fbpx

چترال ۔چترالی اور گل محل پشاور

……از محمد اقبال شاکر……

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت کر دہ حسن اور خوبصورتی کا تحفہ ہر انسان کو حاصل ہے جہاں تک کسی علاقے کی خوبصورتی کا تعلق ہے اس کا اندازہ اس علاقے کی قدرتی مناظر ، حسین طنز و مزاج اہل علاقے کی اقدار تہذیب وتمدن تعلیم وتربیت سے لگا یا جا تا ہے ۔حسن خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے ۔تحفہ لینے سے ہلے تحفہ عنایت کر نے والے کی بڑائی اگر دل میں ہوتو تحفے کی اہمیت کا پتہ چل جائے گا ۔ اس لئے لازم ہے کہ اس انمول تحفے کا شکر بجالائیں اس کی حفاظت اور قدر و منزلت کا بھی خیال رکھیں ۔
حسن کی یہ نعمت حضرت انسان کوہی نہیں بلکہ کا ئنات کے ہر حصے کو اس کی مناسبت سے عطا کی گئی ہے چترال حسین پر امن وادی اس کی ایک مثال ہے ۔یہاں کی باسیوں کی اخلاق و کردار ،مہمان نوازی ،صاف گوئی ،نیک چلنی ثقافت اور تہذیب ،یہاں ٹھنڈے اور گرم چشمے ۔آٹھکیاں مارتے ہوئے ندی نالے ،خوشگوار موسم ، پھلوں اور پھولوں سے لدے باغ و چمن ،ہوا میں شامل پھولوں کی خوشبو ،نایاب جنگلی حیات خا ص کرنایات چیتے کی پسندید ہ دھرتی ، ٹراؤٹ ،جیسے لذیز مچھلیاں چترالی پٹی مارخور کی سینگ سے بننے والی انگوٹیاں ،چوغے چترالی واسکٹ چترال ٹوپی سے کون واقف نہیں اور بادشاہوں کا کھیل پولو آج بھی چترال میں تحصیل سطح پر شوق سے کھیلا جاتاہے امن کی یہ خوبصورت وادی پشاور سے 378 کلو میٹر شمال مغرب کی طرف چار لاکھ آبادی پر مشتمل ہے اور یہ ضلع تاریخی اور جعرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا کا حامل ہے
وادی کلاش (بمبوریت ) ایک خوبصورت وادی ہے جو اپنی خوبصورتی اور مخصوص ثقافت کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکی ہے جس کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاح موسم گرم میں اس علاقے کارخ کرتے ہیں جو یہاں کی خوبصورت رسم ورواج ثقافت اور تہذیب و تمدن سے محظوظ ہوجاتے ہیں یہاں کی باسیوں کی اکثریت کلاش مہذب سے تعلق رکھتی ہے ان کی مذہب ،ثقافت اور طرز معاشرت اسلام کے دائر ے سے باہر ہیں اس وجہ سے اس علاقے کو کافرستان بھی کہتے ہیں ۔
حالیہ سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریاں چترال کی حسین وادی کو کافی حدتک متاثر کی ہیں پتہ نہیں کس کی نظر بدلگ گئی اچمن کو۔۔۔۔، تاہم میرے حسین چترال کی دھرتی مردم خیز اور بہت ذخیز ہے ۔میرے جوانوں کے عز م واثتعال اور ادارے بہت مضبوط ہیں ۔یہ اپنی راہ میں ہر رکاؤٹ کا بہادری سے مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں ۔میں اپنے جوانو ں کی عظمت کو سلام پیش کر تا ہو ں ۔چترال سے پشاور کا راستہ کا فی دشوار گذار اور پر پیج ہے لواری ٹینل کا کام تعمیر ہونے کو ہے ٹینل کی تکمیل کے بعد چترال پوری ایشیا ء کا Gate Way ہوگا جس بین الااقوامی تجارتی راستے کھلیں گے ۔
چترالی ملک کے دوسرے صوبوں یابیرون ممالک کو جاتے ہوئے پشاور میں چند روز قیام کر کے پشاوری لذیر کھانوں اور پشاوری قہوہ چائے سے لطف اٹھانے کے لئے پشاور کے مختلف ہوٹلوں میں ٹھہر تے ہیں ۔ان میں ایک نام گل محل ہوٹل کا ہے جس کا انتظام جناب عبدالمجید مجروح صاحب جو پشاور میں چترالی آداب کا روح رواں ادبی شوق و محبت نچھاور کرنے والا چترالی مہمان نوازی کا چلتا پھرتا نمونا ،مسکر انہ مگر سنجید ہ مزاج رکھنے والا بہت ہی ہر دل عزیز انسان ہے ہوٹل میں تما م راحت و آرام کی سہولتیں قابل تعریف ہیں چترال جانے کے لئے بھی بہترین فلائینگ کوچ سروس بھی دستیاب ہے ۔مجروح صاحب نے گل محل کو واقعی گل محل بنارکھا ہے ۔
گل محل کی خوشبوؤں سے لطف اندوز ہو نا ہوتو کبھی آؤ نا گل محل۔کیونکہ گل محل سے چترال اور چترالی مہمان نوازی اب عیاں ہے۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق