میں سو سائیٹی دم تو ڑ گئی ۔گوربا چوف کے دور میں دو با رہ زندہ ہو گئی ۔فر انس ، چین اور ایران میں سول سو سا ئیٹی نئے مسائل سے دو چار ہے ۔پا کستان میں 1970ء کا عشرہ سول سو سا ئیٹی کے احیاء کا عشرہ تھا ۔اس کے بعد مشرف کے دور میں سول سو سا ئیٹی نے اپنے آپ کو کئی حوالوں سے منوالیا ۔اس کے بعد سول سو سائیٹی کی آواز دبا دی گئی۔ اب ایک ٹکراؤ کی صو رت حال ہے ۔اسٹبلشمنٹ پوری دنیا میں سرکا ری مشینری کو کہتے ہیں ۔بعض او قات اس کے لئے سول اینڈ ملٹری اسٹبلشمنٹ کا نام الگ الگ لیا جا تا ہے۔1978ء میں افغا نستان کے اندر امر یکی مدا خلت کے نتیجے میں سی آئی اے اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کا کردار اسٹبلشمنٹ پر غالب آگیا ۔اس کے لئے اخبا ری اصطلاح میں قومی سلا متی کی ایجنسیوں کے لئے بھی اسٹبلشمنٹ کا لفط استعمال ہو نے لگا۔ اس طرح سول سو سا ئٹی کی اصطلا ح بھی معنی اور مفہوم کے اعتبار سے خاص وسعت رکھتی ہے۔پہلے رضاکار تنظیموں کو سول سو سا ئیٹی کہا جا تا تھا ۔رفتہ رفتہ پیشہ ورگر وہوں کی تنظیموں کو بھی سول سو سا ئیٹی کا حصہ قرار دیا گیا۔مثلا بار ایسو سی ایشن، ٹریڈ یو نین اور پر یس کلب کی تنظیمیں بھی سول سوسا ئیٹی کہلانے لگیں ۔پھر اسمبلیوں کے اندر قا نون سا زی کے لئے لا بنگ میں ٹریڈ یو نین کے سا تھ سا تھ سیا سی جما عتوں سے بھی سول سو سا ےئٹی کا کام لیا گیا ۔اور یوں سیاسی جما عتیں بھی سول سو سائیٹی کا حصہ بن گئیں ۔سول سو سا ئیٹی کی جا مع تعریف یہ ہے۔کہ یہ عو امی حقوق کے لئے آواز اٹھاتی ہے۔اور اسٹبلشمنٹ سے عوا می حقوق کی جنگ لڑتی ہے۔یہ طویل جنگ ہے اورصبر آزما جنگ ہے۔امریکہ کے شہر سیٹل میں سول سو سا ئیٹی نے ورلڈ ٹریڈ آرگنا ئزیشن کے خلاف مظاہرہ کر کے اپنی طا قت کا لو ہا منوالیا ۔بھارت میں سول سو سا ئیٹی نے انٹی کر پشن بل کے حق میں مظاہرہ کرکے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر والی ۔پاکستان میں عدلیہ کی بحالی کے لئے سول سو سا ئیٹی نے یادگار اور کا میاب تحریک چلائی۔ اس تحریک کے بعد پا کستان کی اسٹبلشمنٹ نے سول سو سا ئیٹی کے خلاف با قاعدہ محاذ قا ئم کر لیا ۔اب اس محاذ پر سردجنگ کی صورت حال ہے۔پا کستان کی سول سو سا ئیٹی کو دو طرح کے مسا ئل کا سامنا ہے۔ایک مسئلہ یہ ہے۔کہ ہما رے معا شرے میں جا گیر داری نظام بہت مضبوط ہے۔چو ہدری، سردار ، وڈیرہ اور خان خوانین کے ساتھ علمائے کرام اور مشا ئخ عظام کا مضبوط اتحاد ہے۔اور یہ اتحاد سول سو سا ئیٹی کی راہ میں حا ئل ہے۔دوسرا بڑا مسئلہ سیا سی جما عتوں کا ہے۔ہما ری سیا سی جماعتیں جا گیر دارنہ سوچ کی عکاسی کر تی ہیں۔ اور عوم سے طا قت حا صل کرنے کی جگہ اسٹبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار حا صل کر نا چا ہتی ہیں ۔اس لئے نہ جا گیر داروں کو نا را ض کر سکتی ہیں۔نہ اسٹبلشمنٹ کے مقا بلے میں سول سو سا ئیٹی کی حمایت کر سکتی ہیں ۔ اس تکون میں سول سو سا ئیٹی اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہی ہے۔پریس کو چاروں طرف سے دبا یا جا رہا ہے ۔صحا فیوں پر حملوں میں کو ئی کمی نہیں آتی ۔انسا نی حقوق کی تنظیموں کو پا بندیوں کا سامنا ہے۔خیبر پختونخوا کی حکو مت نے سما جی بہبود کے لئے دیہات کی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کر یک ڈاون کاآغاز کیا ہے۔سیلاب اور زلزلہ کے بعد صرف ان تنظیموں کو کام کی اجا زت ملی۔ جو اسٹبلشمنٹ کی نظروں میں پسند یدہ شمار ہو تی ہیں۔ٹکراؤ کی یہ صورت حال پاکستانی معاشرے کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔اور با شعور طبقے کو اس کا بخوبی اندازہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق